Rishton Mein Adam Tawazun
رشتوں میں عدم توازن

گھر کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی اگر فضا میں خاموشی کی ایک انجانی سی دراڑ محسوس ہو، اگر سانس لیتے ہوئے دل کسی ان کہی کشمکش کے بوجھ تلے دبنے لگے تو سمجھ لیجیے کہ یہ محض کا اختلاف نہیں، رشتوں کا عدم توازن ہے۔۔ وہ نازک، بے آواز تصادم جس میں ماں کی ممتا اپنی صداقت کے باوجود سوال بن جاتی ہے اور بیوی کی رفاقت محبت ہوتے ہوئے بھی دفاع پر مجبور دکھائی دیتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مرد ایک انسان کم اور ایک میدانِ جنگ زیادہ بن جاتا ہے، جس کے ایک طرف قربانی کی پرانی داستانیں ہیں اور دوسری طرف زندگی کی نئی ترجیحات اور انہی دو سچائیوں کے بیچ وہ خاموشی جنم لیتی ہے جو نسلوں کے سکون کو آہستہ آہستہ کھا جاتی ہے۔
بعض رشتے ترازو کی مانند ہوتے ہیں ان میں ذرا سا بھی وزن ایک پلڑے میں زیادہ ہو جائے تو توازن بگڑ جاتا ہے اور اس توازن کے بگڑنے کی وجہ سے سب سے پہلے خاموشیاں جنم لیتی ہیں اور بالآخر چیخیں بلند ہوتی ہیں۔ میاں بیوی کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی عموماً کسی ایک جملے، کسی ایک واقعے یا کسی ایک دن کا نتیجہ نہیں ہوتی، یہ برسوں کے عدم توازن کی جمع پونجی ہوتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں اس عدم توازن کی جڑیں بہت گہری ہیں اور ان جڑوں کو سمجھنا ہی مسئلے کے حل کی پہلی سیڑھی ہے۔
یہ بات اپنی جگہ مسلمہ ہے کہ اسلام نے ماں باپ کے حقوق کو غیر معمولی اہمیت دی ہے۔ قرآن میں والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کو توحید کی بار بار تاکید کی گئی ہے اور احادیث میں ماں کے قدموں تلے جنت رکھ دی گئی ہے۔ مگر مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں دین کی تعلیمات سے زیادہ روایت اور سماجی دباؤ فیصلے کرنے لگتے ہیں۔ ہمارے ہاں اکثر مردوں کی تربیت اس انداز میں ہوتی ہے کہ ماں کے حقوق کا تصور تو رگ و پے میں اتار دیا جاتا ہے، مگر بیوی کے حقوق کا ذکر یا تو سرے سے ہوتا ہی نہیں، یا پھر اسے ثانوی حیثیت دے دی جاتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ شوہر ایک رشتے کو نبھاتے نبھاتے دوسرے رشتے کو نظر انداز کر دیتا ہے۔
روزمرہ زندگی میں اس عدم توازن کی بے شمار مثالیں ملتی ہیں۔ ایک عام سا منظر لیجیے: شوہر دفتر سے تھکا ہارا گھر آتا ہے، ماں کی ذرا سی شکایت پر فوراً چونک جاتا ہے، لہجہ بدل لیتا ہے، سوال جواب شروع ہو جاتے ہیں، جبکہ بیوی دن بھر کے کام، بچوں کی دیکھ بھال اور گھر کی ذمہ داریوں کے بعد اگر کسی بات پر شکوہ کرے تو جواب ملتا ہے: "تم بات بات پر مسئلہ کیوں بناتی ہو؟" یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں عورت کے دل میں پہلی دراڑ پڑتی ہے۔ وہ یہ نہیں چاہتی کہ ماں کو نظر انداز کیا جائے، وہ صرف یہ چاہتی ہے کہ اس کی بات بھی اسی توجہ اور احترام سے سنی جائے۔ اب دوسری دوسری انتہا بھی اسی قدر نقصان دہ ہے۔ کچھ لوگ گھر میں والدین کو سرے سے ہی نظرانداز کر دیتے ہیں اور والدین کو اپنی بیگم کی آنکھوں سے دیکھتے ہیں جو کئی گھروں میں بگاڑ کا باعث بنتا ہے۔
