Monday, 06 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Attiya Zahra
  4. Siasi Gardab Mein Phansa Pakistan, Qayadat Ka Imtihan Ya Qaum Ka Muqadar?

Siasi Gardab Mein Phansa Pakistan, Qayadat Ka Imtihan Ya Qaum Ka Muqadar?

سیاسی گرداب میں پھنسا پاکستان، قیادت کا امتحان یا قوم کا مقدر؟

پاکستان کی سیاست اس وقت ایک ایسے گرداب میں پھنسی ہوئی دکھائی دیتی ہے جہاں سے نکلنے کا راستہ واضح تو ہے، مگر اس پر چلنے کا حوصلہ مفقود نظر آتا ہے۔ بظاہر سب کچھ معمول کے مطابق ہے، بیانات، جلسے، پریس کانفرنسز، مگر اس ظاہری سرگرمی کے پیچھے ایک گہری بے چینی چھپی ہوئی ہے جو ہر سطح پر محسوس کی جا سکتی ہے۔

یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ موجودہ سیاسی صورتحال محض اقتدار کی جنگ نہیں رہی، بلکہ یہ ایک ایسے بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے جس نے ریاست کے بنیادی ڈھانچے کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ جب سیاست ذاتی مفادات کے گرد گھومنے لگے اور قومی ترجیحات پسِ پشت چلی جائیں تو پھر مسائل جنم نہیں لیتے، بلکہ بڑھتے چلے جاتے ہیں۔

آج کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ سیاست میں برداشت کی گنجائش سکڑتی جا رہی ہے۔ اختلافِ رائے کو دشمنی سمجھ لیا گیا ہے اور مکالمے کی روایت کمزور پڑتی جا رہی ہے۔ حالانکہ جمہوریت کی اصل روح ہی اختلاف کو برداشت کرنے اور اسے مثبت انداز میں حل کرنے میں پوشیدہ ہے۔ جب سیاسی قوتیں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف رہیں تو قوم کا سر خود بخود جھکنے لگتا ہے۔

معاشی محاذ پر صورتحال اس سے بھی زیادہ تشویشناک ہے۔ مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی کو ایک مسلسل جدوجہد میں بدل دیا ہے۔ وہ شخص جو کبھی اپنے گھر کے اخراجات باعزت طریقے سے پورے کر لیتا تھا، آج بنیادی ضروریات کے لیے بھی پریشان دکھائی دیتا ہے۔ یوٹیلٹی بلز، اشیائے خوردونوش، ایندھن، ہر چیز ایک بوجھ بن چکی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ مہنگائی کیوں ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ اس کا بوجھ ہمیشہ عام آدمی ہی کیوں اٹھاتا ہے؟

سیاسی قیادت کے بیانات اور دعوے اپنی جگہ، مگر زمینی حقائق کچھ اور کہانی سناتے ہیں۔ عوام اب صرف وعدوں اور نعروں سے مطمئن ہونے والی نہیں رہی۔ وہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ ان کے مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں یا نہیں۔ یہی وہ تبدیلی ہے جو اس معاشرے میں خاموشی سے جنم لے رہی ہے، شعور کی تبدیلی۔

سوشل میڈیا نے اس شعور کو ایک نئی جہت دی ہے۔ اب معلومات تک رسائی آسان ہو چکی ہے اور ہر فرد اپنی رائے کا اظہار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ ایک مثبت پیش رفت ہے، مگر اس کے ساتھ ذمہ داری بھی جڑی ہوئی ہے۔ اگر اس پلیٹ فارم کو تعمیری انداز میں استعمال کیا جائے تو یہ معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکتا ہے، بصورت دیگر یہ انتشار کو بھی بڑھا سکتا ہے۔

میڈیا، جو ریاست کا چوتھا ستون کہلاتا ہے، اس کی ذمہ داری اس وقت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ اسے چاہیے کہ وہ محض ریٹنگ کی دوڑ میں شامل ہونے کے بجائے سچائی کو ترجیح دے۔ ایک ذمہ دار میڈیا نہ صرف عوام کی رہنمائی کرتا ہے بلکہ ریاستی استحکام میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ اس تمام تر صورتحال کا حل کیا ہے؟ کیا ہم اسی طرح ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتے رہیں گے، یا پھر کوئی سنجیدہ قدم بھی اٹھایا جائے گا؟ حقیقت یہ ہے کہ مسائل کا حل صرف اور صرف مکالمے، برداشت اور سنجیدگی میں پوشیدہ ہے۔ جب تک سیاسی قوتیں ذاتی انا سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو ترجیح نہیں دیں گی، تب تک بہتری کی امید محض ایک خواب ہی رہے گی۔

پاکستان کی تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ہم نے مشکل ترین حالات میں بھی راستہ نکالا ہے۔ مگر اس کے لیے اتحاد، بصیرت اور قربانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ آج بھی یہی تقاضا ہے کہ ہم بطور قوم اپنے رویوں کا جائزہ لیں اور یہ طے کریں کہ ہم نے آگے کس سمت جانا ہے۔

یہ وقت محض سیاسی قیادت کا امتحان نہیں، بلکہ پوری قوم کے شعور کا امتحان بھی ہے۔ اگر ہم نے اب بھی حالات کی سنگینی کو نہ سمجھا تو آنے والا وقت مزید کٹھن ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر ہم نے سنجیدگی، اتحاد اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا تو یہی بحران ایک نئے آغاز کی بنیاد بن سکتا ہے۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان اس وقت تاریخ کے ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ یہ لمحہ فیصلہ کن ہے، یا تو ہم بکھراؤ کا راستہ اختیار کریں گے، یا پھر استحکام کی جانب قدم بڑھائیں گے۔ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے اور وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔

Check Also

Pehchan e Jad e Jehad

By Asif Masood