Tuesday, 24 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Atiq Chaudhary
  4. Faiz Festival: Habs Mein Taza Hawa Ka Jhonka

Faiz Festival: Habs Mein Taza Hawa Ka Jhonka

فیض فیسٹیول: حبس میں تازہ ہوا کا جھونکا

لاہور کی فضاؤں میں جب فروری کی خنکی دستک دیتی ہے تو مال روڈ پر واقع الحمرا آرٹس کونسل کے در و دیوار ایک ایسی خوشبو سے مہک اٹھتے ہیں جو محض عطر یا پھولوں کی نہیں بلکہ علم، ادب اور مزاحمت اور جہدمسلسل کی خوشبو ہوتی ہے۔ اس سال دسویں سہ روزہ "فیض فیسٹیول" میں شرکت کا موقع ملا تو یہ احساس پہلے سے کہیں زیادہ توانا ہو کر ابھرا کہ فیض احمد فیض آج اپنی جسمانی موجودگی کے بغیر بھی اتنے ہی زندہ اور متحرک ہیں جتنے وہ اپنی زندگی کے ایام میں تھے۔

اس برس فیسٹیول کا عنوان "چاند کو گل کریں تو ہم جانیں" رکھا گیا تھا۔ یہ مصرعہ محض ایک شاعرانہ تخیل نہیں بلکہ فیض صاحب کی اس فکری گہرائی کا آئینہ دار ہے جو ہر دور کے استبداد اور تاریکی کے سوداگروں کو للکارتی ہے۔ یہ عنوان موجودہ دور کے حبس زدہ سماجی و سیاسی ماحول میں ایک گہرا طنز بھی ہے اور ان لوگوں کے لیے دعوتِ فکر بھی۔ الحمرا کی راہداریوں، برنی گارڈن کی رونقوں اور ہالز میں جاری علمی نشستوں کو دیکھ کر یہ یقین پختہ ہو جاتا ہے کہ لاہور آج بھی برصغیر میں علم و ادب کا دھڑکتا ہوا دل ہے۔

کتب کے اسٹالز پر موجود نوجوانوں کا جمِ غفیر اس بات کی گواہی دے رہا تھا کہ ڈیجیٹل دور کی یلغار اور سوشل میڈیا کی سطحی معلومات کے باوجود، کاغذ اور شعور کا رشتہ ابھی ٹوٹا نہیں ہے۔ یہ فیسٹیول اب محض ایک سالانہ میلہ یا تفریحی اجتماع نہیں رہا، بلکہ یہ عالمی سطح پر پاکستان کی ان ثقافتی اقدار کا ایک مضبوط بیانیہ بن چکا ہے جو رواداری، امن اور مکالمے پر یقین رکھتی ہیں۔ جہاں دنیا ہمیں انتہا پسندی کے تناظر میں دیکھتی ہے، وہاں فیض فیسٹیول جیسے ایونٹس یہ ثابت کرتے ہیں کہ ہماری اصل پہچان تخلیق اور فکر ہے۔

آج جب ہمارا ملک شدید ترین سیاسی و سماجی تقسیم کا شکار ہے اور عدم برداشت کا زہر معاشرے کی رگوں میں سرایت کر چکا ہے، فیض فیسٹیول جیسے پلیٹ فارم "برداشت" کی ایک عملی اور کامیاب مشق پیش کرتے ہیں۔ الحمرا کے مختلف ہالز میں جب ملک بھر سے آئے ہوئے نامور ادیب، دانشور، صحافی اور فنکار ایک چھت تلے بیٹھ کر اختلافی موضوعات پر مکالمہ کرتے ہیں، تو وہاں یہ خاموش پیغام عام ہوتا ہے کہ مکالمہ ہی وہ واحد راستہ ہے جو ہمیں انتہا پسندی اور فکری بنجر پن کی دلدل سے نکال سکتا ہے۔ فیض نے برسوں پہلے ہمیں یہ رستہ دکھایا تھا کہ:

مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے

یہ "سوئے دار" جانا دراصل اپنے موقف پر استقامت اور دوسرے کے مخالف موقف کو خندہ پیشانی سے سننے کا وہ حوصلہ ہے جو آج کے پاکستان کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ فیض صاحب کی پوری زندگی اس بات کی شاہد ہے کہ انہوں نے جیل کی کال کوٹھڑیوں میں رہنا تو قبول کیا لیکن اپنے قلم کی حرمت پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ آج جب عوامی حقوق کی بات کرنا یا سچ لکھنا جرم ٹھہرایا جاتا ہے، تو فیض کا یہ شعر ہر حریت پسند کا سہارا بن جاتا ہے:

