Tuesday, 31 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Atiq Chaudhary
  4. Sulagti Maeeshat, Pista Aam Aadmi

Sulagti Maeeshat, Pista Aam Aadmi

سلگتی معیشت، پِستا عام آدمی

پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں عالمی جغرافیائی سیاست کے تلاطم اور داخلی معاشی عدم استحکام نے مل کر ایک ایسی سنگین صورتحال پیدا کر دی ہے جس کا براہِ راست شکار عام آدمی ہو رہا ہے۔ ایک طرف مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے پھیلتے سائے عالمی منڈیوں کو لرزا کر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ کر رہے ہیں تو دوسری طرف اسلام آباد کی راہداریوں میں آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے مذاکرات ملکی معیشت کی اس سمت کا تعین کر رہے ہیں جو براہِ راست عام شہری کی قوتِ خرید اور گھریلو بجٹ پر اثر انداز ہوتی ہے۔

ان حالات میں محض وقتی پیوند کاری سے کام نہیں چلے گا، بلکہ اب یہ وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے کہ ریاست کے تمام ستون مل کر ایک ایسی پائیدار اور طویل مدتی منصوبہ بندی کریں جو عام پاکستانی کو عالمی معاشی جھٹکوں سے تحفظ فراہم کر سکے اور اسے مہنگائی کی اس مسلسل چکی سے نجات دلا کر معاشی استحکام کی بنیاد فراہم کرے۔

حالیہ دنوں میں ایوانِ صدر میں ہونے والا سول و عسکری قیادت کا مشترکہ اجلاس اس بات کا اعتراف ہے کہ اب معیشت محض ایک اعداد و شمار کا کھیل نہیں، بلکہ قومی سلامتی کا مسئلہ بن چکی ہے۔ ریاست کے تمام ستونوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ موجودہ حالات میں مربوط اور جامع قومی حکمت عملی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ کشیدگی نے خلیجِ فارس میں جو ارتعاش پیدا کیا ہے اس کے اثرات براہِ راست پاکستان کی دہلیز پر دستک دے رہے ہیں۔

حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، عالمی مارکیٹ میں برنٹ کروڈ کی قیمت 4.7 فیصد اضافے کے ساتھ 107 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہے۔ یہ اضافہ پاکستان جیسے ملک کے لیے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں جو اپنی توانائی کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ درآمدی تیل پر منحصر رکھتا ہے۔ صرف چار ہفتوں میں تیل کی قیمتوں میں 50 فیصد اضافہ ہونا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ پاکستان کا امپورٹ بل آنے والے مہینوں میں اربوں روپے کے اضافی بوجھ تلے دب جائے گا۔ جب تیل مہنگا ہوتا ہے تو اس کا اثر صرف پیٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ سپلائی چین، زراعت اور صنعت کے پہیے کو بھی متاثر کرتا ہے، جس سے براہِ راست معاشی ترقی کی شرح نموسست روی کا شکار ہو رہی ہے۔

اس عالمی بحران کے بیچ، پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ایکسٹنڈڈ فنڈ فسیلٹی کے تحت 1.2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کے لیے مذاکرات کا مکمل ہونا ایک وقتی ریلیف تو ہو سکتا ہے لیکن یہ مستقل حل نہیں۔ وزارتِ خزانہ کے مطابق، آئی ایم ایف مشن نے "میمورنڈم آف اکنامک فنانشل پالیسیز" کا مسودہ شیئر کر دیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کو مزید سخت فیصلے کرنے ہوں گے۔

حکومت نے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے وفاقی ترقیاتی بجٹ میں 100 ارب روپے کی بڑی کٹوتی کی ہے، جس کے بعد بجٹ کا حجم 900 ارب روپے رہ گیا ہے۔ یہ کٹوتی اس بات کی علامت ہے کہ ریاست اب طویل مدتی ترقیاتی منصوبوں پر سمجھوتہ کرکے قلیل مدتی مالیاتی استحکام اور پیٹرولیم سبسڈی جیسی ضرورتوں کو پورا کرنے پر مجبور ہے۔ رواں مالی سال 26-2025 کے پہلے آٹھ ماہ (جولائی تا فروری) کے اعداد و شمار انتہائی ہوش ربا ہیں۔

