Tuesday, 24 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Qaba e Khaak

Qaba e Khaak

قبائے خاک

ایک بزرگ درویش کے پاس ایک نوجوان آیا جو علم، نسب اور دولت پر فخر کرتا تھا۔ اس نے عرض کیا: "حضرت! میں نے دنیا کے ہر میدان میں برتری حاصل کر لی ہے، مگر دل کو سکون نہیں ملتا"۔ درویش مسکرائے، زمین سے ایک مٹھی خاک اٹھائی اور کہا: "اسے ہاتھ میں لے کر اپنی تمام فضیلتیں گنواؤ"۔ نوجوان نے ایک ایک کرکے اپنی خوبیاں بیان کیں، مگر جیسے جیسے وہ بولتا گیا، مٹھی کی خاک اس کی انگلیوں سے پھسلتی گئی۔ درویش نے فرمایا: "جس طرح یہ خاک تمہارے ہاتھ میں ٹھہر نہ سکی، اسی طرح وہ فضیلت بھی عارضی ہے جو خاک سے تعلق کو بھلا دے۔ اصل فضیلت یہ ہے کہ انسان اپنی حقیقت کو پہچان لے اور وہ حقیقت خاک ہے"۔ نوجوان کی آنکھوں میں نمی اتر آئی اور اس دن اسے پہلی بار اپنی اصل پہچان نصیب ہوئی۔

بزمِ انجم میں قبا خاک کی پہنی میں نے، یہ مصرعہ دراصل انسان کے اُس ازلی سفر کی علامت ہے جس میں وہ اپنی حقیقت کی طرف لوٹتا ہے۔ انسان جب دنیا کی چمک دمک، شہرت اور ظاہری عظمت کے پیچھے دوڑتا ہے تو وہ اپنی اصل سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔ مگر جب وہ خاک کی قبا اوڑھ لیتا ہے، یعنی عاجزی، انکساری اور فنا کو اپنا شعار بنا لیتا ہے، تو وہ حقیقی معنوں میں بلند ہو جاتا ہے۔ یہ ایک عجیب تضاد ہے کہ جس چیز کو ہم کمزوری سمجھتے ہیں، وہی دراصل ہماری سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔ خاک سے وابستگی انسان کو زمین سے جوڑتی ہے اور زمین سے جڑا ہوا درخت ہی آسمان کی بلندیوں کو چھو سکتا ہے۔

یہ دنیا ایک ایسی بزم ہے جہاں ہر شخص اپنی اپنی پوشاک کے ذریعے اپنی پہچان بنانا چاہتا ہے۔ کوئی اقتدار کی قبا پہنتا ہے، کوئی علم کی، کوئی دولت کی اور کوئی شہرت کی۔ مگر یہ تمام قبائیں عارضی ہیں، وقت کے ساتھ بدل جاتی ہیں، ماند پڑ جاتی ہیں یا چھن جاتی ہیں۔ اس کے برعکس، خاک کی قبا ایک ایسی پوشاک ہے جو نہ صرف مستقل ہے بلکہ انسان کو اُس کے خالق کے قریب بھی لے جاتی ہے۔ یہ وہ پوشاک ہے جو تکبر کو جلا دیتی ہے اور انسان کے اندر عاجزی کا نور پیدا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ کے عظیم ترین لوگ وہی رہے ہیں جنہوں نے خود کو خاک سمجھا، نہ کہ وہ جنہوں نے خود کو آسمان سمجھ لیا۔

انسان کی اصل آزمائش یہی ہے کہ وہ اپنی کامیابیوں کے باوجود خود کو کیا سمجھتا ہے۔ اگر وہ خود کو سب کچھ سمجھنے لگے تو اس کا زوال یقینی ہے اور اگر وہ خود کو کچھ بھی نہ سمجھے تو اس کی بلندی کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔ خاک کی قبا دراصل اس شعور کا نام ہے کہ انسان اپنی محدودیت کو پہچان لے۔ جب انسان یہ جان لیتا ہے کہ وہ ایک عارضی وجود ہے، ایک مسافر ہے، تو اس کے رویے میں نرمی، اس کی گفتگو میں شائستگی اور اس کے کردار میں وقار آ جاتا ہے۔ وہ دوسروں کو کمتر نہیں سمجھتا، بلکہ ہر انسان میں ایک مشترکہ حقیقت دیکھتا ہے، کہ ہم سب خاک سے آئے ہیں اور خاک میں لوٹ جانا ہے۔

