Wednesday, 28 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Waqar o Jalal Ka Paikar, Steve Waugh

Waqar o Jalal Ka Paikar, Steve Waugh

وقار و جلال کا پیکر، اسٹیو وا

اسٹیو وا کرکٹ میں خاموش عظمت کا استعارہ تھے۔ نہ شور، نہ نمود، بس وقار۔ وہ ایک کم گو مگر باجلال کرکٹر تھے جن کی موجودگی ہی مخالف پر دباؤ ڈال دیتی تھی۔ ان کی شخصیت وقار و جلال کا پیکر تھی، جہاں الفاظ کم اور اثر زیادہ تھا۔ کرکٹ کی تاریخ میں اسٹیو وا عظمت آمیز سادگی کی روشن مثال ہیں۔ اسٹیو وا کا کھیل اعلان نہیں تھا، فیصلہ تھا اور ان کی شخصیت خاموش مگر رعب دار جلال کا نام۔

"ٹی ٹوئنٹی کی وسعتیں لا محدود ہیں، آپ کا تخیل ہی آپ کی حد ہے"۔

آسٹریلیا کے سابق کپتان اور اب یورپی ٹی ٹوئنٹی پریمیئر لیگ میں ایک فرنچائز کے شریک مالک، مختصر ترین فارمیٹ کے پُرجوش حامی، کا یہ خوبصورت انٹرویو، ناغراج گولاپڈی نے 24 جنوری 2026 کو لیا۔ جو عظیم سٹیو وا کی چابک دست کرکٹنگ فہم و فراست اور شعور و بصیرت کی ایک جیتی جاگتی تصویر ہے۔ سٹیو کی فہم و فراست نے مشکل حالات میں بھی اسے درست فیصلہ کرنے کی راہ دکھائی۔

اسٹیو وا کہتے ہیں کہ "یورپی ٹی ٹوئنٹی لیگ محض یورپی کرکٹ کی دلجوئی کے لیے علامتی اقدام نہیں۔ یہ اس سے کہیں آگے کی بات ہے"۔

اسٹیو وا کی کرکٹ میں کامیابی کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ، ہر وہ کام کر گزرتے تھے جن پر دوسرے کھلاڑی یا تو تذبذب کا شکار رہتے یا کبھی کرنے کی جرأت ہی نہیں کرتے تھے۔ 1980 کی دہائی میں بطور نوجوان کرکٹر وہ میدان کے ہر گوشے میں تیزی سے رنز بنانے کی صلاحیت رکھتے تھے، ویوین رچرڈز جیسے عظیم بلے باز کو ایک اوور میں ایک سے زیادہ بار باؤنسر پھینکنے سے نہیں گھبراتے تھے، وہ سلوَر بال کے ابتدائی موجدوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ایک ایسی گیند جسے انہوں نے 1987 کے ورلڈ کپ میں آسٹریلیا کی فتح کے دوران نہایت مؤثر انداز میں استعمال کیا۔

یوں یہ بات حیران کن نہیں کہ اسٹیو وا ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی جانب مائل ہیں۔ ایک ایسا فارمیٹ جس کے بارے میں ان کا ماننا ہے کہ یہ کھلاڑیوں کو تجربات کی کھلی آزادی فراہم کرتا ہے۔ اسی ہفتے اسٹیو وا نے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں باقاعدہ قدم رکھا، جب وہ نئی قائم ہونے والی یورپی ٹی ٹوئنٹی پریمیئر لیگ (ETPL) میں ایمسٹرڈم فلیمز فرنچائز کے شریک مالک بنے، جو 26 اگست سے شروع ہونے جا رہی ہے۔

سوال: آپ اپنے کیریئر کے ابتدائی حصے میں خاصے شوخ اور جارح مزاج کرکٹر تھے۔ آپ تمام اسٹروکس کھیلتے تھے اور بیک آف دی ہینڈ سلوَر بال کے اولین استعمال کرنے والوں میں تھے۔ آج کے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں کون سی مہارتیں آپ کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہیں؟

