Aalmi Aman Ka Naya Mehwar
عالمی امن کا نیا محور

عالمی افق پر بڑھتی ہوئی کشیدگی، مشرقِ وسطیٰ میں بڑے تصادم کے سائے اور بدلتے ہوئے نئے عالمی اتحاد اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ کرہ ارض ایک نئے نظمِ نو (New Order) کی تلاش میں ہے۔ ایسے ہیجان خیز ماحول میں، جہاں ایک طرف بارود کی بو ہے اور دوسری طرف مذاکرات کی میز، پاکستان کا کردار محض ایک تماشائی کا نہیں بلکہ ایک فعال، بااثر اور فیصلہ کن فریق کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ پاکستان نے ایک بار پھر اپنی غیر معمولی سفارتی بصیرت اور مدبرانہ حکمتِ عملی کے ذریعے دنیا کو ایک ممکنہ بڑے تصادم (ورلڈ وار تھری) کے دہانے سے واپس لانے میں وہ کلیدی کردار ادا کیا ہے جس کی گونج واشنگٹن سے تہران تک سنی جا رہی ہے۔
گزشتہ ہفتہ عالمی سیاست میں کسی رولر کوسٹر سے کم نہ تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متضاد بیانات نے پوری دنیا کو شش و پنچ میں مبتلا کیے رکھا۔ ایک طرف وہ ایران کے ساتھ امن معاہدے کی نوید سناتے رہے تو دوسری جانب اسی سانس میں فوجی حملوں کے الٹی میٹم بھی جاری کیے۔ ہیجان خیزی اس وقت عروج پر پہنچ گئی جب امریکہ نے ایران کے پاور پلانٹس پر حملے مؤخر کیے اور یہ دعویٰ سامنے آیا کہ امریکی حکام کے ایرانی ہم منصبوں کے ساتھ رابطے مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ اس غیر یقینی صورتحال میں جب پاکستان کے ثالث کے طور پر ابھرنے کی خبریں آئیں تو بحران سے نکلنے کے لیے سفارتی راستے کے امکانات مزید واضح ہو گئے۔
اسلام آباد اچانک عالمی امن کی کوششوں کا مرکز بن گیا، جہاں سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کی اہم بیٹھک ہوئی۔ اس چار فریقی اجلاس نے یہ پیغام دیا کہ خطے کے اہم ممالک جنگ کے خلاف ایک پیج پر ہیں اور تمام ریاستوں کی خودمختاری کا احترام ناگزیر ہے۔ اس عظیم سفارتی کامیابی کے پسِ منظر میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی غیر معمولی قیادت ایک نمایاں ترین ستون کے طور پر سامنے آئی ہے۔ انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دور اندیشی اور بروقت تزویراتی فیصلوں سے ان مشکل ترین حالات کو سنبھالا جہاں بظاہر تعطل کے سوا کچھ نہ تھا۔
صدر ٹرمپ اور فیلڈ مارشل کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو نے اس حقیقت پر مہر ثبت کر دی کہ عالمی طاقتیں پاکستان کی عسکری قیادت کی سنجیدگی اور اثر و رسوخ پر مکمل اعتماد رکھتی ہیں۔ فیلڈ مارشل کی قیادت میں ٹیم نے جس مربوط حکمتِ عملی اور خاموش سفارت کاری کا مظاہرہ کیا، اس نے ناممکن کو ممکن بنا دیا۔ اسی طرح وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی انتھک سفارتی کاوشوں نے پاکستان کو عالمی سطح پر ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر منوایا۔
پاکستان کی فعال سفارت کاری اور عالمی سطح پر مؤثر روابط نے اس پیش رفت کو وہ ٹھوس بنیاد فراہم کی جس کے نتیجے میں آج ایران اور امریکہ دونوں پاکستان کی وساطت پر بھروسہ کر رہے ہیں۔ پاکستان کی اس سفارتی برتری کا ایک عملی ثبوت آبنائے ہرمز سے پاکستانی پرچم بردار جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کا یقینی بننا ہے۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا یہ اعلان کہ روزانہ دو پاکستانی جہاز اس حساس آبی راستے سے گزریں گے، پاکستان کی تزویراتی اہمیت کا اعتراف ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسحاق ڈار کی سوشل میڈیا پوسٹ کا اسکرین شاٹ شیئر کرکے پاکستان کے بڑھتے ہوئے قد کاٹھ کو عالمی سطح پر مہمیز کر دیا۔ پاکستان کی ان تاریخی سفارتی کامیابیوں کی وجہ سے بھارت میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے۔
