Roghan e Fasforas Aur Shayar e Azam
روغنِ فاسفورس اور شاعرِ اعظم

ایک قدیم حکایت ہے کہ ایک درویش کے پاس لوگ اپنے دکھ لے کر آتے تھے۔ وہ نہ تو طبیب تھا اور نہ ہی کوئی مشہور عالم، مگر اس کے پاس ایک چھوٹی سی شیشی ہوا کرتی تھی جسے وہ ہر مریض کے ہاتھ میں تھما دیتا اور کہتا: "یہ دوا نہیں، تمہارا یقین ہے، اسے سنبھال کر رکھو، شفا خود راستہ تلاش کر لے گی"۔ حیرت یہ تھی کہ اکثر لوگ واقعی شفا پا لیتے تھے۔ ایک دن کسی نے پوچھا: "بابا! اس شیشی میں آخر ہے کیا؟" درویش مسکرایا اور بولا: "کچھ بھی نہیں، سوائے اس کے کہ تم اسے کچھ سمجھ لیتے ہو"۔ یہی انسانی نفسیات کا وہ پہلو ہے جو لفظ، خیال اور نسبت کو غیر معمولی طاقت عطا کرتا ہے۔
برصغیر کی علمی و ادبی فضا میں بھی ایسے لطیف مگر معنی خیز واقعات بکھرے پڑے ہیں، جن میں ظرافت، ذہانت اور تہذیبی نزاکت ایک ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔ انہی میں ایک دلکش واقعہ خواجہ حسن نظامی اور علامہ محمد اقبال کے درمیان پیش آیا۔ خواجہ صاحب نے اپنے اخبار "منادی" میں ایک بار یہ رائے ظاہر کی کہ وہ اقبال کو ہندوستان کا عظیم شاعر نہیں سمجھتے۔ یہ جملہ محض تنقید نہیں تھا بلکہ اس دور کی ادبی فضا میں ایک ہلچل پیدا کرنے والا بیان تھا، کیونکہ اقبال اپنی فکری گہرائی اور شعری عظمت کے باعث پہلے ہی ایک نمایاں مقام حاصل کر چکے تھے۔
اسی دوران اقبال کو گھٹنوں میں تکلیف لاحق ہوئی۔ خواجہ حسن نظامی، جو اپنی طبّی دلچسپیوں کے باعث مختلف روغن اور نسخے تیار کیا کرتے تھے، نے ازراہِ ہمدردی "روغنِ فاسفورس" اقبال کی خدمت میں بھیجا۔ یہ ایک انسانی جذبہ تھا، ادبی اختلاف اپنی جگہ، مگر درد کی شراکت اپنی جگہ۔ اقبال نے اس روغن کو استعمال کیا اور انہیں افاقہ محسوس ہوا۔ انہوں نے شکریہ ادا کرنے کے لیے ایک خط لکھا، جس میں محض ایک سادہ سا اعتراف تھا کہ "آپ کے روغن سے فائدہ ہوا ہے"۔
مگر کہانی یہاں ایک دلچسپ موڑ لیتی ہے۔ خواجہ حسن نظامی نے اس خط کو اپنے اخبار "منادی" میں شائع کر دیا اور ساتھ یہ تاثر دیا کہ دیکھئے، شاعرِ اعظم ڈاکٹر اقبال بھی ہمارے روغن کی تاثیر کے معترف ہیں۔ گویا جس شخصیت کو وہ پہلے "عظیم شاعر" ماننے سے گریزاں تھے، اسی کے نام کو اپنے روغن کی تشہیر کے لیے "شاعرِ اعظم" کے لقب کے ساتھ پیش کر دیا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسانی رویّوں کی پیچیدگی، خود غرضی کی لطیف صورتیں اور موقع کی مناسبت سے بدلتے ہوئے معیارات ایک ساتھ نمایاں ہو جاتے ہیں۔
جب اقبال نے "منادی" میں یہ اشتہار نما اشاعت دیکھی تو انہوں نے ایک جملہ کہا جو اپنی سادگی میں گہری طنزیہ معنویت رکھتا ہے: "شکر ہے خواجہ صاحب کے روغنِ فاسفورس نے مجھے شاعرِ اعظم تو بنا دیا"۔ یہ جملہ محض ایک لطیفہ نہیں بلکہ ایک آئینہ ہے، جس میں انسانی رویّوں کی حقیقت صاف نظر آتی ہے۔ اقبال نے نہ تو غصہ کیا، نہ شکایت، بلکہ ایک ایسی شگفتہ بات کہہ دی جس میں وقار بھی تھا، مزاح بھی اور ایک گہری فکری چبھن بھی۔