اسٹیو وا: مجھے خوشی ہے کہ آپ نے سلوَر بال کا ذکر کیا۔ درحقیقت، یہ سلوَر بال میں نے ہی ایجاد کی تھی۔ میں پہلا شخص تھا جس نے یہ گیند کروائی۔ اس کا تذکرہ کرنے کا شکریہ۔ اکثر لوگ یہ بات بھول جاتے ہیں۔

میں ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کھیلنا پسند کرتا ہوں کیونکہ یہ کھلاڑی کو آزمانے، نئے تجربے کرنے، روایت سے ہٹ کر سوچنے، ماضی کو ایک طرف رکھ کر مستقبل تخلیق کرنے کا موقع دیتا ہے۔ ایک کرکٹر کے لیے یہ بے حد پُرکشش بات ہے۔

مجھے یہ بات بہت پسند ہے کہ آج کے بلے باز نئی نئی شاٹیں ایجاد کر رہے ہیں۔ گیند باز ایسی حیرت انگیز سلوَر بالز کرا رہے ہیں جو پہلے کبھی دیکھی نہیں گئیں۔ فیلڈرز کی پھرتی، باؤنڈری پر ہوا میں اچھلتے ہوئے کیچ لینا، گیند کو اندر اچھالنا اور دوبارہ پکڑ لینا۔ یہ سب دیکھنا واقعی مسحور کن ہے۔ ٹی ٹوئنٹی کی وسعتیں لا محدود ہیں، آپ صرف اپنی تخیل کی حد تک محدود ہیں۔

مجھے یاد ہے، جب باب سمپسن ہمارے کوچ تھے اور اگر نیٹس میں کوئی کھلاڑی ریورس سویپ کھیلنے کی کوشش کرتا، جو 1980 کی دہائی کے اواخر میں نیا نیا آیا تھا، تو اسے فوراً نیٹس سے باہر نکال دیا جاتا۔ اس کا سیشن وہیں ختم ہو جاتا۔ ایسے شاٹس کھیلنے کی اجازت نہیں تھی۔ اس لحاظ سے میں آج کے کھلاڑیوں سے تھوڑا حسد کرتا ہوں، کیونکہ وہ جو چاہیں آزما سکتے ہیں اور اگر شاٹ کامیاب ہو جائے تو وہ ایک نئی ضرب ایجاد کر دیتے ہیں، جو ایک شاندار بات ہے۔

سوال: آپ کے پاس سلوَر بال کی کتنی اقسام تھیں؟

اسٹیو وا: ایک ہی، کیونکہ وہ کام کر جاتی تھی! میں اسی پر قائم رہا۔

ویسے عمر کے ساتھ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ لگتا تھا ہر گیند ہی سلوَر بال ہے، اب تیز گیند کی ضرورت ہے! لیکن ابتدا میں یہ واقعی ایک نیا ہتھیار تھا۔ میں اور سائمن او ڈونل دونوں سلوَر بال کرا رہے تھے۔ میں گیند کو ہاتھ کی پشت سے چھوڑتا تھا اور سائمن ہاتھ کے پہلو سے۔ یہ 1987 کا ورلڈ کپ تھا، ایڈن گارڈنز میں ایک لاکھ تماشائیوں کے سامنے۔ اس وقت یہ اپنے دور سے کہیں آگے کی سوچ تھی، کیونکہ ہمارے پاس دو ایسے گیند باز تھے جو دو مختلف انداز کی سلوَر بال کرا رہے تھے، جن سے دوسری ٹیمیں بالکل ناواقف تھیں۔

سوال: اگر آپ آج ٹی ٹوئنٹی کھیل رہے ہوتے تو کس کردار میں خود کو بہترین سمجھتے؟

اسٹیو وا: میں تو سب کچھ کرنا چاہتا! غالباً ایک آل راؤنڈر بیٹر کے طور پر۔ مجھے یہ چیلنج بہت پسند آتا۔ آپ درست کہتے ہیں۔ جوانی میں، میں بہت جارح مزاج کھلاڑی تھا، لیکن ہماری ٹیسٹ ٹیم کو ایلن بارڈر جیسے ایسے بلے بازوں کی ضرورت تھی جو ڈٹ کر کھیلیں، کیونکہ جب میں نے آغاز کیا تو ہم جیتنے والی ٹیم نہیں تھے۔ اسی ضرورت نے میرے کھیل کو شکل دی اور میں نے اپنا انداز بدلا۔ لیکن اگر میں ٹی ٹوئنٹی کھیلتا تو میں یقیناً نئے شاٹس آزمانے، مختلف سلوَر بالز کرنے والوں میں سب سے آگے ہوتا۔ یہ کھیلنا واقعی بہت لطف اندوز ہوتا۔

سوال: ٹی ٹوئنٹی نے کرکٹ کے لیے کون سی ایک چیز بہتر کی اور کون سی ایک چیز بدتر کی؟

اسٹیو وا: اس نے کرکٹ میں نئے لوگوں کو شامل کیا ہے۔ بہت سے لوگ جو ٹی ٹوئنٹی دیکھنے آتے ہیں، انہوں نے اس سے پہلے کبھی کرکٹ نہیں دیکھی ہوتی۔ جیسے ہی وہ ٹی ٹوئنٹی دیکھتے ہیں، کہتے ہیں: "یہ تو لاجواب ہے!" پھر وہ آہستہ آہستہ ون ڈے یا ٹیسٹ کرکٹ کی طرف بھی آ جاتے ہیں۔ اس طرح ٹیسٹ میچز کے ناظرین میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

خطرہ یہ ہے کہ فرنچائز لیگز کی بھرمار کے باعث ٹیسٹ میچز کی تعداد کم ہو سکتی ہے۔ اسی لیے ہم چاہتے ہیں کہ یہ ETPL ایک بامعنی مقابلہ ہو۔ یہ محض یورپی کرکٹ کی حمایت میں ایک علامتی قدم نہیں۔ ہمارا ہدف ہے کہ یہ دنیا کی بہترین لیگز میں شامل ہو بلکہ ممکن ہو تو سب سے بہترین۔ یہ یقیناً بڑے خواب ہیں، مگر معیار ہمیشہ بلند رکھنا چاہیے۔

میں یہ ضرور چاہتا ہوں کہ ٹیسٹ کرکٹ زندہ رہے۔ میں ٹیسٹ کرکٹ سے محبت کرتا ہوں۔ اگرچہ مجھے ٹی ٹوئنٹی دیکھنے میں بھی مزہ آتا ہے، لیکن میری اصل وابستگی ٹیسٹ کرکٹ سے ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ ٹیسٹ کرکٹ نہ صرف باقی رہے بلکہ پھلے پھولے۔

کچھ کھلاڑی محض رنز یا فتوحات سے نہیں پہچانے جاتے، وہ اپنے عہد کی فکری سمت متعین کرتے ہیں۔ اسٹیو وا ان معدودے چند ناموں میں شامل ہیں جنہوں نے کرکٹ کو صرف کھیل نہیں بلکہ کردار، جرات اور تخلیقی آزادی کا استعارہ بنایا۔ وہ روایت کے احترام کے ساتھ جدت کی جسارت کا نام ہے۔ ایک ایسا نام جو ماضی سے جڑا رہ کر مستقبل کی طرف دیکھتا ہے۔

وہی تھا جو دباؤ میں بھی سر اٹھا کے کھیلا
اندھیری پچ پہ اس نے چراغ سا جلا کے کھیلا

نہ شورِ داد کا محتاج، نہ ہجوم کا سہارا
وہ اپنی ضد، اپنے یقین کو ساتھ لے کے کھیلا

جہاں روایت نے کہا، بس اب یہی قرینہ ہے
وہیں وہ ایک نیا راستہ بنا کے کھیلا

سلوَر گیند میں چھپا تھا اس کی فکر کا ہنر
وہ وقت کو بھی اپنی انگلیوں پہ لا کے کھیلا

اسٹیو وا، نام نہیں، ایک رویّہ، ایک عہد تھا
جسے ہرا سکے نہ موسم، وہ اس ادا سے کھیلا

Check Also

Rangeelay Hukumran

By Shahid Mehmood