Mobile Mein Gum Hoti Rishton Ki Garmi
موبائل میں گم ہوتی رشتوں کی گرمی
آج کا انسان بظاہر جتنا جڑا ہوا نظر آتا ہے، حقیقت میں اتنا ہی تنہا ہو چکا ہے۔ ہاتھ میں پکڑا ہوا چھوٹا سا موبائل فون ہماری زندگی کا سب سے بڑا ساتھی بن گیا ہے، مگر افسوس کہ اسی نے ہمیں اپنے پیاروں سے دور بھی کر دیا ہے۔ ہم ہر لمحہ کسی نہ کسی سے رابطے میں ہوتے ہیں، مگر دلوں کے درمیان فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔
کبھی وہ وقت تھا جب گھر کے صحن میں بیٹھ کر سب ایک دوسرے سے دن بھر کے قصے سنتے تھے۔ ہنسی مذاق، ناراضگی اور محبت سب کچھ چہروں پر عیاں ہوتا تھا۔ بزرگ اپنی کہانیاں سناتے، بچے قہقہے لگاتے اور گھر ایک زندہ محفل کا منظر پیش کرتا تھا۔ مگر اب وہی صحن خاموش ہے اور ہر فرد اپنی الگ دنیا میں مگن ہے۔ کوئی سوشل میڈیا پر مصروف ہے، تو کوئی گیمز میں کھویا ہوا ہے اور کوئی ویڈیوز کی نہ ختم ہونے والی دنیا میں گم ہے۔
سب سے زیادہ تکلیف دہ منظر وہ ہوتا ہے جب ایک ہی کمرے میں بیٹھے لوگ ایک دوسرے سے بات کرنے کی بجائے موبائل اسکرینوں میں گم ہوتے ہیں۔ ماں کچھ کہنا چاہتی ہے، مگر بچے مصروف ہیں۔ باپ تھکن کے بعد گھر آتا ہے، مگر کسی کے پاس اس کے لیے وقت نہیں ہوتا۔ بہن بھائی ایک دوسرے کے قریب ہو کر بھی اجنبی محسوس ہوتے ہیں۔ رشتوں کی وہ گرمجوشی جو کبھی ہماری پہچان تھی، اب آہستہ آہستہ سرد پڑتی جا رہی ہے۔
ہم نے سہولت کو ترجیح دیتے دیتے احساس کھو دیا ہے۔ ایک پیغام بھیج دینا ہمیں کافی لگتا ہے، مگر وہ آنکھوں کی چمک، وہ آواز کی مٹھاس، وہ لمس کی گرمی کہاں گئی جو آمنے سامنے بات کرنے میں ہوتی تھی؟ اب جذبات ایموجیز میں قید ہو گئے ہیں اور تعلقات نوٹیفیکیشنز کے محتاج بن گئے ہیں۔
یہ ٹیکنالوجی بُری نہیں، بلکہ یہ تو انسان کی ایک بڑی کامیابی ہے۔ اس نے فاصلے کم کیے، علم کو عام کیا اور دنیا کو ایک گاؤں بنا دیا۔ مگر ہر اچھی چیز کا غلط استعمال نقصان دہ ہو جاتا ہے۔ جب موبائل ہماری ضرورت کی بجائے ہماری عادت بن جائے اور عادت سے بڑھ کر ہماری مجبوری بن جائے، تو یہ خطرے کی گھنٹی ہے۔
آج بچے کھیل کے میدانوں سے زیادہ سکرینوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان کی ہنسی مصنوعی ہوگئی ہے، ان کی خوشی وقتی ہوگئی ہے اور ان کا بچپن کہیں ڈیجیٹل دنیا میں کھو گیا ہے۔ وہ جو مٹی میں کھیلنے، دوستوں کے ساتھ بھاگنے اور چھوٹے چھوٹے لمحوں میں خوشی تلاش کرنے کا زمانہ تھا، اب صرف یادوں میں رہ گیا ہے۔
بڑے بھی اس دوڑ میں پیچھے نہیں۔ وہ سوشل میڈیا پر دوسروں کی زندگیوں کو دیکھ کر اپنی خوشیوں کو کم سمجھنے لگے ہیں۔ موازنہ، حسد اور بے چینی نے ان کے سکون کو چھین لیا ہے۔ وہ اپنے آس پاس موجود نعمتوں کو نظر انداز کرکے ایک فرضی دنیا کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔
ہمیں خود سے سوال کرنا ہوگا کہ کیا ہم واقعی جڑ رہے ہیں یا صرف دکھاوا کر رہے ہیں؟ کیا ہماری مسکراہٹیں سچی ہیں یا صرف تصاویر کے لیے ہیں؟ کیا ہم اپنے پیاروں کے ساتھ وقت گزار رہے ہیں یا صرف ان کے ساتھ موجود ہونے کا دکھاوا کر رہے ہیں؟
آئیے، آج ایک چھوٹا سا مگر اہم فیصلہ کریں۔ کچھ وقت اپنے موبائل سے دور رہ کر اپنے پیاروں کے ساتھ گزاریں۔ ان کی باتیں سنیں، ان کے ساتھ مسکرائیں، ان کے دکھ درد کو سمجھیں۔ اپنے بچوں کے ساتھ کھیلیں، اپنے والدین کے پاس بیٹھیں اور اپنے دوستوں سے دل کی بات کریں۔
کیونکہ سچ تو یہ ہے کہ زندگی کی اصل خوبصورتی سکرین میں نہیں، بلکہ رشتوں کی سچائی میں چھپی ہوتی ہے۔ اگر ہم نے اب بھی نہ سمجھا، تو کہیں ایسا نہ ہو کہ کل ہمارے پاس جدید موبائل تو ہوں، مگر بانٹنے کے لیے کوئی اپنا نہ ہو اور اس وقت پچھتاوے کے سوا ہمارے پاس کچھ نہ بچے۔

