Ramzan Ul Mubarak Aur Khawateen Ki Sehri o Iftari Ki Tayari
رمضان المبارک اور خواتین کی سحری و افطاری کی تیاری

رمضان المبارک، وہ مقدس مہینہ جو اللہ تعالیٰ کی رحمتوں، برکتوں اور مغفرتوں کا خزانہ ہے۔ یہ وہ بابرکت وقت ہے جب آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں، شیطان کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے اور نیکیوں کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: "رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا، جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور ہدایت کی روشن دلیلیں اور حق و باطل میں فرق کرنے والا ہے" (سورہ بقرہ: 185)۔ اس مہینے میں مسلمان دنیا بھر میں روزے رکھتے ہیں، عبادات میں مصروف ہوتے ہیں اور اللہ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مرد حضرات مسجدوں میں تراویح، قیام اللیل اور دیگر دینی سرگرمیوں میں مشغول رہتے ہیں، جبکہ گھروں کے اندر خواتین کا کردار اس مقدس مہینے کی بنیاد کو مضبوط کرنے میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ خاص طور پر سحری اور افطاری کی تیاری میں ان کی مصروفیات نہ صرف گھریلو نظام کو چلاتی ہیں بلکہ یہ کام عبادت کی ایک اعلیٰ صورت بن جاتے ہیں، جن کا اجر اللہ کے ہاں بے حد و حساب ہے۔
رمضان کی آمد کے ساتھ ہی گھروں کا ماحول تبدیل ہو جاتا ہے۔ رات کی خاموشی میں چراغاں ہوتے ہیں اور خواتین کی مصروفیات کا آغاز ہوتا ہے۔ سحری کی تیاری ایک ایسا مرحلہ ہے جو رات کی نیند کو قربان کرکے کیا جاتا ہے۔ تصور کیجیے، جب دنیا سو رہی ہوتی ہے، تب ایک ماں یا بیوی باورچی خانے میں کھڑی ہوتی ہے، کھانے کی خوشبوؤں کو پھیلاتی ہے، تاکہ اہل خانہ روزے کی حالت میں دن بھر کی مشقت برداشت کر سکیں۔ سحری کے لیے پکوان تیار کرنا، پھلوں اور مشروبات کا اہتمام اور پھر سب کو جگانا۔ یہ سب کام ایک منظم شیڈول کے تحت ہوتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے سحری کو برکت والا کھانا قرار دیا ہے۔ ایک حدیث مبارکہ میں ارشاد ہے: "سحری کھاؤ، کیونکہ سحری میں برکت ہے" (بخاری و مسلم)۔ خواتین جو اس سنت کی ادائیگی میں معاون بنتی ہیں، وہ نہ صرف خاندان کو جسمانی طاقت فراہم کرتی ہیں بلکہ اللہ کی طرف سے برکتوں کی مستحق بھی بنتی ہیں۔ یہ محنت اگر خلوص نیت سے کی جائے تو یہ عبادت کا درجہ پا لیتی ہے اور اللہ تعالیٰ ایسے اعمال کو ضائع نہیں کرتا۔
دن بھر کی روٹین خواتین کے لیے ایک چیلنج ہوتی ہے۔ فجر کی نماز کے بعد مختصر آرام، پھر گھریلو کاموں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ صفائی، کپڑوں کی دھلائی، بچوں کی دیکھ بھال اور اگر وہ کام کرنے والی ہوں تو دفتر یا کاروبار کی ذمہ داریاں بھی۔ رمضان میں گرمی کی شدت اور روزے کی حالت میں یہ کام مزید مشکل ہو جاتے ہیں، لیکن خواتین صبر اور برداشت کے ساتھ انہیں انجام دیتی ہیں۔ قرآن مجید میں صابرین کی تعریف کی گئی ہے: "اور ہم ضرور تمہیں آزمائیں گے کچھ خوف اور بھوک سے اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے اور خوشخبری دے دے صبر کرنے والوں کو" (سورہ بقرہ: 155)۔ یہ آیت خواتین کی روزمرہ جدوجہد کی عکاس ہے، جو بھوک اور تھکن کے باوجود مسکراہٹ برقرار رکھتی ہیں۔ ان کی یہ قربانی نہ صرف خاندان کو متحد رکھتی ہے بلکہ اللہ کی خاص رحمتوں کو دعوت دیتی ہے۔
شام ہوتے ہی افطاری کی تیاری کا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ یہ وقت رمضان کی رونق کا مرکز ہوتا ہے۔ خواتین مختلف پکوان تیار کرتی ہیں۔ کھجوریں، پھل، شربت، پکوڑے، سموسے اور گرم گرم کھانے۔ یہ سب کچھ اس لیے کہ روزہ دار افطار کے وقت آرام اور سکون محسوس کریں۔ حدیث مبارکہ میں افطار کرانے کی فضیلت بیان کی گئی ہے: "جو شخص کسی روزہ دار کو افطار کرائے، اسے بھی روزہ دار کے برابر اجر ملے گا، بغیر اس کے کہ روزہ دار کے اجر میں کوئی کمی ہو" (ترمذی)۔ اس حدیث کی روشنی میں دیکھیں تو خواتین جو روزانہ اپنے گھر والوں کے لیے افطاری تیار کرتی ہیں، وہ ہر روز متعدد روزہ داروں کے اجر میں شریک ہو جاتی ہیں۔ یہ اجر صرف مردوں تک محدود نہیں، بلکہ خواتین بھی اس سے مستفید ہوتی ہیں۔ اگر گھر میں مہمان آئیں یا پڑوسیوں کو افطاری بھیجی جائے تو یہ اجر مزید بڑھ جاتا ہے۔ اسلام میں نیت کی اہمیت بنیادی ہے، جیسا کہ حضور ﷺ نے فرمایا: "اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے" (بخاری)۔ اگر خاتون اس نیت سے کام کرے کہ وہ اللہ کی رضا چاہتی ہے، تو یہ گھریلو کام عظیم عبادت بن جاتے ہیں۔
رمضان میں خواتین کا کردار صرف کھانا پکانے تک محدود نہیں۔ وہ گھر کے نظم و نسق کی ذمہ دار ہوتی ہیں، بچوں کی تربیت کرتی ہیں اور دینی رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ بچوں کو روزے کی اہمیت سمجھانا، انہیں سحری کے وقت پیار سے جگانا، افطاری کے وقت دعاؤں کا اہتمام کرانا۔ یہ سب ان کی ذمہ داریاں ہیں۔ ایک ماں رمضان کو بچوں کے لیے ایک تہوار بنا دیتی ہے، جہاں روزے کی خوشی، قرآن کی تلاوت اور خاندانی اکٹھ کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔ یہ تربیت ایک پوری نسل کو متاثر کرتی ہے اور اس کا اجر اللہ کے ہاں بہت بڑا ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ جو شخص اپنے بچوں کو نیک اعمال سکھائے، وہ ان کے اعمال میں شریک ہوتا ہے۔ خواتین کی یہ خدمات بالواسطہ طور پر خاندان کی ہر نیکی میں شامل ہو جاتی ہیں۔
جدید دور میں خواتین کی زندگی مزید پیچیدہ ہوگئی ہے۔ بہت سی خواتین نوکریاں کرتی ہیں، کاروبار سنبھالتی ہیں، یا تعلیم حاصل کر رہی ہوتی ہیں۔ رمضان میں انہیں ڈبل ڈیوٹی نبھانی پڑتی ہے۔ دفتر کی ذمہ داریاں اور گھریلو کام۔ اس صورت حال میں ان کی مصروفیات مزید بڑھ جاتی ہیں، لیکن وہ پھر بھی رمضان کی روح کو زندہ رکھتی ہیں۔ مثال کے طور پر، کام کرنے والی خواتین سحری کی تیاری رات کو پہلے سے کر لیتی ہیں، یا افطاری کے لیے سادہ لیکن صحت بخش پکوان منتخب کرتی ہیں۔ اسلام نے خواتین کو یہ لچک دی ہے کہ وہ اپنی عبادات گھر میں ادا کریں۔ تراویح مسجد میں ادا نہ کر سکیں تو گھر میں قرآن کی تلاوت، نوافل اور ذکر اذکار سے استفادہ کریں۔ اللہ تعالیٰ ظاہری اعمال سے زیادہ دل کی نیت دیکھتا ہے۔ ایک حدیث قدسی میں اللہ فرماتا ہے: "میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوں"۔ اگر خاتون اپنی مصروفیات کو عبادت سمجھے تو یہ سب اجر کا سبب بن جاتا ہے۔
تاہم، یہ ضروری ہے کہ معاشرہ خواتین کی محنت کی قدر کرے۔ مرد حضرات اور بچوں کو چاہیے کہ رمضان میں تعاون کریں۔ حضور ﷺ خود گھریلو کاموں میں مدد فرماتے تھے، جیسا کہ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ اپنے جوتے سلتے، کپڑے سی لیتے اور گھر کے کام کرتے۔ لہٰذا، مرد حضرات اگر باورچی خانے میں ہاتھ بٹائیں، بچوں کو جگائیں، یا افطاری کی تیاری میں شریک ہوں تو خواتین کو عبادت اور آرام کا زیادہ موقع ملے گا۔ یہ باہمی تعاون رمضان کی حقیقی روح ہے، جو خاندان کو قریب لاتا ہے اور اللہ کی برکتوں کو بڑھاتا ہے۔
رمضان میں خواتین کی خدمات کو کم تر نہ سمجھا جائے۔ وہ پس منظر میں رہ کر کام کرتی ہیں، لیکن ان کی محنت کے بغیر رمضان کا نظام ادھورا رہتا ہے۔ سحری و افطاری نہ صرف جسمانی غذائیت فراہم کرتی ہے بلکہ روحانی قوت بھی دیتی ہے، جو عبادات کو ممکن بناتی ہے۔ یوں خواتین ہر نیکی میں شریک ہو جاتی ہیں۔ اگر وہ تھکاوٹ کے باوجود بھی خلوص برقرار رکھیں تو اللہ کی رحمت ان پر نازل ہوتی ہے۔ آخر میں، رمضان المبارک خواتین کے لیے بھی بے شمار برکتوں کا ذریعہ ہے۔ ان کی مصروفیات، سحری و افطاری کی تیاری، گھر کی دیکھ بھال، بچوں کی تربیت اور ذاتی عبادات، اگر اخلاص سے کی جائیں تو عظیم اجر کا سبب بنتی ہیں۔ ضرورت ہے کہ خواتین اپنے کاموں کو عبادت کا درجہ دیں اور اہل خانہ ان کی قدر کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان کی قدر کرنے، ایک دوسرے کا ساتھ دینے اور خلوص کے ساتھ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