تصویر کا دوسرا رخ ابھی بھی تاریک ہے۔ ایک طرف امن کی بات ہو رہی ہے تو دوسری طرف امریکی میڈیا کے مطابق ساڑھے تین ہزار اضافی امریکی میرینز مشرقِ وسطیٰ پہنچ چکے ہیں اور جزیرہ خارگ (ایران کا اہم آئل ٹرمینل) پر زمینی حملے کی تیاریاں بھی زیرِ بحث ہیں۔ واشنگٹن کے یہ مکسڈ سگنلز ثابت کرتے ہیں کہ ٹرمپ گن بوٹس کے سائے میں مذاکرات کرنا چاہتے ہیں۔ ایران کی جانب سے ردِعمل تاحال محتاط بلکہ کسی حد تک تلخ ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے واضح کیا ہے کہ وہ ابھی مذاکرات کے لیے تیار نہیں اور اسے مارکیٹ میں ہیرا پھیری کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ تہران کا موقف ہے کہ ماضی میں مذاکرات کو اسرائیل اور امریکہ نے حملوں کے لیے بطور اسموک اسکرین استعمال کیا، اس لیے ان کا اعتماد بحال کرنا پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔
امریکہ نے پاکستان کے ذریعے جو 15 نکاتی امن منصوبہ بھیجا ہے، اسے تہران نے ایران کے سرنڈر کی فہرست قرار دے کر مسترد کر دیا ہے اور جواب میں اپنے 5 نکات پیش کیے ہیں جن میں جنگ کے نقصانات کا ازالہ اور خود مختاری کی تسلیم شامل ہے۔ اس ساری صورتحال میں تین ممکنہ منظرنامے ابھرتے ہیں۔ پہلا یہ کہ طاقت کے ذریعے ایران میں تبدیلی لائی جائے، جو کہ خطے کو افغانستان اور عراق سے بھی بڑے انتشار میں دھکیل دے گا۔ دوسرا یہ کہ سیاسی تصفیے کے بغیر طویل جنگ جاری رہے، جس سے عالمی معیشت تیل کی قلت کے باعث زمیں بوس ہو جائے گی اور تیسرا بہترین منظرنامہ وہ ہے جس کے لیے پاکستان کوشاں ہے، یعنی ایک جامع معاہدہ جہاں ایران کو سیکیورٹی کی ضمانت ملے۔
یہ راستہ مشکل ضرور ہے مگر خطے کے استحکام کا واحد حل یہی ہے۔ اسرائیل اس پورے عمل میں ایک اسپوائلر (کھیل بگاڑنے والا) کا کردار ادا کر رہا ہےاور جب تک اسے لگام نہیں دی جاتی، امن کا خواب شرمندہ تعبیر ہونا مشکل ہے۔ پاکستان کے لیے یہ ایک نادر لمحہ ہے۔ 1971 میں چین اور امریکہ کو قریب لانے والے پاکستان نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ عالمی طاقتوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایران نے اسلام آباد کو دیگر دارالحکومتوں پر اس لیے ترجیح دی ہے کیونکہ اسے لگتا ہے کہ پاکستان کی سرزمین اسرائیلی انٹیلی جنس موساد کے اثر و رسوخ سے پاک اور محفوظ ہے۔ اگر پاکستان اس ثالثی میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ نہ صرف بین الاقوامی سطح پر اس کا قد بلند کرے گا بلکہ ملکی سطح پر مذہبی اور نسلی ہم آہنگی کا باعث بھی بنے گا۔
بدلتی ہوئی عالمی بساط پر پاکستان اب محض ایک مہرہ نہیں بلکہ ایک اہم کھلاڑی بن کر ابھرا ہے۔ پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت کی تزویراتی بصیرت، سیاسی حکمت اور متحرک سفارت کاری نے ملک کو ایک نئے دور میں داخل کر دیا ہے۔ اصل امتحان ابھی باقی ہے۔ جہاں ہمیں عالمی سطح پر توازن برقرار رکھنا ہے، وہی داخلی سطح پر معیشت کو مستحکم کرنا اور عوام کے ساتھ اعتماد کے فقدان کو دور کرنا بھی لازم ہے۔
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اسے قدرت کی طرف سے دیا گیا ایک بہترین تحفہ ہے، جسے اگر صحیح معنوں میں استعمال کیا گیا تو پاکستان نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں امن کا ضامن بنے گا بلکہ عالمی معیشت اور سیکیورٹی میں بھی اپنا مقام حاصل کر لے گا۔ دنیا دیکھ رہی ہے کہ کیا اسلام آباد کا یہ امن مشن تاریخ کا دھارا موڑنے میں کامیاب ہوتا ہے یا نہیں مگر ایک بات طے ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کا مستقبل اب کبھی پہلے جیسا نہیں رہے گا۔

