Thursday, 29 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Atiq Chaudhary
  4. Gas Chori: Jurm Kisi Ka, Saza Kisi Ko

Gas Chori: Jurm Kisi Ka, Saza Kisi Ko

گیس چوری: جرم کسی کا، سزا کسی کو

پاکستان میں توانائی کا بحران اب محض ایک معاشی مسئلہ نہیں رہا بلکہ ایک سنگین سماجی ناانصافی بن چکا ہے جہاں گیس چوری کی صورت میں جرم کوئی اور کرتا ہے اور اس کی سزا کسی اور کو ملتی ہے۔ جب ایک بااثر صنعت کار یا کمرشل صارف سسٹم میں نقب لگا کر کروڑوں روپے کی گیس چوری کرتا ہے تو اس کا خسارہ حکومت کی جیب سے نہیں بلکہ اس دیانتدار شہری کی جیب سے نکلتا ہے جو یخ بستہ سردی میں گیس نہ ہونے کے باوجود بل ادا کرنے پر مجبور ہے۔

ظلم یہ ہے کہ ریاست چور پکڑنے کے بجائے اس کے کئے کا بوجھ ان صارفین پر ڈال دیتی ہے جو قانون کی پاسداری کرتے ہیں۔ مہنگائی کی چکی میں پستا عام آدمی اب بنیادی ضرورتوں سے بھی محروم ہوتا جا رہا ہے۔ ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والا توانائی کا شعبہ ہمارے ہاں بدانتظامی، چوری اور کرپشن کا گڑھ بن چکا ہے۔

حالیہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ دو مالی سالوں میں ملک بھر میں 3 ارب 33 کروڑ روپے سے زائد کی گیس چوری ہوئی۔ یہ محض ایک ہندسہ نہیں بلکہ اس بدعنوان نظام کا منہ بولتا ثبوت ہے جو دیانتدار صارفین کی جیبوں پر ڈاکہ ڈال رہا ہے۔ توانائی کے شعبے کا سب سے بڑا ناسور "گردشی قرضہ" ہےجو اب ایک خوفناک عفریت بن کر معیشت کو نگل رہا ہے۔ موجودہ رپورٹوں کے مطابق صرف گیس کے شعبے کا گردشی قرضہ 3200 ارب روپے کی بلند ترین سطح تک پہنچ چکا ہے۔ جب گیس چوری ہوتی ہے یا بل ادا نہیں کیے جاتےتو اس سے پیدا ہونے والا مالی خسارہ گردشی قرضہ بڑھا دیتا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس چوری کا خمیازہ کسے بھگتنا پڑ رہا ہے؟ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ چوری بڑے صنعتی یونٹس اور کمرشل سطح پر ہوتی ہے جہاں بااثر افراد تکنیکی ہیرا پھیری، ناقص میٹرنگ اور غیر قانونی کنکشنز کے ذریعے قومی خزانے کو اربوں کا چونا لگاتے ہیں لیکن جب اس خسارے کو پورا کرنے کی بات آتی ہے تو حکومت کا رخ ہمیشہ متوسط طبقے کے گھریلو صارفین کی طرف ہوتا ہے۔ سردیاں آتے ہی گیس کے بلوں میں ہونے والا ہوشربا اضافہ عام آدمی کے لیے کسی قیامت سے کم نہیں ہوتا۔ لائن لاسز اور گردشی قرضوں کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے حکومت کے پاس سب سے آسان نسخہ قیمتوں میں اضافہ ہے۔

گزشتہ چند برسوں میں گیس اور بجلی کی قیمتوں میں جس بے رحمی سے اضافہ کیا گیا اس نے گھریلو بجٹ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ ایک طرف گیس کی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے چولہے ٹھنڈے پڑے ہیں اور انہیں کھانا بنانے کے لئے ایل این جی کا سلینڈر مہنگی قیمت پر بھروانا پڑتا ہے تاکہ بروقت بچے ناشتہ کرکے سکول یا دفتر جاسکیں، تو دوسری طرف صارفین کو ایسے بل بھیجے جا رہے ہیں جن کی ادائیگی ان کی مشکلات کو اور بڑھا دیتی ہے۔ یہ سراسر ناانصافی ہے کہ چوری بااثر طبقہ کرے اور اس کی سزا وہ دیانتدار شہری بھگتے جو وقت پر بل ادا کرتا ہے۔

گیس چوری کے پیچھے صرف بیرونی عناصر نہیں بلکہ محکموں کے اندر موجود کالی بھیڑیں بھی شامل ہیں۔ نگرانی کے ناقص نظام اور سسٹم کی عدم شفافیت نے جرائم پیشہ افراد کو شہہ دے رکھی ہے۔ جب تک گیس کمپنیوں کے اندر موجود سہولت کاروں کے خلاف گھیرا تنگ نہیں کیا جائے گایہ چوری ختم نہیں ہو سکتی۔ صنعتی شعبے میں ضابطوں کی خلاف ورزیوں پر آنکھیں بند کر لینا اورصرف قیمتیں بڑھانا مسئلے کا حل نہیں بلکہ بدانتظامی ختم کرنا اور پالیسیاں درست کرنا ضروری ہے۔

حکومت گیس چوری روکنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لے اور سمارٹ میٹرنگ کا نظام، بڑے صنعتی اور کمرشل صارفین کی کڑی نگرانی کی جائے اور جہاں چوری پکڑی جائے وہاں بھاری جرمانے کے ساتھ کڑی سزائیں دی جائیں۔ لائن لاسز کا بوجھ عام صارف پر منتقل کرنے کے بجائے متعلقہ افسران کو جوابدہ بنایا جائے۔ اگر آج اس نظام کی اصلاح نہ کی گئی تو گردشی قرضوں کا یہ بوجھ پورے ملک کو معاشی طور پر مفلوج کر دے گا۔ عوام اب مزید بوجھ اٹھانے کی سکت نہیں رکھتے انہیں ریلیف چاہیے، سزا نہیں۔

Check Also

Cricket Ki Mandi, Usoolon Ki Lash Aur Tanha Khara Pakistan

By Asif Masood