Sunday, 11 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Atiq Chaudhary
  4. Grand Dialogue, Muslihat Ya Naguzeer Zaroorat?

Grand Dialogue, Muslihat Ya Naguzeer Zaroorat?

گرینڈ ڈائیلاگ، مصلحت یا ناگزیر ضرورت؟

پاکستان کی موجودہ سیاسی و معاشی صورتحال اس خطرناک موڑ پر آن پہنچی ہے جہاں اب مزید کسی لغزش یا تجربے کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ ملک اس وقت ایک ایسے نازک دوراہے پر کھڑا ہے جہاں سیاسی محاذ آرائی کی گہری کھائی ہماری بقا کو چیلنج کر رہی ہے تو دوسری طرف "گرینڈ ڈائیلاگ" کی وہ واحد شاہراہ ہے جو ہمیں استحکام کی منزل دکھا سکتی ہے۔

حالیہ منظرنامے نے واضح کر دیا ہے کہ اب بند کمروں میں فیصلے کرنا کارگر نہیں رہا، وقت آ گیا ہے کہ قومی سطح پر سچائی اور کھرے پن کو ترجیح دی جائے۔ سیاست سے جڑے علمی و فکری مباحث میں یہ نقطہ اب ایک مسلمہ حقیقت بن چکا ہے کہ کسی بھی ریاست میں معاشی ترقی سیاسی تنہائی میں ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے ایک وسیع اور مستحکم سیاسی فریم ورک لازمی ہے۔

عائشہ جلال اپنی کتاب "دی سٹرگل فار پاکستان" میں واضح کرتی ہیں کہ معاشی عدم استحکام کی اصل جڑ سیاسی اداروں کی کمزوری اور طاقت کے مراکز کے درمیان عدم توازن ہے۔ جب تک تمام اسٹیک ہولڈرز ایک متفقہ سیاسی فریم ورک پر سمجھوتہ نہیں کرتے معاشی اصلاحات محض عارضی ثابت ہوں گی۔ اسی طرح ڈیرن ایسیموگلو اور جیمز اے رابنسن اپنی شہرہ آفاق تصنیف "Why Nations Fail" میں ثابت کرتے ہیں کہ جامع معاشی ترقی کے لیے جامع سیاسی نظام پہلی شرط ہے۔

پاکستان کے تناظر میں جب تک سیاسی ڈائیلاگ کے ذریعے طاقت کی تقسیم کو عوامی نمائندگی سے نہیں جوڑا جاتامعاشی بدحالی ختم نہیں ہوگی۔ فرانسس فوکویاما اپنی کتاب "دی اوریجنز آف پولیٹیکل آرڈر" میں ریاست سازی کے لیے مضبوط ریاست، قانون کی بالادستی اور جمہوری جوابدہی کو لازم قرار دیتے ہیں۔ وہ بحث کرتے ہیں کہ سیاسی نظم کے بغیر معیشت کبھی پنپ نہیں سکتی۔

پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ جب بھی قیادت معاشی استحکام یا میثاقِ معیشت کی بات کرتی ہے تو سیاسی عدم استحکام اور عوام اور حکومت کے درمیان موجود خلیج کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ہم سیاست سے جڑے مسائل کو حل کیے بغیر معیشت کے لیے کوئی مستقل حل تلاش کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ وہ بڑا طبقہ جس نے ووٹ کے ذریعے نظام پر اعتماد کا اظہار کیا تھا آج خود کو بے وزن اور بے اختیار محسوس کر رہا ہے۔ جب عوام اور ریاست کے درمیان بداعتمادی کی خلیج گہری ہو جائے تو کوئی بھی معاشی پالیسی اپنی افادیت ثابت نہیں کر سکتی۔

آج ملکی معیشت عملاً عالمی مالیاتی اداروں کے سہارے کھڑی ہے اور عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دبے مزید تجربات کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ حکمرانی کا بحران آج جہاں کھڑا ہے اس کی بنیادی وجہ شفافیت کا فقدان اور غیر ضروری سیاسی محاذ آرائی ہے۔ آج ملک کو ان مدبر شخصیات کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے جو مشکل ترین حالات میں بھی تمام سیاسی مخالفین کو ایک میز پر بٹھا کر جمہوریت کو بچانے کی راہ نکال لیتے تھے۔ موجودہ دور میں ایک ایسے میثاق کی ضرورت ہے جو کسی ایک سیاسی جماعت یا گروہ کے مفاد کے لیے نہیں بلکہ پاکستان کے مستقل اور آنے والی نسلوں کے تحفظ کے لیے ہو۔

اگر ہم نے ماضی کی غلطیوں سے سبق نہ سیکھا تو آنے والا وقت مزید مشکلات لے کر آئے گا۔ جو ریاست کا نظام سیاسی انتہا پسندی، سیاسی محاذ آرائی، تناؤیا سیاسی دشمنی کی شکل اختیار کر لے تو اس میں بہتر سے بہتر معاشی پالیسیاں بھی ریاستی نظام کو مطلوبہ نتائج نہیں دے سکتیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی انتقام کی روش ترک کی جائے۔ تمام اہم ستون بشمول عدلیہ، مقتدرہ اور میڈیا مل کر ایک وسیع تر قومی ایجنڈے پر متفق ہوں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ذاتی انا کو قربان کرکے ایک ایسے "گرینڈ ڈائیلاگ" کا آغاز کیا جائے جو ملک کو اس سیاسی و معاشی دلدل سے نکال کر استحکام کی راہ پر گامزن کر سکے۔

Check Also

Difai Sanat Aur Maeeshat

By Hameed Ullah Bhatti