کئی گھروں میں یہ جملہ سننے کو ملتا ہے: "میری ماں نے تو ساری عمر قربان کی ہے، تم ایک بات بھی برداشت نہیں کر سکتیں؟" یہ جملہ بظاہر قربانی کی عظمت بیان کرتا ہے، مگر درحقیقت ایک مقابلہ کھڑا کر دیتا ہے۔۔ ماں اور بیوی کے درمیان۔ حالانکہ رشتوں میں مقابلہ نہیں، توازن چاہیے۔ ماں کا مقام اپنی جگہ مسلم مگر بیوی بھی تو کسی کی بیٹی ہے، جس نے اپنا گھر، اپنا ماحول اور اپنی پہچان چھوڑ کر اس نئے رشتے کو اپنایا ہے۔ جب اس کی قربانی کو نظر انداز کیا جاتا ہے تو محبت آہستہ آہستہ شکایت میں بدلنے لگتی ہے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں لڑکوں کی تربیت میں یہ بات شاذ و نادر ہی شامل ہوتی ہے کہ شادی کے بعد بیوی کے جذبات، اس کی نفسیات اور اس کے حقوق کیا ہوتے ہیں۔ لڑکے کو یہ تو سکھایا جاتا ہے کہ ماں کی نافرمانی گناہ ہے مگر یہ نہیں بتایا جاتا کہ بیوی کے ساتھ ناانصافی بھی ظلم کے زمرے میں آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شادی کے بعد مرد خود کو ایک عجیب کشمکش میں پاتا ہے۔۔ ایک طرف ماں کی توقعات، دوسری طرف بیوی کی امیدیں اور درمیان میں وہ خود جسے توازن قائم کرنے کا ہنر کبھی سکھایا ہی نہیں گیا۔
دوسری طرف یہ ذمہ داری صرف مرد پر ڈال دینا بھی انصاف نہیں۔ لڑکی کی تربیت میں بھی ایک خلا موجود ہے۔ اکثر مائیں بیٹی کو گھرداری کے گر سکھاتے ہوئے ساس کے احترام کا عملی شعور نہیں دیتیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ معمولی باتیں انا کا مسئلہ بن جاتی ہیں۔ اگر بیٹی کو یہ سکھایا جائے کہ ساس ایک حریف نہیں بلکہ تجربے کا خزانہ ہو سکتی ہے تو بہت سی غلط فہمیاں ابتدا ہی میں ختم ہو جائیں۔ جس طرح شوہر کے لیے توازن ضروری ہے اسی طرح بہو کے لیے بھی برداشت اور حکمت لازم ہے۔
عدالتی ماحول میں بیٹھ کر اگر ان گھریلو تنازعات کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ زیادہ تر کیسز کی بنیاد کسی بڑے جرم پر نہیں بلکہ انہی چھوٹے چھوٹے عدم توازن پر ہوتی ہے۔ کبھی شوہر کا یہ کہنا کہ "امی کی بات آخری ہے"، کبھی بیوی کا یہ شکوہ کہ "مجھے سنا ہی نہیں جاتا"۔۔ یہ سب وہ زخم ہیں جو وقت کے ساتھ ناسور بن جاتے ہیں۔ اگر آغاز میں ہی رشتوں کا وزن برابر رکھا جائے تو شاید بات عدالت تک پہنچے ہی نہ۔
حل اس میں نہیں کہ کسی ایک رشتے کو کم تر یا برتر ثابت کیا جائے، بلکہ حل اس شعور میں ہے کہ ہر رشتے کا حق اس کی جگہ ادا کیا جائے۔ ماں کا احترام خدمت اور اطاعت میں اور بیوی کا احترام مشاورت، توجہ اور انصاف میں۔ یہ شعور شادی کے بعد نہیں، شادی سے پہلے پیدا کرنا ہوگا۔ لڑکوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ اچھا بیٹا ہونا اور اچھا شوہر ہونا ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک ہی کردار کے دو پہلو ہیں۔ اسی طرح لڑکیوں کو یہ سمجھانا ہوگا کہ عزت صرف مطالبے سے نہیں، رویے سے بھی ملتی ہے۔
آخرکار ایک گھر تبھی جنت بن سکتا ہے جب اس کی بنیاد توازن پر ہو۔ جہاں ماں مطمئن ہو کہ اس کا بیٹا اس کی عزت کرتا ہے اور بیوی مطمئن ہو کہ اس کا شوہر اس کے جذبات کو سمجھتا ہے۔ ورنہ عدم توازن کا یہ خاموش زہر رشتوں کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔

