Thursday, 29 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Atiq Chaudhary
  4. Basant, Zinda Dilan e Lahore Ka Imtihan

Basant, Zinda Dilan e Lahore Ka Imtihan

بسنت، زندہ دلانِ لاہور کا امتحان

لاہور جسے زندہ دلانِ پنجاب کا مسکن کہا جاتا ہے اپنی مخصوص ثقافت، کھانوں اور تہواروں کی وجہ سے پوری دنیا میں اپنی پہچان رکھتا ہے۔ ان تمام رنگوں میں سب سے شوخ رنگ "بسنت" کا تھا جو برسوں پہلے عدالتی پابندیوں اور خونی ڈور کے خوف سے کہیں کھو گیا تھا۔ اب ایک طویل عرصے کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے فروری کے مہینے میں تین روزہ سرکاری بسنت فیسٹیول منانے کا اعلان کرکے لاہوریوں کو ایک بار پھر پیلے رنگ کی بہار اور "بو کاٹا" کے شور کی نوید سنائی ہے۔ جہاں اس فیصلے نے پتنگ بازی کے شوقین افراد کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیر دی ہیں وہیں انسانی جانوں کے تحفظ پر مامور حلقوں اور ماضی کے زخم خوردہ خاندانوں میں تشویش کی لہر بھی دوڑ گئی ہے۔

تاریخی طور پر بسنت محض ایک کھیل نہیں بلکہ پنجاب کے ثقافتی ورثے کا حصہ ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز کے مطابق یہ تہوار تقریباً 800 سال قبل شروع ہوا جو موسمِ بہار کی آمد کا استعارہ ہے۔ بسنت پنچمی کے نام سے منسوب یہ دن دراصل قدرت کے بدلتے رنگوں کا جشن ہے۔ جب کھیتوں میں سرسوں کے زرد پھول لہلہاتے ہیں اور سردی کی شدت کم ہونے لگتی ہے تو پنجاب کی دھرتی اپنے رب کا شکر ادا کرنے کے لیے بسنتی رنگ اوڑھ لیتی ہے۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور میں یہ تہوار اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ منایا جاتا تھا۔

شاہی قلعہ ہو یا اندرون شہر کی چھتیں، ہر طرف پیلے رنگ کی پگڑیاں، دوپٹے اور پتنگیں نظر آتی تھیں۔ یہ وہ وقت تھا جب بسنت کسی ایک مذہب یا گروہ کا نہیں بلکہ پورے پنجاب کا سانجھا تہوار تھا۔ پرانے لاہور میں بسنت کا منظر دیدنی ہوتا تھا۔ فروری کی خنک راتوں میں چھتوں پر ہالوجن لائٹس کی روشنی میں پتنگ بازی کا آغاز ہوتا تو پورا آسمان سفید پتنگوں سے بھر جاتا۔ ڈھول کی تھاپ، سپیکروں پر گونجتے بسنتی گیت اور چھتوں پر دیگوں میں پکتے زردہ چاول اور مٹن پلاؤ کی خوشبو ایک ایسا جادوئی ماحول تخلیق کرتی تھی کہ غیر ملکی سیاح کھچے چلے آتے تھے۔ لاہور کے ہوٹلوں میں مہینوں پہلے بکنگ ختم ہو جاتی تھی۔

یہ تہوار صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک مکمل معیشت تھا جس سے ہزاروں خاندانوں کا رزق وابستہ تھا۔ پتنگ بنانے والے، ڈور تیار کرنے والے اور چھوٹے دکاندار سال بھر اس ایک دن کا انتظار کرتے تھے تاکہ اپنے بچوں کا تن ڈھانپ سکیں۔ بدقسمتی سے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس معصوم کھیل میں خونی ڈور اور ہوائی فائرنگ کا زہر شامل ہوگیا۔ نائیلون کی ڈور (کیمیکل ڈور) اور دھاتی تار نے راہگیروں، بالخصوص موٹر سائیکل سواروں کے گلے کاٹنے شروع کر دیے جس کے باعث کئی گھروں میں خوشیوں کے بجائے صفِ ماتم بچھ گئی۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ایک بڑا طبقہ اس فیسٹیول کی مخالفت کر رہا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ جہاں فائرنگ سے نیندیں حرام ہوں اور معصوم بچوں کی جانیں داؤ پر لگی ہوں، وہاں ایسی تفریح کا کیا جواز؟ معترضین کے نزدیک انسانی جان کی قیمت کسی بھی جشن سے مقدم ہے اور وہ اسے محض ایک "خونی کھیل" قرار دیتے ہیں۔ پنجاب حکومت نےان تحفظات کا جواب ایک جامع "سیفٹی پلان" کی صورت میں دیا ہے۔ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ بسنت صرف 6، 7 اور 8 فروری کو سرکاری ضابطہ اخلاق کے تحت منائی جائے گی۔ اس بار لاہور کو ریڈ، ییلو اور گرین زونز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ سب سے اہم قدم 10 لاکھ بائیکوں پر مفت سیفٹی راڈکی تنصیب ہے تاکہ کسی کی جان کو خطرہ نہ ہو۔ اس کے علاوہ پتنگ کے سائز (35 انچ) اور گڈے کے سائز (40 انچ) کی حد مقرر کر دی گئی ہے۔ ممنوعہ ڈور استعمال کرنے پر پانچ سال قید اور پانچ ملین روپے تک جرمانہ بھی تجویز کیا گیا ہے۔