بول کہ لب آزاد ہیں تیرے
بول زباں اب تک تیری ہے

تیرا ستواں جسم ہے تیرا
بول کہ جاں اب تک تیری ہے

فیض احمد فیض کی عظمت کا اصل راز یہ ہے کہ انہوں نے اردو شاعری کو محض محبوب کے لب و رخسار، زلف و گیسو اور ہجر و وصال کی رومانوی دنیا تک محدود نہیں رکھا۔ انہوں نے اس میں "عام آدمی" کی روح پھونک دی۔ ان کا فن پاکستان کے اس پسے ہوئے طبقے، مزدور، دہقان اور طالب علم کا مقدمہ ہے جسے ہمیشہ حاشیے پر رکھا گیا۔ انہوں نے غریب کے دکھ کو اپنا دکھ بنایا اور اسے وہ زبان دی کہ آج بھی جب کہیں ظلم ہوتا ہے تو نعرہ "ہم دیکھیں گے" کی صورت میں بلند ہوتا ہے۔

تخت گرائے جائیں گے، تاج اچھالے جائیں گے
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے

فیض نے سماجی ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے کو عبادت کا درجہ دیا۔ ان کی شاعری میں غریب اور پسے ہوئے طبقات کے دکھ محض نوحہ نہیں ہیں بلکہ ایک احتجاج ہیں۔ انہوں نے ہمیں سکھایا کہ مایوسی کفر ہے اور جدوجہد ہی زندگی کا دوسرا نام ہے۔ ان کی فکرنے عام آدمی کو یہ احساس دلایا کہ ظلم کے خلاف خاموشی اختیار کرنا دراصل ظالم کا ساتھ دینے کے مترادف ہے۔ اگر ہم فیض صاحب کے سوانحی خاکے پر نظر ڈالیں تو 13 فروری 1911 کو سیالکوٹ کی مٹی سے جنم لینے والا یہ ستارہ اردو، پنجابی، انگریزی، عربی اور فارسی سمیت روسی زبان پر بھی عبور رکھتا تھا۔ وہ صرف ایک شاعر نہیں تھے بلکہ ایک ماہرِ تعلیم، ایک نڈر صحافی اور ایک ٹریڈ یونینسٹ بھی تھے۔

1936 میں انہوں نے ترقی پسند تحریک کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا اور اس کے پہلے سیکرٹری جنرل منتخب ہوئے۔ قید و بند کی صعوبتیں ہوں یا جلاوطنی کا دکھ، فیض کا قلم کبھی نہ رکا اور نہ جھکا۔ "نقشِ فریادی" سے لے کر "دستِ صبا" اور "نسخہ ہائے وفا" تک، ان کے شعری مجموعے انسانیت کی تذلیل کے خلاف ایک ایسی چارج شیٹ ہیں جو ہر دور کے جابر کے سامنے پڑھی جا سکتی ہے۔ ان کے کلام کا حسن یہ ہے کہ وہ قید خانے کی تنہائی میں بھی انسانیت کی آزادی کے گیت گاتے تھے:

متاعِ لوح و قلم چھن گئی تو کیا غم ہے
کہ خونِ دل میں ڈبولی ہیں انگلیاں میں نے

زباں پہ مہر لگی ہے تو کیا کہ رکھ دی ہے
ہر ایک حلقۂ زنجیر میں زباں میں نے

فیسٹیول کے دوران مختلف نشستوں میں اس بات پر بھی سیر حاصل بحث ہوئی کہ فیض کی فکر آج کے نوجوان کے لیے کس طرح مشعلِ راہ بن سکتی ہے۔ موجودہ نسل جو معاشی بدحالی اور بے یقینی کا شکار ہے، اسے فیض کے کلام سے وہ حوصلہ ملتا ہے جو حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ہے۔۔ فیض فیسٹیول کے ان تین دنوں نے لاہور کی ادبی زندگی میں نئی روح پھونک دی۔ کتب بینی کے شوق سے لے کر ڈراموں، رقص اور موسیقی کی محافل تک، ہر چیز میں ایک نظم اور مقصدیت نظر آئی۔

برنی گارڈن کی گھاس پر بیٹھے وہ نوجوان جو گھنٹوں فلسفے اور سیاست پر بحث کر رہے تھے، اس امید کو زندہ کرتے ہیں کہ پاکستان کا مستقبل ان اندھیروں میں گم نہیں ہوگا جن کا ہم اکثر رونا روتے ہیں۔ یہ فیسٹیول دراصل اپنی مٹی، اپنی زبان اور اپنی جڑوں سے جڑنے کا نام ہے۔ فیض احمد فیض کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہم مکالمے کی ثقافت کو فروغ دیں، اختلافِ رائے کا احترام کرنا سیکھیں اور اپنے حقوق کی جدوجہد کو علمی و فکری بنیادوں پر استوار کریں۔ حالات کتنے ہی ناسازگار کیوں نہ ہوں، سحر کی آمد یقینی ہے۔ جیسا کہ انہوں نے خود فرمایا تھا:

دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے
لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے

Check Also

School

By Rao Manzar Hayat