Tuesday, 31 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Atiq Chaudhary
  4. Pakistan: Smog Ka Qaidi

Pakistan: Smog Ka Qaidi

پاکستان: اسموگ کا قیدی

سال 2025ء پاکستان کے لیے ایک سنگین ماحولیاتی وارننگ ثابت ہوا ہے۔ عالمی فضائی معیار کی نگرانی کرنے والے معتبر ادارے آئی کیو ایئرکی تازہ ترین رپورٹ نے نہ صرف حکومتِ پاکستان بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی خطرے کی وہ گھنٹی بجا دی ہے جسے اب نظر انداز کرنا ناممکن ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق پاکستان کو باضابطہ طور پر دنیا کا سب سے زیادہ اسموگ سے متاثرہ ملک قرار دے دیا گیا ہے۔ یہ محض ایک عددی درجہ بندی نہیں بلکہ ایک جیتا جاگتا انسانی المیہ ہے، جو ملک کے کروڑوں شہریوں کی زندگیوں، صحت اور مستقبل کو براہِ راست نگل رہا ہے۔ فضائی آلودگی کا یہ عفریت اب ہمارے صحنوں تک پہنچ چکا ہے اور اس پر قابو پانے کے لیے روایتی بیانات سے آگے بڑھ کر ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔ رپورٹ کے اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو صورتحال انتہائی ہولناک دکھائی دیتی ہے۔

پاکستان میں پی ایم 2.5 جیسے انتہائی خطرناک اور خوردبینی ذرات کی مقدار ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی تجویز کردہ محفوظ سطح سے 13 گنا زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ پی ایم 2.5 وہ باریک ذرات ہیں جن کا قطر انسانی بال سے بھی کئی گنا کم ہوتا ہے، جو سانس کے ذریعے پھیپھڑوں اور پھر خون میں شامل ہو کر فالج، امراضِ قلب اور کینسر جیسی مہلک بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق ہوا میں ان ذرات کی اوسط سطح 5 مائیکرو گرام ہونی چاہیے، لیکن افسوس کہ پاکستان میں یہ حد مدت ہوئی پیچھے چھوٹ چکی ہے، جس کا مطلب ہے کہ ہم اپنے بچوں کو آکسیجن نہیں بلکہ زہر بانٹ رہے ہیں۔ عالمی تناظر میں دیکھا جائے تو 143 ممالک میں سے صرف 13 ممالک ایسے نکلے جو عالمی معیار پر پورا اتر سکے، جبکہ 130 ممالک اپنی عوام کو صاف ہوا فراہم کرنے میں ناکام رہے۔ اس فہرست میں پاکستان کے بعد بنگلہ دیش اور تاجکستان کا نمبر آتا ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ افریقی ملک چاڈ، جو گزشتہ برس پہلے نمبر پر تھا، اب چوتھے نمبر پر ہے، مگر ماہرین اسے ماحولیاتی بہتری کے بجائے ڈیٹا کے خلاکا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔ شہروں کی سطح پر صورتحال مزید ابتر ہے۔ 2025ء میں بھارت کا شہر لونی آلودہ ترین قرار پایا، جبکہ دنیا کے 25 آلودہ ترین شہروں کا تعلق صرف تین ممالک بھارت، پاکستان اور چین سے ہے۔

یہ حقیقت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ پورا جنوبی ایشیا اسموگ کا گڑھ بن چکا ہے اور یہاں کی فضا تیزی سے انسانی زندگی کے لیے ناسازگار ہو رہی ہے۔ پاکستان میں اسموگ کا یہ بحران اب صرف موسمِ سرما تک محدود نہیں رہا بلکہ ایک مستقل ناسور بن چکا ہے۔ اس کے پیچھے ٹرانسپورٹ کا دھواں، پرانی گاڑیوں کا استعمال، ناقص ایندھن اور فلٹرز کے بغیر چلنے والی فیکٹریاں اور بھٹے کارفرما ہیں۔ فصلوں کی باقیات جلانے کا عمل اور شہری پھیلاؤ کے باعث درختوں کی بے دریغ کٹائی نے فضا کو صاف کرنے والے قدرتی نظام کو مفلوج کر دیا ہے۔