یہی شعور انسان کو ایک اعلیٰ اخلاقی مقام پر لے جاتا ہے۔ وہ دوسروں کے ساتھ انصاف کرتا ہے، ان کے حقوق کا خیال رکھتا ہے اور اپنی انا کو قابو میں رکھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اصل عظمت دوسروں کو نیچا دکھانے میں نہیں بلکہ خود کو نیچا رکھنے میں ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کو حقیقی سکون نصیب ہوتا ہے۔ دنیا کی دوڑ، مقابلہ بازی اور برتری کی خواہش انسان کو تھکا دیتی ہے، مگر خاک کی قبا اسے ایک عجیب سکون عطا کرتی ہے، ایک ایسا سکون جو نہ دولت سے ملتا ہے، نہ شہرت سے اور نہ ہی اقتدار سے۔

ہماری موجودہ دنیا میں، جہاں ہر شخص اپنی برتری ثابت کرنے میں مصروف ہے، خاک کی قبا کا تصور ایک انقلابی پیغام رکھتا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصل کامیابی اپنے آپ کو پہچاننے میں ہے، نہ کہ دوسروں سے آگے نکلنے میں۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ عاجزی کوئی کمزوری نہیں بلکہ ایک اعلیٰ صفت ہے اور یہی صفت ہمیں انسان بناتی ہے۔ اگر ہم اپنی زندگیوں میں اس شعور کو شامل کر لیں، تو نہ صرف ہماری ذاتی زندگی بہتر ہو سکتی ہے بلکہ ہمارا معاشرہ بھی ایک پرامن اور باوقار معاشرہ بن سکتا ہے۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ "اور میری ساری فضیلت اسی پوشاک سے ہے" محض ایک مصرعہ نہیں بلکہ ایک مکمل فلسفۂ حیات ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ اصل فضیلت کسی ظاہری چیز میں نہیں بلکہ ایک باطنی کیفیت میں ہے اور وہ کیفیت ہے عاجزی، انکساری اور اپنی حقیقت کا ادراک۔ جو انسان اس حقیقت کو پا لیتا ہے، وہ دنیا میں رہتے ہوئے بھی دنیا سے بلند ہو جاتا ہے اور یہی اس کی اصل کامیابی ہوتی ہے۔

انسان کی زندگی ایک مسلسل جستجو کا نام ہے، کبھی وہ خود کو پانے کی کوشش کرتا ہے اور کبھی خود کو کھو دیتا ہے۔ مگر جو شخص اپنی اصل کو پہچان لیتا ہے، وہی حقیقت میں کامیاب ہوتا ہے۔ خاک کی قبا اسی پہچان کا استعارہ ہے، جو انسان کو اس کی اصل سے جوڑتی ہے اور اسے حقیقی عظمت عطا کرتی ہے۔

خاک میں ڈھونڈ لی ہم نے روشنی اپنی
خود ہی میں پا گئی ہم کو زندگی اپنی

تاج و تخت سبھی خواب لگے آخر میں
جب نظر آئی ہمیں سادگی اپنی

ہم نے جھک کر ہی بلندی کو چھوا ہے اکثر
یہی ہے رازِ کمالِ بندگی اپنی

خود کو مٹنے دیا تو کچھ بن سکے آخر
ورنہ رہ جاتی ادھوری سی ہنسی اپنی

قبا خاک کی پہنی تو یہ جانا ہم نے
اسی میں چھپی ہے عظمت اپنی

Check Also

Shohrat Ka Nasha Aur Haqiqat Ki Talash

By Nouman Ali Bhatti