Waqt: Zindagi Ka Ghair Maree Sarmaya
وقت: زندگی کا غیر مرئی سرمایہ

ایک بزرگ درویش کے پاس ایک نوجوان حاضر ہوا اور عرض کیا: "حضرت! میرے پاس سب کچھ ہے مگر سکون نہیں"۔ درویش نے مسکرا کر مٹھی میں ریت بھر لی اور کہا، "یہ تمہاری زندگی ہے"۔ پھر مٹھی کو آہستہ آہستہ کھولا تو ریت کے ذرے نیچے گرنے لگے۔ فرمایا، "یہ وقت ہے، جو تمہارے اختیار کے بغیر بھی تم سے جدا ہوتا رہتا ہے۔ اگر تم اسے سنبھالنا نہ سیکھو تو سب کچھ ہوتے ہوئے بھی تم خالی رہو گے"۔ نوجوان کی آنکھوں میں ایک نئی روشنی جاگ اٹھی، گویا اس نے پہلی بار وقت کو دیکھ لیا ہو، حالانکہ وہ کبھی دکھائی نہیں دیتا۔
وقت، اللہ تعالیٰ کی تخلیقات میں ایک ایسی عظیم اور پراسرار تخلیق ہے جو نہ صرف انسانی زندگی کا پیمانہ ہے بلکہ خود زندگی کا دوسرا نام بھی ہے۔ یہ ایک ایسا دریا ہے جو خاموشی سے بہتا ہے، جس کی موجیں سنائی نہیں دیتیں مگر اپنے اندر پوری کائنات کی کہانی سموئے ہوئے ہوتی ہیں۔ وقت نہ ٹھہرتا ہے، نہ پلٹتا ہے اور نہ کسی کے لیے رعایت برتتا ہے۔ یہ اپنے خالق کے مقرر کردہ راستے پر مسلسل رواں دواں ہے اور انسان اپنی تمام تر قوت، علم اور اختیار کے باوجود اس کی رفتار کو نہ کم کر سکتا ہے اور نہ ہی اسے قید کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وقت کو اللہ کی ایک بڑی نشانی کہا گیا ہے، ایک ایسی نشانی جو ہمیں ہر لمحہ اپنی حقیقت، اپنی کمزوری اور اپنے انجام کی یاد دلاتی ہے۔ وقت کا ہر گزرتا لمحہ دراصل ہمارے وجود کے کسی نہ کسی حصے کو اپنے ساتھ لے جاتا ہے اور ہم شعوری یا غیر شعوری طور پر اس کے ساتھ سفر کرتے رہتے ہیں۔
انسانی زندگی کے مدارج، اس کے عروج و زوال، اس کی کامیابیاں اور ناکامیاں، سب وقت کے دامن میں بندھے ہوئے ہیں۔ وقت ہی وہ آئینہ ہے جس میں انسان اپنی حقیقت کو دیکھ سکتا ہے، بشرطیکہ وہ دیکھنے کی بصیرت رکھتا ہو۔ جو لوگ وقت کو محض گزرنے والی شے سمجھتے ہیں، وہ دراصل اپنی زندگی کو بے مقصد بہنے دیتے ہیں، جبکہ جو لوگ وقت کو ایک امانت، ایک نعمت اور ایک قوت سمجھتے ہیں، وہ اسے سنوار کر اپنی تقدیر کا رخ بدل دیتے ہیں۔ وقت کی قدر کرنے والے لوگ دراصل اپنی ذات کی قدر کرتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ زندگی کا ہر لمحہ ایک موقع ہے، سیکھنے کا، سنورنے کا اور کچھ کر دکھانے کا۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں سے ایک عام انسان غیر معمولی بننے کا سفر شروع کرتا ہے۔
محترم ڈاکٹر حسن صہیب مراد جیسے اہلِ دانش کی زندگی اس حقیقت کا عملی نمونہ تھی کہ وقت کو کیسے برتا جائے۔ انہوں نے وقت کو محض گزرنے والی ساعتوں کا مجموعہ نہیں سمجھا بلکہ اسے ایک زندہ حقیقت کے طور پر اپنایا۔ ان کے نزدیک وقت ایک ایسی قوت تھی جو انسان کو بلندیوں تک لے جا سکتی ہے، اگر اسے صحیح انداز میں استعمال کیا جائے۔ وہ وقت کی تعبیر پانچ سادہ مگر گہرے الفاظ میں کرتے تھے: ایمان، علم، عمل، وقت، زندگی۔ یہ پانچ الفاظ دراصل ایک مکمل فلسفۂ حیات ہیں، جو انسان کو اس کے مقصدِ وجود سے جوڑتے ہیں۔ ایمان انسان کو سمت دیتا ہے، علم اسے روشنی فراہم کرتا ہے، عمل اسے حرکت دیتا ہے، وقت اسے موقع دیتا ہے اور زندگی ان سب کا مجموعہ بن کر ایک مکمل داستان رقم کرتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کا کمال یہ تھا کہ وہ نہ صرف خود اس اصول پر عمل پیرا تھے بلکہ ہر ملنے والے کو بھی اس شعور سے روشناس کرواتے تھے، گویا وہ وقت کے سفیر تھے، جو لوگوں کو زندگی کی اصل قدر سمجھانے آئے تھے۔
آج کے تیز رفتار دور میں، جہاں مصروفیت کو کامیابی کا معیار سمجھ لیا گیا ہے، وقت کی اصل حقیقت کہیں گم ہوتی جا رہی ہے۔ لوگ وقت گزارنے کے عادی ہو گئے ہیں، وقت بنانے کے نہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وقت نہ گزارا جاتا ہے اور نہ بنایا جاتا ہے، بلکہ صرف استعمال کیا جاتا ہے، یا تو ضائع کرکے، یا سنوار کر۔ جو قومیں اور افراد وقت کی قدر کرنا سیکھ لیتے ہیں، وہ تاریخ میں اپنا نام رقم کر جاتے ہیں، جبکہ جو اسے نظر انداز کرتے ہیں، وہ وقت کے دھارے میں گم ہو جاتے ہیں۔ وقت ایک خاموش گواہ ہے، جو ہمارے ہر عمل کو محفوظ کر رہا ہے اور ایک دن یہی وقت ہمارے حق یا ہمارے خلاف گواہی دے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم وقت کو ایک ذمہ داری سمجھیں، ایک امانت جانیں اور اسے اس انداز میں برتیں کہ جب ہم ماضی کی طرف دیکھیں تو ہمیں ندامت نہیں، بلکہ اطمینان نصیب ہو۔
وقت دراصل زندگی کا وہ سرمایہ ہے جسے نہ خریدا جا سکتا ہے، نہ ذخیرہ کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی واپس پایا جا سکتا ہے۔ یہ ایک ایسا خزانہ ہے جو ہر انسان کو برابر مقدار میں دیا جاتا ہے، مگر اس کے استعمال کا فرق ہی انسانوں کو ایک دوسرے سے ممتاز کرتا ہے۔ کوئی اسے فضولیات میں گنوا دیتا ہے اور کوئی اسے علم، عمل اور خدمت میں لگا کر اپنی زندگی کو بامعنی بنا لیتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کو یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ وہ وقت کا غلام بنے گا یا اسے اپنا خادم بنائے گا۔ جو شخص وقت کو سمجھ لیتا ہے، وہ دراصل زندگی کو سمجھ لیتا ہے اور جو زندگی کو سمجھ لیتا ہے، وہ اپنی منزل کو پا لیتا ہے۔
یہ مختصر تحریر دراصل ایک یاد دہانی ہے، اپنے لیے بھی اور دوسروں کے لیے بھی، کہ وقت کی قدر کی جائے، اسے ضائع ہونے سے بچایا جائے اور اسے ایک بامقصد زندگی کی تعمیر میں صرف کیا جائے۔ اگر ہم نے وقت کو سنبھال لیا تو زندگی خود سنور جائے گی اور اگر وقت ہاتھ سے نکل گیا تو پھر کچھ بھی باقی نہیں رہے گا سوائے حسرتوں کے۔
وقت کی ریت مٹھی سے پھسلتی ہی گئی
زندگی ہاتھ میں تھی مگر چلتی ہی گئی
ہم نے چاہا کہ اسے قید میں کر لیں کسی دن
پر یہ زنجیروں سے باہر ہی نکلتی ہی گئی
ایک لمحہ بھی نہ ٹھہرا یہ مسافر بن کر
اپنی رفتار میں ہر شے کو بدلتی ہی گئی
جو اسے تھام نہ پائے وہ خسارے میں رہے
جو سنبھل کر چلے، قسمت بھی سنورتی ہی گئی
وقت کو جان لیا جس نے حقیقت کی طرح
اس کی ہر سانس عبادت میں ڈھلتی ہی گئی