عالمی سطح پر کینیڈا کے جنگلات میں لگنے والی آگ نے ثابت کر دیا ہے کہ فضائی آلودگی کی کوئی سرحد نہیں ہوتی، ایک خطے کی غفلت پورے کرہ ارض کو متاثر کرتی ہے۔ جہاں آسٹریلیا، آئس لینڈ اور پاناما جیسے ممالک نے صاف ہوا برقرار رکھی ہے، وہیں ہمیں اپنی ترجیحات پر نظرِ ثانی کرنی ہوگی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ اب محض "ماحولیاتی ایمرجنسی" کے نعروں سے آگے بڑھ کر ایک حقیقی اور فیصلہ کن بقا کی جنگ لڑی جائے۔ اس وقت حکومتی سطح پر جو اقدامات کیے جا رہے ہیں، وہ نہ صرف ناکافی ہیں بلکہ زمینی حقائق کے سامنے شرمناک حد تک غیر تسلی بخش ہیں۔ مثال کے طور پر، ٹرانسپورٹ کے شعبے میں الیکٹرک گاڑیوں کی پالیسی محض کاغذوں تک محدود ہے، مارکیٹ میں ای وی اسکوٹرز اور گاڑیوں کی تعداد کل رجسٹرڈ گاڑیوں کے ایک فیصد کے بھی دسویں حصے کے برابر نہیں ہے۔

اسی طرح، یورو-5 ایندھن کا نفاذ صرف بڑے شہروں کے کچھ پٹرول پمپس تک محدود ہے، جبکہ دیہی علاقوں اور مضافات میں آج بھی غیر معیاری اور انتہائی آلودہ ایندھن کھلے عام فروخت ہو رہا ہے۔ صنعتی فضلے کی نگرانی کے لیے جو سینسرز لگائے گئے، ان کا ڈیٹا نہ عوام تک پہنچتا ہے اور نہ ہی ان کی بنیاد پر فیکٹریوں کے خلاف کوئی کارروائی کی جاتی ہے۔ یہ اعداد و شمار کا دھوکہ ہے جو ہمیں حقیقی مسائل سے دور رکھے ہوئے ہے۔

ہمیں ہنگامی بنیادوں پر بھارت کے ساتھ کراس بارڈر ماحولیاتی ڈپلومیسی کا آغاز کرنا ہوگا۔ اسموگ کوئی مقامی مسئلہ نہیں بلکہ ایک علاقائی وبا ہے۔ جب تک سرحد کے دونوں پار چاول کی فصل کی باقیات جلانے کے عمل (Stubble Burning) کو روکنے کے لیے ایک مشترکہ، مستقل اور تکنیکی لائحہ عمل نہیں بنے گا، لاہور اور دہلی جیسے گنجان آباد شہروں کا دم گھٹتا رہے گا۔ ماحولیاتی مسائل پر سرد جنگ کا رویہ ترک کرکے ایک مشترکہ "ریجنل ایئر کوالٹی مانیٹرنگ اینڈ کنٹرول اتھارٹی" قائم کرنے کی ضرورت ہے جو موسمِ سرما کے دوران ہوا کے بہاؤ اور فضائی ذرات کے ارتکاز کی نگرانی کر سکے۔

حکومت کو چاہیے کہ اپنی ترجیحات کو مکمل طور پر تبدیل کرے۔ الیکٹرک گاڑیوں کی طرف منتقلی کو محض ایک آپشن کے بجائے ٹائم لائن کے ساتھ لازمی قرار دیا جائے۔ سرکاری بسوں اور عوامی ٹرانسپورٹ کو اگلے تین برسوں میں مکمل طور پر الیکٹرک یا ہائبرڈ پر منتقل کرنا ہوگا۔ صنعتی شعبے میں زیرو ٹالرنس پالیسی ہونی چاہیے، جو فیکٹری اپنے چمنیوں پر جدید فلٹریشن سسٹم نصب نہ کرے، اسے سیل کر دینا چاہیے۔ تعمیراتی کاموں کے دوران مٹی اور گرد و غبار کو روکنے کے لیے جدید واٹر اسپرنکلنگ سسٹم اور شیٹس کا استعمال لازمی بنایا جائے۔

پاکستان کا آلودہ ترین ملک بننا ہماری اجتماعی ناکامی کی ایک ایسی دستاویز ہے جس پر ہم سب کو شرمندہ ہونا چاہیے۔ اگر آج ہم نے جنگی بنیادوں پر، غیر سیاسی اور خالصتاً سائنسی بنیادوں پر اقدامات نہ کیے، تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ صاف ہوا کوئی تعیش نہیں، یہ جینے کا ایک بنیادی انسانی حق ہے اور اس سے شہریوں کو محروم رکھنا ایک سنگین مجرمانہ غفلت ہے۔ اب وقت ہے کہ ہم اپنے شہروں کو دھوئیں اور زہر سے پاک کرنے کے لیے ایک قومی گرین چارٹر پر اتفاق کریں، جس کا نفاذ کسی بھی حکومت کی تبدیلی سے بالاتر ہو کر یقینی بنایا جائے۔ ہم نے بہت وقت گنوا دیا ہے، اب مزید خاموشی کا مطلب اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک قبرستان چھوڑنا ہے۔

Check Also

Mehman Nawazi Ho To Aisi

By Mehak Rabnawaz