Naya Saal, Purane Sawal
نیا سال، پْرانے سوال

پاکستان کی تاریخ میں ہر نیا سال محض کیلنڈر کے اوراق کی تبدیلی نہیں بلکہ ایک نئی سماجی و معاشی جنگ کا آغاز ثابت ہوتا ہے۔ جب ہم 2026ء کی دہلیز پر دستک دے چکے ہیں تو ایوانوں میں گونجتے معاشی کامیابیوں کے دعوے اور عالمی اداروں کی توصیفی رپورٹس ایک طرف، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ ترقی گلی محلوں میں رہنے والے اس عام پاکستانی تک بھی پہنچی ہے جس کی زندگی بقاء کی جدوجہد میں کٹ رہی ہے؟
2026ء کا سال پاکستان کے لیے محض ایک ہندسہ نہیں بلکہ ان وعدوں کی آزمائش کا سال ہے جو ریاست نے اپنے شہریوں سے کر رکھے ہیں۔ پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ یہاں اعداد و شمار کی جادوگری تو خوب دکھائی دیتی ہے مگر حقائق کی تلخی کم ہونے کا نام نہیں لیتی۔ ایک طرف بلوم برگ اور آئی ایم ایف پاکستان کو ابھرتی ہوئی معیشت قرار دے رہے ہیں تو دوسری طرف پی آئی ای کی حالیہ رپورٹ کے مطابق 2 کروڑ 62 لاکھ بچوں کا اسکولوں سے باہر ہونا اور صحت پر جی ڈی پی کا محض ایک فیصد خرچ ہونا لمحہ فکریہ ہے۔
2026ء میں عام آدمی کا مطالبہ محض اعداد و شمار کی بہتری نہیں بلکہ یہ ہے کہ اسے سرکاری ہسپتالوں میں ذلت کے بجائے عزت ملے اور اس کے بچے نجی اداروں کے بجائے سرکاری اسکولوں میں معیاری تعلیم پائیں۔ معاشی طور پر 2025ء مہنگائی اور بیروزگاری کا ایک کڑا سال رہا، جس نے سفید پوش طبقے کی کمر توڑ دی۔ اسٹاک ایکسچینج کے ریکارڈز اور ڈیفالٹ کے خطرے کا ٹلنا اپنی جگہ لیکن عام آدمی اب اپنی جیب اور تنخواہ میں برکت کا طلب گار ہے۔
حکومت کو اب ایسی ٹھوس پالیسیاں وضع کرنی چاہئیں جن کا براہِ راست اثر غریب کی جیب اور اس کے دسترخوان پر نظر آئے۔ روٹی، کپڑا اور مکان انسان کی مادی ضرورتیں تو ہو سکتی ہیں لیکن ایک عام پاکستانی صرف یہی نہیں مانگتا وہ معاشرے میں عزتِ نفس کا طلب گار بھی ہے۔ ہمیں ایک ایسا ماحول چاہیے جہاں رواداری، برداشت اور باہمی محبت کو فروغ ملے۔ انتہا پسندی اور نفرت کے خاتمے کے لیے ریاست اور عوام کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
2026ء سے سب سے بڑی توقع قیمتوں میں ٹھہراؤ اور باعزت روزگار ہے۔ ڈگریاں ہاتھ میں تھامے نوجوان جب مایوس ہو کر "برین ڈرین" کا حصہ بنتے ہیں تو یہ ریاست کی ناکامی ہوتی ہے۔ حکومت کو آئی ٹی اور چھوٹی صنعتوں میں ایسے انقلابی اقدامات کرنے ہوں گے کہ میرٹ کی حکمرانی ہو اور نوجوان ہجرت کے بجائے اپنے وطن کی خدمت کو ترجیح دیں۔ سماجی انصاف کے حوالے سے ورلڈ جسٹس پروجیکٹ اور ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹس پاکستان کے عدالتی اور پولیسنگ نظام پر سوالیہ نشان ہیں۔
2026ء کا پاکستان ایسا ہونا چاہیے جہاں تھانہ کلچر تبدیل ہو، قانون کی نظر میں امیر اور غریب برابر ہوں اور عدالتیں نسل در نسل لٹکتے مقدمات کا بوجھ اتار پھینکیں۔ جب تک انصاف بکتا رہے گا اور آزادیِ اظہارِ رائے پر پابندیاں ہوں گی معاشرتی استحکام ایک خواب ہی رہے گا۔ ہمیں ایک ایسا پاکستان درکار ہے جہاں ہر فرد، قطع نظر اس کے مذہب یا جنس کے، خود کو محفوظ اور معزز تصور کرے۔ انسانی حقوق اور صنفی فرق میں بہتری لانا اب عالمی ضرورت کے ساتھ ساتھ ہماری اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔ بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلیوں نے عام آدمی کی زندگی کو مزید اجیرن بنا دیا ہے۔
2026ء میں شہری صرف روٹی ہی نہیں بلکہ سانس لینے کے لیے صاف فضا اور پینے کے لیے پاک پانی کا حق بھی مانگتے ہیں۔ جدید عالمی نظام میں جہاں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی اسٹریٹجک قیادت کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے وہاں اس کا حقیقی ثمر تبھی ملے گا جب اندرونی محاذ پر سیاسی استحکام آئے۔ سیاسی رسہ کشی اور ذاتی مفادات کی جنگ نے ہمیشہ عوام کا ہی نقصان کیا ہے۔
2026ء کو ایک مثالی سال بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ریاست معاشی پالیسیوں کا رخ اشرافیہ سے ہٹا کر عوام کی طرف موڑ دے۔ اگر ہم نے درست سمت کا تعین کر لیا اور قومی مفاد کو مقدم رکھاتو یہ سال محض ایک خواب نہیں بلکہ ایک خوشحال پاکستان کا حقیقی نیا سویرا ثابت ہوگا۔

