Thursday, 02 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Attiya Zahra
  4. Badalti Dunya, Ulajhta Insan

Badalti Dunya, Ulajhta Insan

بدلتی دنیا، الجھتا انسان

موجودہ دور کو اگر تضادات کا دور کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ ایک طرف انسانی ترقی کی رفتار تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت اور عالمی رابطے نے دنیا کو ایک گلوبل گاؤں میں بدل دیا ہے۔ مگر دوسری طرف انسان پہلے سے زیادہ بے چین، غیر مطمئن اور ذہنی طور پر منتشر دکھائی دیتا ہے۔ یہ وہ سوال ہے جو ہر حساس ذہن کو جھنجھوڑتا ہے کہ آخر اتنی ترقی کے باوجود انسان سکون سے کیوں محروم ہے؟

اگر ہم معاشرتی سطح پر نظر ڈالیں تو خاندانی نظام، جو ہماری مشرقی تہذیب کا بنیادی ستون تھا، بتدریج کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ مشترکہ خاندانی نظام کی جگہ انفرادی طرزِ زندگی نے لے لی ہے۔ اس تبدیلی نے جہاں آزادی کا احساس دیا، وہیں تنہائی، عدم تحفظ اور جذباتی خلا کو بھی جنم دیا۔ بزرگ افراد خود کو غیر ضروری محسوس کرتے ہیں جبکہ نوجوان نسل رہنمائی کے فقدان کا شکار ہے۔

تعلیمی میدان میں بھی صورتحال تشویشناک ہے۔ تعلیم کا مقصد جہاں کردار سازی اور شعور کی بیداری ہونا چاہیے تھا، وہ اب محض ڈگری حاصل کرنے تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ طلبہ میں تخلیقی صلاحیتوں کے بجائے رٹا سسٹم کو فروغ دیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں ایک ایسی نسل پروان چڑھ رہی ہے جو معلومات تو رکھتی ہے مگر فہم و ادراک سے محروم ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اساتذہ پر بڑھتا ہوا دباؤ اور وسائل کی کمی بھی اس نظام کی کمزوریوں کو مزید واضح کرتی ہے۔

معاشی حالات پر اگر بات کی جائے تو مہنگائی کا طوفان ہر طبقے کو متاثر کر رہا ہے۔ متوسط اور نچلا طبقہ سب سے زیادہ دباؤ میں ہے۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اور آمدنی میں جمود نے زندگی کو ایک مسلسل جدوجہد بنا دیا ہے۔ بیروزگاری میں اضافہ نوجوانوں میں مایوسی اور بے یقینی کو بڑھا رہا ہے، جس کا اثر سماجی رویوں پر بھی پڑ رہا ہے۔ چوری، بدعنوانی اور دیگر جرائم میں اضافہ اسی معاشی دباؤ کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔

سیاسی منظرنامہ بھی غیر یقینی کا شکار ہے۔ عوام اور حکمرانوں کے درمیان اعتماد کا فقدان بڑھتا جا رہا ہے۔ وعدے اور دعوے تو بہت کیے جاتے ہیں، مگر عملی اقدامات اکثر عوام کی توقعات پر پورا نہیں اترتے۔ اس صورتحال نے عوام میں بددلی اور بے بسی کا احساس پیدا کیا ہے۔ جمہوریت کی اصل روح، یعنی عوامی شرکت اور احتساب، کہیں نہ کہیں کمزور پڑتی نظر آتی ہے۔

سوشل میڈیا نے ایک نئی دنیا کو جنم دیا ہے۔ یہ پلیٹ فارم جہاں اظہارِ رائے کی آزادی فراہم کرتا ہے، وہیں یہ غلط معلومات، افواہوں اور منفی رویوں کے پھیلاؤ کا ذریعہ بھی بن چکا ہے۔ لوگ بغیر تحقیق کے ہر خبر پر یقین کر لیتے ہیں اور اسے آگے بڑھا دیتے ہیں۔ اس سے نہ صرف معاشرتی انتشار بڑھتا ہے بلکہ افراد کے درمیان بداعتمادی بھی جنم لیتی ہے۔ مکالمے کی جگہ تلخ جملوں اور الزامات نے لے لی ہے۔

نفسیاتی اور ذہنی صحت کا مسئلہ بھی موجودہ دور کا ایک اہم پہلو ہے۔ بڑھتا ہوا دباؤ، مقابلے کی فضا اور غیر یقینی حالات نے لوگوں کو ذہنی بیماریوں کی طرف دھکیل دیا ہے۔ افسردگی، بے چینی اور تناؤ عام ہو چکے ہیں، مگر بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ابھی تک ان مسائل کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ لوگ علاج کے بجائے ان مسائل کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں، جو مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔

تاہم، اس تمام تر صورتحال میں امید کا پہلو بھی موجود ہے۔ نوجوان نسل میں شعور بیدار ہو رہا ہے۔ لوگ اپنے حقوق کے بارے میں آگاہ ہو رہے ہیں اور تبدیلی کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔ تعلیمی اور سماجی میدان میں بھی مثبت اقدامات دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ مختلف افراد اور تنظیمیں بہتری کے لیے کام کر رہی ہیں، جو ایک روشن مستقبل کی نوید ہے۔

بحیثیت فرد ہماری ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ہمیں صرف تنقید کرنے کے بجائے خود کو بھی بدلنا ہوگا۔ دیانت داری، برداشت، صبر اور دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرنا، یہ وہ اقدار ہیں جو معاشرے کو بہتر بنا سکتی ہیں۔ ہمیں اپنی نئی نسل کو صرف کامیاب نہیں بلکہ اچھا انسان بننے کی تعلیم دینی ہوگی۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ صورتحال جتنی بھی پیچیدہ کیوں نہ ہو، یہ مستقل نہیں ہے۔ حالات بدلتے رہتے ہیں اور ہر اندھیرے کے بعد روشنی ضرور آتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم مایوسی کی بجائے امید کو اپنا شعار بنائیں اور بہتری کے سفر میں اپنا کردار ادا کریں۔

Check Also

Aalmi Aman Ka Naya Mehwar

By Atiq Chaudhary