یہ واقعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ معاشرے میں رائے، شہرت اور نسبتیں کس طرح کام کرتی ہیں۔ بعض اوقات وہی شخص جو آپ کی قدر نہیں کرتا، کسی مفاد کے تحت آپ کی تعریفوں کے پل باندھ دیتا ہے اور بعض اوقات ایک معمولی سا جملہ، ایک سادہ سا خط، ایک عام سا تعلق، وقت کے ساتھ ایک بڑی معنویت اختیار کر لیتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ انسان اپنے مقام کو دوسروں کی رائے کے ترازو میں نہ تولے، بلکہ اپنی حقیقت کو خود پہچانے۔ اقبال کی عظمت کسی کے ماننے یا نہ ماننے سے کم یا زیادہ نہیں ہوتی، کیونکہ عظمت کا تعلق وقتی آرا سے نہیں بلکہ دوام پذیر فکر سے ہوتا ہے۔
یہاں ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہے: اقبال کا ردِعمل۔ اگر وہ چاہتے تو سخت جواب دیتے، تنقید کا جواب تنقید سے دیتے، مگر انہوں نے ایک ایسا جملہ کہا جو نہ صرف صورتِ حال کو سنبھال گیا بلکہ خواجہ صاحب کی روش کو بھی بے نقاب کر گیا۔ یہی بڑے لوگوں کی پہچان ہوتی ہے کہ وہ اپنے ظرف سے پہچانے جاتے ہیں، نہ کہ اپنے ردِعمل کی شدت سے۔ ان کے الفاظ میں کاٹ بھی ہوتی ہے مگر شائستگی کے غلاف میں لپٹی ہوئی۔
یہ قصہ ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ علم و ادب کی دنیا میں اختلاف کوئی نئی بات نہیں، مگر اختلاف کا انداز ہی اصل امتحان ہوتا ہے۔ اگر اختلاف میں وقار ہو، تو وہ مکالمہ بن جاتا ہے، اگر اس میں انا شامل ہو جائے، تو وہ تنازع بن جاتا ہے۔ خواجہ حسن نظامی کا طرزِ عمل ایک طرف انسانی کمزوری کی مثال ہے، تو اقبال کا جواب انسانی بلندی کی۔ یہی تضاد اس واقعے کو یادگار بناتا ہے۔
مختصر یہ کہ "روغنِ فاسفورس" محض ایک تیل نہیں تھا، بلکہ ایک استعارہ بن گیا، اس معاشرے کا، جہاں الفاظ کبھی دوا بن جاتے ہیں اور کبھی اشتہار، جہاں رائے کبھی اصول پر قائم ہوتی ہے اور کبھی مفاد پر جھک جاتی ہے اور جہاں کچھ لوگ اپنی عظمت خود لکھتے ہیں، جبکہ کچھ کو دوسروں کے جملے بھی بلند کر دیتے ہیں۔
انسان کی اصل پہچان اس کے الفاظ، رویّے اور ظرف میں چھپی ہوتی ہے۔ جو شخص حالات کے مطابق اپنے اصول بدل لے، وہ وقتی فائدہ تو حاصل کر سکتا ہے، مگر تاریخ کے اوراق میں اس کا مقام کمزور رہتا ہے اور جو شخص اپنے وقار کو ہر حال میں برقرار رکھے، وہی اصل میں زندہ رہتا ہے، الفاظ میں بھی اور یادوں میں بھی۔
یہ جو لفظوں میں ترا وزن نظر آتا ہے
تیری خاموشی کا بھی فن نظر آتا ہے
لوگ بدلیں تو عجب بات نہیں ہوتی ہے
وقت بدلے تو ہر اک تن نظر آتا ہے
ہم نے سیکھا ہے وقار اپنے لہجے میں رکھ
ورنہ ہر بات میں اک دھن نظر آتا ہے
وہ جو کل تک تھا مخالف، وہی تعریف کرے
یہ زمانے کا بھی اک چلن نظر آتا ہے
اپنی پہچان کو لوگوں سے نہ تول اے انسان
تو جو ہے، تجھ میں وہی من نظر آتا ہے