پاکستان کے بیرونی قرضوں میں 18 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور ہم نے یومیہ بنیاد پر 7.86 ارب روپے کا نیا قرض حاصل کیا ہے، جس کی مجموعی مالیت 1904 ارب روپے بنتی ہے۔ اگرچہ دوست ممالک جیسے سعودی عرب اور چین نے قرضوں کو رول اوور کرکے سہارا دیا ہے، لیکن عالمی بینک اور اے ڈی بی سے لیے گئے یہ قرضے ہماری معیشت کو صرف عارضی سانسیں فراہم کر رہے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان ایک شاک آبزرور کے طور پر اپنی معیشت کو ڈھالے تاکہ بیرونی جھٹکوں کو برداشت کرنے کی سکت پیدا ہو سکے۔ اس وقت ایک اہم نکتہ قومی ہم آہنگی اور قومی مفاد پہلی ترجیح ہے جس پر سب کو یکجا ہونا ہوگا۔ پاکستان کے آئینی ڈھانچے میں صوبوں کو وسیع اختیارات حاصل ہیں، لیکن معاشی بحران کے وقت وفاق اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان نظر آتا ہے۔

توانائی کے شعبے میں وفاق کا یہ مطالبہ حقیقت پسندانہ ہے کہ صوبے بھی بجلی اور گیس کی سبسڈی کے بوجھ میں اپنا حصہ ڈالیں۔ مارکیٹیں جلد بند کرنے، بجلی کے ضیاع کو روکنے اور پبلک ٹرانسپورٹ کو فروغ دینے جیسے اقدامات اب محض تجاویز نہیں بلکہ ناگزیر ضرورت بن چکے ہیں۔ جب تک تمام اکائیاں ایک سمت میں کام نہیں کریں گی، توانائی کی بچت ہو یا مہنگائی کا مقابلہ، مثبت نتائج حاصل نہیں ہوں گے۔ مستقبل کی حکمت عملی کے حوالے سے ہمیں اب چند کڑوے گھونٹ بھرنا ہوں گے۔ درآمدی تیل پر انحصار کم کرنے کے لیے شمسی، ہوائی اور کوئلے (تھر کول) سے بجلی بنانے کے منصوبوں کو جنگی بنیادوں پر مکمل کرنا ہوگا۔

اسی طرح محض موجودہ ٹیکس دہندگان پر بوجھ ڈالنے کے بجائے ریٹیل، ریئل اسٹیٹ اور زراعت جیسے بڑے شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہوگا تاکہ قرضوں کی ضرورت کم ہو۔ مشرقِ وسطیٰ کے بحران ہوں یا آئی ایم ایف کی کڑی شرائط، ان کا سب سے زیادہ بوجھ عام آدمی ہی اٹھا رہا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکمران طبقہ بھی اس قربانی میں برابر کا شریک ہو، وفاقی و صوبائی حکومتیں کفایت شعاری کے دعوے تو کررہی ہیں مگر عملی اقدامات اس طرح نظر نہیں آرہے اگر ہو بھی رہے ہیں تو وہ بہت کم ہیں۔

پنجاب اسمبلی میں اراکین کی تنخواہوں اور مراعات میں کٹوتی جیسے اقدامات خوش آئند ہیں، لیکن یہ محض شروعات ہونی چاہیے۔ ہم 24 مرتبہ عالمی مالیاتی ادارے کے پاس جا چکے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم نے ماضی کے قرضوں کو درست سمت میں استعمال نہیں کیا۔ اگر ہمیں واقعی معاشی خود مختاری حاصل کرنی ہے، تو وفاق، مقننہ، عدلیہ اور تمام صوبائی اکائیوں کو مستقل قومی ضرورت کے تحت کفایت شعاری کو اپنا شعار بنانا ہوگا۔

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں ہمارے بس میں نہیں، لیکن ٹیکس وصولی، توانائی کی بچت اور قرض لو اور گزارا کرو کی پالیسی کو خیرباد کہنا ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے۔ جس دن حکمرانوں کی سوچ ملکی خزانے کے بارے میں تبدیل ہوگئی اور پالیسیوں کے نفاذ میں سنجیدگی آئی، اسی روز پاکستان صحیح معنوں میں معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو جائے گا، ورنہ ترقیاتی بجٹ میں کٹوتیاں محض عام پاکستانی کی زندگی کو مزید دشوار بنانے کا سبب بنتی رہیں گی۔

Check Also

Trump Ka Lehja, Muslim Ittehad Aur Qurani Haqaiq

By Peer Intizar Hussain Musawir