Ramzan Aur Ammi Ji Ki Yaadein
رمضان اور امیّ جی کی یادیں
رمضان المبارک کا مہینہ شروع ہوتے ہی دل میں ایک عجیب سی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ گھروں میں رونق بڑھ جاتی ہے، مساجد آباد ہو جاتی ہیں اور ہر طرف عبادت و محبت کی خوشبو پھیل جاتی ہے۔ مگر اس مہینے کی آمد کے ساتھ کچھ یادیں بھی دل کے دروازے پر دستک دیتی ہیں۔ ایسی یادیں جو انسان کے ہونٹوں کو تبسم بھی دیتی ہیں اور آنکھیں بھی نم کر دیتی ہیں۔ میرے لیے رمضان کی سب سے قیمتی یادیں میری امیّ جی سے وابستہ ہیں۔
بچپن میں جب رمضان آتا تو گھر کا ماحول ہی بدل جاتا تھا۔ امیّ جی چند دن پہلے ہی تیاری شروع کر دیتی تھیں۔ باورچی خانے میں مصروفیت بڑھ جاتی، دالیں صاف کی جاتیں، بیسن چھانا جاتا اور کھجوریں احتیاط سے سنبھال کر رکھی جاتیں۔ ہمیں تب سمجھ نہیں آتی تھی کہ یہ سب محنت کیوں کی جا رہی ہے، مگر آج احساس ہوتا ہے کہ وہ صرف کھانے کی تیاری نہیں ہوتی تھی بلکہ رمضان کی برکتوں کے استقبال کا ایک انداز ہوتا تھا۔
سحری کے وقت امیّ جی کی آواز آج بھی کانوں میں گونجتی ہے۔ وہ آہستہ آہستہ ہمیں جگاتیں اور کہتیں۔
"بیٹا اٹھ جاؤ، سحری کا وقت جا رہا ہے، روزہ رکھنا بڑی برکت کی بات ہے"۔
کبھی کبھی نیند کے غلبے میں ہم منہ بناتے، مگر امیّ جی کی شفقت بھری آواز اور پیار بھرے انداز سے اٹھ ہی جاتے۔ وہ جلدی جلدی ہمارے لیے پراٹھا یا انڈا بنا دیتیں اور ساتھ ہی تاکید کرتیں کہ پانی ضرور پی لو۔ اس وقت شاید ہمیں ان باتوں کی اہمیت محسوس نہیں ہوتی تھی، مگر آج وہی لمحے سب سے قیمتی لگتے ہیں۔
افطار کا وقت تو گویا گھر کی سب سے بڑی خوشی ہوتا تھا۔ امیّ جی دسترخوان بڑی محبت سے سجایا کرتیں۔ کھجوریں، فروٹ چاٹ، پکوڑے اور شربت سب کچھ ترتیب سے رکھا ہوتا۔ مگر ان سب چیزوں سے بڑھ کر جو چیز اہم ہوتی تھی وہ امیّ جی کی مسکراہٹ تھی۔ اذان ہوتے ہی وہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتیں اور ہمیں بھی دعا کرنے کی تلقین کرتیں۔
امیّ جی اکثر کہا کرتی تھیں کہ رمضان صرف بھوکا پیاسا رہنے کا نام نہیں بلکہ صبر، شکر اور دوسروں کا خیال رکھنے کا مہینہ ہے۔ وہ ہمیں بتاتیں کہ اس مہینے میں اگر کسی کے دل کو خوش کیا جائے تو اللہ تعالیٰ اسے بہت پسند فرماتا ہے۔ اسی لیے وہ اکثر افطار کے وقت پڑوسیوں کے گھروں میں بھی کچھ نہ کچھ بھجوا دیتی تھیں۔
رمضان کے آخری عشرے میں تو گھر کا ماحول اور بھی روحانی ہو جاتا تھا۔ امیّ جی زیادہ وقت عبادت میں گزارتی تھیں۔ قرآن پاک کی تلاوت، ذکر اور دعاؤں میں ان کا دل لگا رہتا۔ وہ ہمیں بھی بتاتیں کہ یہ دن بہت قیمتی ہیں کیونکہ انہی دنوں میں لیلۃ القدر جیسی بابرکت رات آتی ہے۔
وقت گزرتا گیا، ہم بڑے ہوتے گئے اور زندگی کی مصروفیات میں الجھتے چلے گئے۔ مگر رمضان آتے ہی امیّ جی کی یادیں پھر سے تازہ ہو جاتی ہیں۔ سحری کے وقت وہ آواز، افطار کے وقت وہ دسترخوان اور دعا کے وقت ان کا پرخلوص انداز سب کچھ یاد آ جاتا ہے۔
آج جب ہم خود گھر کی ذمہ داریاں سنبھالتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ امیّ جی کتنی خاموشی سے سب کچھ سنبھال لیتی تھیں۔ ان کی محبت، ان کی محنت اور ان کی دعائیں ہی تو تھیں جنہوں نے ہمارے گھروں کو خوشیوں سے بھر رکھا تھا۔
رمضان کا مہینہ ہمیں صرف عبادت ہی نہیں سکھاتا بلکہ ہمیں اپنے بزرگوں کی قدر کرنا بھی یاد دلاتا ہے۔ کیونکہ جب وہ ہمارے درمیان ہوتے ہیں تو ہم ان کی موجودگی کی اہمیت شاید پوری طرح محسوس نہیں کر پاتے، مگر جب وہ یادوں میں رہ جاتے ہیں تو ان کی ہر بات، ہر نصیحت اور ہر مسکراہٹ دل میں نقش ہو جاتی ہے۔
آج بھی جب افطار کا وقت ہوتا ہے اور دسترخوان سجا ہوتا ہے تو دل بے اختیار دعا کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری امیّ جی کو اپنی رحمتوں کے سائے میں جگہ دے اور ہمیں ان کی سکھائی ہوئی محبت، صبر اور شکر کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
رمضان ہر سال آتا ہے، مگر امیّ جی کی یادیں اس مہینے کو میرے لیے ہمیشہ خاص بنا دیتی ہیں۔