حکومتی اعلان کے مطابق اس بار بسنت کو منظم کرنے کے لیے 2150 مینوفیکچررز اور ٹریڈرز کو رجسٹرڈ کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ وہ پنجاب کو لڑائی جھگڑوں سے نکال کر دوبارہ خوشیوں کا گہوارہ بنانا چاہتی ہیں۔ اسی سلسلے میں 30 سال بعد ہارس اینڈ کیٹل شو کا احیا بھی کیا گیا ہے۔ بسنت کے موقع پر ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے 100 خصوصی کیمپ لگائے جائیں گے اور 4 ہزار پولیس اہلکار ڈیوٹی سرانجام دیں گے۔ یہ تمام اقدامات اس لیے کیے جا رہے ہیں تاکہ تفریح کا یہ موقع کسی سانحے میں تبدیل نہ ہو۔

حکومت نے عوامی سہولت کے لیے ایک غیر معمولی ٹرانسپورٹ پلان بھی تیار کیا ہے۔ بسنت کے دنوں میں اورنج لائن، میٹرو بس اور الیکٹرو بسوں پر سفر مکمل مفت ہوگا۔ اس کا مقصد شہریوں کو موٹر سائیکل کے استعمال سے روکنا ہے تاکہ وہ سڑکوں پر ڈور کا شکار ہونے سے محفوظ رہ سکیں۔ سی سی ٹی وی کیمروں اور ڈرونز کے ذریعے شہر کی مانیٹرنگ کی جائے گی اور کسی بھی خلاف ورزی پر فوری ایکشن لیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ کا یہ موقف کہ "پنجاب دل والوں کا صوبہ ہے اور عوام سے ان کی خوشیاں نہیں چھینی جانی چاہئیں" اپنی جگہ درست ہے، لیکن اس کی کامیابی کا دارومدار صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں پر نہیں بلکہ خود عوام پر ہے۔ اگر لاہوریوں نے اس بار بھی کیمیکل ڈور اور ہوائی فائرنگ کا سہارا لیا تو یہ خوبصورت روایت ہمیشہ کے لیے دفن ہو سکتی ہے۔ والدین اور سرپرستوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ممنوعہ اشیا سے دور رکھیں کیونکہ کسی کی جان لینا تفریح نہیں بلکہ جرم ہے۔

بسنت پنجاب کی روح ہے اور اس روح کو دوبارہ زندہ کرنے کا فیصلہ ایک جرات مندانہ قدم ہے۔ اس بار امتحان انتظامیہ اور لاہور کے شہریوں کا ہے۔ یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا حکومت اپنے سیفٹی پلان پر سو فیصد عملدرآمد کروا پاتی ہے یا نہیں۔ کیا پولیس ان کالی بھیڑوں کو پکڑ پائے گی جو پسِ پردہ خونی ڈور کا کاروبار کرتے ہیں؟ اگر 6 فروری کی رات لاہور کا آسمان صرف رنگین پتنگوں سے سجا رہا، ہوائی فائرنگ کی گونج کے بجائے ڈھول کی تھاپ سنائی دی اور کسی راہگیر کا خون نہ بہا تو یہ واقعی "خوشیوں کی واپسی" ثابت ہوگی۔

یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ خوشیاں کسی بھی معاشرے کے لیے آکسیجن کی حیثیت رکھتی ہیں، مگر یہ آکسیجن کسی دوسرے کا سانس روک کر حاصل نہیں کی جانی چاہیے۔ لاہور کی بسنت کو دوبارہ ایک عالمی برانڈ بنانے کے لیے ہمیں ضابطہ اخلاق کی پاسداری کرنی ہوگی۔ اگر ہم اس بار کامیاب ہو گئے تو نہ صرف لاہور کی رونقیں بحال ہوں گی بلکہ دنیا بھر سے سیاح ایک بار پھر "پنجاب کا حسن" دیکھنے کھچے چلے آئیں گے۔

Check Also

Cricket Ki Mandi, Usoolon Ki Lash Aur Tanha Khara Pakistan

By Asif Masood