Net Metering Se Net Billing Tak: Aik Ghair Munsifana Tabdeeli
نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ: ایک غیر منصفانہ تبدیلی

پاکستان کا شعبہ توانائی اس وقت ایک ایسے گرداب میں پھنس چکا ہے جہاں ہر گزرتا دن عام آدمی کے لیے معاشی بقا کی جنگ بنتا جا رہا ہے۔ حالیہ چند برسوں میں بجلی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے، سلیب سسٹم کی پیچیدگیوں اور پیٹرولیم لیوی جیسے ٹیکسوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے۔ ان حالات میں سولر انرجی (شمسی توانائی) ایک ایسی امید بن کر ابھری تھی جس نے نہ صرف متوسط طبقے کو بجلی کے بھاری بلوں سے نجات کی راہ دکھائی بلکہ قومی سطح پر گرڈ پر بوجھ کم کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔
افسوس ناک امر یہ ہے کہ حکومت اب نیٹ میٹرنگ کی پالیسی میں ایسی تبدیلیاں لانے پر تلے ہوئے ہے جو اس ابھرتی ہوئی صنعت اور عوامی اعتماد کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہوں گی۔ نیٹ میٹرنگ دراصل ایک ایسا معاہدہ تھا جس کے تحت صارفین کو اپنی چھتوں پر بجلی پیدا کرکے قومی گرڈ میں شامل کرنے کی ترغیب دی گئی تھی۔ اس پالیسی کا بنیادی فلسفہ یہ تھا کہ بجلی پیدا کرو اور اپنی ضرورت سے زائد یونٹس گرڈ کو دے کر اپنے بل میں کمی لاؤ۔ مگر اب "نیٹ بلنگ" کے نام سے جو نیا فارمولا متعارف کرانے کی تجویز ہے، وہ سراسر ناانصافی پر مبنی ہے۔
نئے قوانین کے تحت صارفین سے بجلی 11 روپے فی یونٹ کے کوڑیوں کے دام خریدی جائے گی جبکہ ضرورت پڑنے پر انہیں وہی بجلی 50 سے 60 روپے فی یونٹ میں بیچی جائے گی۔ یہ اقدام کسی بھی طور پر ایک فلاحی ریاست کا شیوہ نہیں ہو سکتا جہاں شہریوں کو اپنی مدد آپ کے تحت توانائی بحران حل کرنے پر انعام کے بجائے سزا دی جا رہی ہو۔ پاکستان میں بجلی کے بلوں کا موجودہ ڈھانچہ یعنی سلیب سسٹم کسی معاشی دہشت گردی سے کم نہیں ہے۔ اس نظام میں صارف کو "پروٹیکٹڈ" اور "نان پروٹیکٹڈ" کیٹیگریز کے جال میں الجھایا جاتا ہے۔ اگر ایک غریب صارف کے یونٹس 200 کی حد سے محض ایک ہندسہ بھی تجاوز کر جائیں تو اس کا پورا ٹیرف بدل جاتا ہے اور پچھلے تمام یونٹس پر بھی مہنگا ترین ریٹ لاگو کر دیا جاتا ہے۔
سولر صارفین نے بھاری سرمایہ کاری اسی لیے کی تھی کہ وہ اس سلیب سسٹم کی چنگل سے نکل سکیں مگر اب ان پر فکسڈ چارجز عائد کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ یہ منطق سمجھ سے بالاتر ہے کہ جب ایک صارف گرڈ سے بجلی لے ہی نہیں رہا تو وہ کس بات کے چارجز ادا کرے؟ کیا اب سورج کی روشنی استعمال کرنے پر بھی حکومت کو ٹیکس دینا ہوگا؟
توانائی بحران کی جڑ دراصل وہ آئی پی پیز (IPPs) ہیں جن کے ساتھ ماضی میں ڈالر پر مبنی کپیسٹی پیمنٹس کے معاہدے کیے گئے تھے۔ آج پاکستان کا گردشی قرضہ 2600 ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے جس کی بڑی وجہ یہ ظالمانہ معاہدے ہیں۔ حکومت ان نجی بجلی گھروں کو سالانہ تقریباً 2000 ارب روپے صرف اس لیے ادا کرتی ہے کہ وہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، چاہے ہم ان سے ایک یونٹ بھی نہ خریدیں۔ جب عوام سولر پر منتقل ہوتے ہیں تو حکومت کی بجلی کی فروخت کم ہو جاتی ہے جس کے نتیجے میں آئی پی پیز کو دی جانے والی رقم کا بوجھ بڑھ جاتا ہے۔ اب حکومت اپنی اس انتظامی نااہلی کا بوجھ ان شہریوں پر ڈالنا چاہتی ہے جنہوں نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی سولر پینلز پر لگا دی تھی۔
