Taleem, Insaf Aur Zawal Ka Sawal
تعلیم، انصاف اور زوال کا سوال

محترم ذوالفقار احمد چیمہ صاحب کا 29 اپریل کا کالم محض ایک تعلیمی اور انتظامی مسئلے کی نشاندہی نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی رویّوں، ترجیحات اور نظامی خرابیوں کا ایک آئینہ ہے جس میں ہم سب اپنی اپنی صورتیں دیکھ سکتے ہیں۔ یہ بات اب کسی دلیل کی محتاج نہیں رہی کہ قوموں کی ترقی کا پہلا زینہ تعلیم ہے اور تعلیم کا مرکزی ستون استاد ہے، مگر ہمارے ہاں یہ ستون رفتہ رفتہ کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ چیمہ صاحب نے سیالکوٹ کی ویمن یونیورسٹی کے حوالے سے جس درد کا اظہار کیا، وہ دراصل پورے ملک کے تعلیمی نظام کی کہانی ہے جہاں فیصلے تعلیمی ماہرین کے بجائے بیوروکریسی اور سیاسی مفادات کے تابع ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ المیہ صرف ایک ادارے یا ایک شہر تک محدود نہیں یہ پورے صوبے بلکہ پورے ملک میں پھیلا ہوا ہے۔
پنجاب کے ترقیاتی نقشے پر اگر نظر دوڑائی جائے تو ایک عجیب عدم توازن دکھائی دیتا ہے۔ کچھ شہر، جیسے لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور گجرات، مسلسل ترقیاتی منصوبوں کا مرکز بنے ہوئے ہیں جبکہ جنوبی اور مغربی پنجاب کے وہ علاقے، اٹک، تلہ گنگ، میانوالی، بھکر، راجن پور، ڈیرہ غازی خان وغیرہ، جو دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ واقع ہیں، بارہا توجہ دلانے کے باوجود بنیادی ترقیاتی حقوق سے محروم ہیں۔ یہ کوئی حسد یا مخالفت کی بات نہیں کہ ایک شہر ترقی کرے تو دوسرے کو دکھ ہو، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ ترقی کا حق سب کا برابر ہے۔ اگر وسائل کی تقسیم میں انصاف نہ ہو تو احساسِ محرومی جنم لیتا ہے اور یہی احساس آگے چل کر سماجی بے چینی اور قومی کمزوری کا باعث بنتا ہے۔ ایک متوازن ترقی ہی وہ راستہ ہے جو ایک مضبوط اور متحد معاشرہ تشکیل دے سکتا ہے۔
تعلیم کے میدان میں بھی یہی عدم توازن نظر آتا ہے۔ کچھ اداروں کو وسائل، زمینیں اور سہولیات میسر ہیں، جبکہ دیگر ادارے بنیادی ضروریات کے لیے بھی ترستے ہیں۔ سیالکوٹ ویمن یونیورسٹی کی زمین کے حوالے سے اٹھنے والی بحث اسی عدم توازن کی ایک مثال ہے، جہاں ایک تعلیمی مقصد کے لیے مختص زمین کو دیگر منصوبوں کے لیے استعمال کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف آئینی اور قانونی اصولوں کے خلاف ہے بلکہ اخلاقی طور پر بھی ایک سنگین سوال کھڑا کرتا ہے کہ کیا ہم واقعی تعلیم کو اپنی اولین ترجیح سمجھتے ہیں یا یہ محض تقریروں اور بیانات تک محدود ایک نعرہ ہے؟
تاہم، اس سارے منظرنامے کا ایک اور پہلو بھی ہے جس سے صرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا اور وہ ہے خود اساتذہ کا کردار۔ ہم بار بار یہ کہتے ہیں کہ استاد کو عزت دی جائے، اسے معاشرے میں اعلیٰ مقام دیا جائے اور یہ بالکل درست مطالبہ ہے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا ہمارے اساتذہ اپنی ذمہ داریاں اسی جذبے، دیانت اور محنت سے ادا کر رہے ہیں جس کی توقع ان سے کی جاتی ہے؟
ذاتی تجربات بعض اوقات بڑے تلخ ہوتے ہیں اور یہی تلخی ایک بڑی حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے۔ ایک باپ کے طور پر جب آپ اپنے بیٹے کی اعلیٰ سرکاری انجنیئرنگ یونیورسٹی میں، جس کی فیکلٹی کی اکثریت پی ایچ ڈیز پر مشتمل ہو، تعلیم کے مایوس کن نتائج دیکھتے ہیں، جب آپ بار بار متعلقہ حکام کو متوجہ کرتے ہیں مگر کوئی شنوائی نہیں ہوتی، جب شکایت کرنے پر اصلاح کے بجائے ناراضی اور خاموشی اختیار کی جاتی ہے، تو یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ خرابی کہاں ہے؟
یہ رویہ کہ شکایت کو دھمکی سمجھا جائے اور جواب دینا بھی گوارا نہ کیا جائے، دراصل اسی بیوروکریٹک ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جس پر ہم اکثر تنقید کرتے ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ یہ رویہ اب تعلیمی اداروں میں بھی سرایت کرتا جا رہا ہے۔ استاد، جو کبھی رہنمائی، شفقت اور علم کا استعارہ ہوتا تھا، اب بعض جگہوں پر محض ایک سرکاری اہلکار بن کر رہ گیا ہے جس کے لیے ذمہ داری سے زیادہ اختیار اہم ہوگیا ہے۔ یہ تبدیلی نہ صرف طالب علم کے مستقبل کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک خطرے کی گھنٹی ہے۔ کیونکہ جب استاد اپنا کردار کھو دیتا ہے تو قوم اپنی سمت کھو دیتی ہے۔
دنیا کی ترقی یافتہ اقوام کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جہاں استاد کو سب سے زیادہ عزت دی جاتی ہے، مگر اس عزت کے ساتھ سخت احتساب بھی موجود ہوتا ہے۔ وہاں استاد ہونا ایک اعزاز بھی ہے اور ایک ذمہ داری بھی، جس سے غفلت برتنے کی اجازت نہیں۔ ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ ہم نہ تو مکمل عزت دے پاتے ہیں اور نہ ہی مؤثر احتساب کا نظام قائم کر پاتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک طرف قابل اساتذہ مایوس ہو جاتے ہیں اور دوسری طرف غیر ذمہ دار عناصر پورے نظام کو کمزور کر دیتے ہیں۔
اگر ہم واقعی ترقی چاہتے ہیں تو ہمیں دو بنیادی اصولوں پر سنجیدگی سے عمل کرنا ہوگا: پہلا، وسائل اور ترقی کے مواقع کی منصفانہ تقسیم تاکہ ہر خطہ اپنے جائز حق سے مستفید ہو سکے اور دوسرا، تعلیم کو حقیقی معنوں میں اولین ترجیح دینا، جس میں استاد کو عزت بھی دی جائے اور اس سے جواب دہی بھی لی جائے۔ استاد کو بیوروکریٹ نہیں بلکہ ایک رہنما ہونا چاہیے، ایسا رہنما جو نہ صرف علم دے بلکہ کردار بھی تشکیل دے۔
آخرکار، یہ ایک اجتماعی ذمہ داری ہے۔ حکومت، تعلیمی ادارے، اساتذہ، والدین اور خود طلبہ، سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ محض کالم لکھنے یا شکایت کرنے سے تبدیلی نہیں آئے گی، بلکہ مسلسل توجہ، مکالمہ اور عمل سے ہی بہتری ممکن ہے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ اگر ہم نے بروقت اپنے رویوں کو درست کر لیا تو وہ دن دور نہیں جب ہمارے تعلیمی ادارے واقعی ترقی کی علامت بنیں گے اور ہمارا معاشرہ علم، انصاف اور توازن کی بنیاد پر آگے بڑھے گا۔