پاکستان کے پاور سیکٹر کا ایک اور بڑا ناسور لائن لاسز(ترسیلی نقصانات) اور بجلی چوری ہے۔ ہماری تقسیم کار کمپنیاں (DISCOs) سالانہ سینکڑوں ارب روپے کی بجلی ضائع کر دیتی ہیں یا چوری ہونے دیتی ہیں۔ نیپرا کی رپورٹوں کے مطابق، ان نقصانات کا بوجھ براہِ راست بل ادا کرنے والے صارفین پر منتقل کر دیا جاتا ہے۔ سولر صارفین دراصل حکومت کے لیے ایک اثاثہ تھے کیونکہ وہ لائن لاسز کے بغیر مقامی سطح پر بجلی پیدا کر رہے تھے مگر حکومت انہیں ریونیو کے نقصان کا ذمہ دار ٹھہرا رہی ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی ہسپتال میں مریضوں کی تعداد کم ہونے پر ڈاکٹروں کو سزا دی جائے یا سڑک پر ٹریفک کم ہونے پر گاڑی چلانے والوں سے اضافی ٹیکس مانگا جائے۔
معاشی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو نیٹ میٹرنگ کی حوصلہ شکنی سے ملک میں بیرونی اور اندرونی سرمایہ کاری بری طرح متاثر ہوگی۔ ہزاروں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs) جو سولر انرجی کی بدولت منافع بخش ہوئے تھے، اب دوبارہ خسارے کا شکار ہو جائیں گے۔ عالمی سطح پر دنیا کوئلے اور فرنس آئل جیسے مہنگے اور آلودہ ذرائع کو ترک کرکے گرین انرجی کی طرف بڑھ رہی ہے لیکن ہم الٹی گنگا بہا رہے ہیں۔
پاکستان نے بین الاقوامی ماحولیاتی معاہدوں کے تحت کلین انرجی کا ہدف مقرر کر رکھا ہے مگر نیٹ میٹرنگ میں تبدیلی ان تمام وعدوں کی نفی ہے۔ اس مسئلے کا حل صارفین کو دبانے میں نہیں بلکہ نظام کی اصلاح میں ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے معاہدوں پر ہنگامی بنیادوں پر نظر ثانی کرے اور ٹیک اور پے (Take and Pay) کے ماڈل کی طرف آئے۔ تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کی جائے تاکہ بجلی چوری اور لائن لاسز کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔ نیٹ میٹرنگ کو ختم کرنے کے بجائے حکومت کو چاہیے کہ وہ بیٹری اسٹوریج سسٹم پر مراعات دے تاکہ صارفین دن میں پیدا ہونے والی بجلی خود اسٹور کریں اور رات کے وقت گرڈ پر دباؤ نہ ڈالیں۔ اس سے حکومت کو مہنگے تھرمل پاور پلانٹس چلانے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔
ریاست کو ایک منافع خور تاجر کی طرح نہیں بلکہ ایک ہمدرد سرپرست کی طرح سوچنا چاہیے۔ شہریوں نے اپنی جمع پونجی سولر سسٹمز پر اس لیے لگائی تھی کیونکہ ریاست انہیں سستی اور بلا تعطل بجلی فراہم کرنے میں ناکام رہی تھی۔ اب ان کے اس حق پر شب خون مارنا نہ صرف معاشی طور پر ایک بڑی غلطی ہے بلکہ اخلاقی طور پر بھی ناقابلِ قبول عمل ہے۔ اگرچہ وزیراعظم شہباز شریف نے اب پاور ڈویژن اور نیپرا کو سولر صارفین کے موجودہ معاہدوں کے تحفظ سے متعلق نظرِ ثانی اپیل دائر کرنے کی ہدایت دی ہے تاکہ ساڑھے چار لاکھ سے زائد صارفین متاثر نہ ہوں لیکن یہ اقدام اپنی جگہ کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔
حکومت کا یہ موقف کہ ان چند لاکھ صارفین کا بوجھ نیشنل گرڈ کے پونے چار کروڑ صارفین پر پڑ رہا ہے اصل مسئلے سے چشم پوشی کے مترادف ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ پالیسی سازی کے عمل میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا جاتا؟ ہماری قومی پالیسیوں میں وہ تسلسل کیوں مفقود ہے جو سرمایہ کار اور عام شہری کو تحفظ کا احساس دلاتا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ جب تک پالیسیوں کا مرکز و محور عام آدمی کے بجائے اشرافیہ اور آئی پی پیز کے مفادات رہیں گے، ملکی معیشت اسی طرح ہچکولے کھاتی رہے گی۔ توانائی کے شعبے میں اصلاحات وقت کی ضرورت ہیں مگر ان کا رخ غریب پرور ہونا چاہیے۔ اب بھی وقت ہے کہ حکومت اور پالیسی ساز اپنی ترجیحات درست کریں اور ایسی پائیدار پالیسی وضع کریں جہاں ریاست صرف آئی پی پیز کے مفادات کی نگہبانی کرنے کے بجائے اپنے شہریوں کے معاشی حقوق کی محافظ بھی نظر آئے۔ اگر آج ہم نے متبادل توانائی کی حوصلہ شکنی کی تو مستقبل میں توانائی کی خود کفالت کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔

