Monday, 06 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Pehchan e Jad e Jehad

Pehchan e Jad e Jehad

پہچانِ جدوجہد

ایک بوڑھا درویش شہر کے کنارے ایک ویران سی جھونپڑی میں رہتا تھا۔ لوگ اس کے پاس اپنی مشکلات لے کر آتے اور وہ خاموشی سے سنتا رہتا۔ ایک دن ایک نوجوان آیا، آنکھوں میں تھکن اور لہجے میں شکستگی لیے بولا: "سب کہتے ہیں میں کچھ نہیں کر سکتا، میری قسمت میں ناکامی ہے"۔ درویش نے مسکرا کر ایک مٹی کا چراغ جلایا اور کہا: "یہ چراغ دیکھو، اسے جلنے کے لیے خود کو پگھلانا پڑتا ہے، تبھی روشنی دیتا ہے۔ لوگ صرف روشنی دیکھتے ہیں، اس کا پگھلنا نہیں۔ اگر تم پگھلنے کے لیے تیار ہو، تو روشنی تمہاری پہچان بنے گی"۔ نوجوان خاموش ہوگیا، مگر اس کی آنکھوں میں پہلی بار ایک نیا عزم جھلکنے لگا۔

زندگی کے سفر میں ایسے بے شمار لمحات آتے ہیں جب دنیا ہمیں کمزور سمجھ لیتی ہے، ہماری صلاحیتوں پر سوال اٹھاتی ہے اور ہمارے خوابوں کو محض خام خیالی قرار دے دیتی ہے۔ لوگ اپنے تجربات، اپنے محدود زاویۂ نظر اور اپنے خوف کی بنیاد پر ہمارے لیے فیصلے صادر کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ تم نہیں کر سکتے، تمہارے بس کی بات نہیں، تم اس مقام تک نہیں پہنچ سکتے۔ مگر ان تمام آوازوں کے شور میں ایک آواز ایسی بھی ہوتی ہے جو بہت مدھم سہی، مگر سچی ہوتی ہے، وہ آواز ہمارے اندر سے اٹھتی ہے، جو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہم نے جدوجہد دیکھی ہے، ہم نے مشکلوں کا سامنا کیا ہے اور ہم نے ہار ماننے کے بجائے آگے بڑھنے کا ہنر سیکھا ہے۔

"Everybody thinks you wouldnt be able to do it. But I knew what struggle meant. "

اس جملے کا اردو ترجمہ یوں بنتا ہے: "ہر کوئی سمجھتا تھا کہ تم یہ نہیں کر سکو گے، مگر میں جانتا تھا کہ جدوجہد کیا معنی رکھتی ہے"۔

یہ محض ایک جملہ نہیں بلکہ ایک مکمل فلسفہ ہے، ایک ایسا سچ جو ہر اس انسان کی کہانی بیان کرتا ہے جس نے حالات کے خلاف لڑ کر اپنی پہچان بنائی۔ دنیا ہمیشہ نتیجہ دیکھتی ہے، مگر جدوجہد کی کہانی بہت کم لوگ سمجھ پاتے ہیں۔ وہ راتیں جب نیند آنکھوں سے کوسوں دور ہوتی ہے، وہ دن جب ہر دروازہ بند نظر آتا ہے، وہ لمحے جب انسان خود سے بھی سوال کرنے لگتا ہے، یہ سب وہ مراحل ہیں جو کسی بھی کامیابی کی بنیاد رکھتے ہیں۔ مگر افسوس کہ معاشرہ ان مراحل کو نظرانداز کر دیتا ہے اور صرف کامیابی کو سراہتا ہے۔

اصل میں جدوجہد وہ آئینہ ہے جو انسان کو اس کی اصل پہچان دکھاتا ہے۔ یہ وہ کسوٹی ہے جس پر انسان کا حوصلہ، اس کا صبر اور اس کا یقین پرکھا جاتا ہے۔ جو لوگ جدوجہد سے گزرتے ہیں، وہ نہ صرف مضبوط بنتے ہیں بلکہ ان کے اندر ایک خاص قسم کی بصیرت پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ زندگی کو سطحی انداز میں نہیں دیکھتے بلکہ اس کی گہرائیوں کو محسوس کرتے ہیں۔ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ کامیابی کوئی اتفاق نہیں بلکہ مسلسل محنت، قربانی اور ثابت قدمی کا نتیجہ ہے۔

یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ جب انسان جدوجہد کر رہا ہوتا ہے، تو اکثر وہ تنہا ہوتا ہے۔ لوگ اس کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے اسے مشورے دیتے ہیں، اسے روکتے ہیں یا اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ مگر یہی تنہائی دراصل اس کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔ کیونکہ اسی تنہائی میں وہ اپنے آپ سے ملتا ہے، اپنے اندر چھپی ہوئی طاقت کو پہچانتا ہے اور ایک ایسا عزم پیدا کرتا ہے جو اسے ہر مشکل سے نکال لیتا ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ اصل مقابلہ دوسروں سے نہیں بلکہ خود سے ہے اور جب انسان خود کو جیت لیتا ہے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے ہرا نہیں سکتی۔

لہٰذا اگر دنیا آپ کو کمزور سمجھتی ہے، اگر لوگ آپ کے خوابوں کا مذاق اڑاتے ہیں، تو دل چھوٹا نہ کریں۔ یاد رکھیں کہ وہ آپ کی جدوجہد سے واقف نہیں، وہ آپ کے سفر کی سختیوں کو نہیں جانتے۔ آپ ہی وہ واحد شخص ہیں جو اپنی محنت، اپنی قربانیوں اور اپنے عزم کی گہرائی کو سمجھتے ہیں اور یہی سمجھ آپ کو دوسروں سے ممتاز بناتی ہے۔ یہی وہ روشنی ہے جو آپ کو اندھیروں میں بھی راستہ دکھاتی ہے اور یہی وہ یقین ہے جو آپ کو منزل تک پہنچاتا ہے۔

زندگی کی سب سے بڑی سچائی یہ ہے کہ انسان کو اس کی کامیابی نہیں بلکہ اس کی جدوجہد عظیم بناتی ہے۔ جو شخص مشکل راستوں سے گزرتا ہے، وہی اصل معنوں میں جینا سیکھتا ہے۔

وہ جو ہارا نہیں حالات کی یلغار کے ساتھ
نام روشن ہے اسی کا دلِ بیدار کے ساتھ

لوگ کہتے رہے ممکن نہیں یہ خواب مگر
میں نے دیکھا ہے اسے حوصلۂ کار کے ساتھ

رہ کے تنہا بھی چراغوں کی طرح جلتا رہا
اس کا رشتہ تھا فقط اپنے ہی کردار کے ساتھ

ٹھوکریں کھا کے بھی گرنا اسے آیا ہی نہیں
وہ کھڑا رہتا ہے ہر وقت وقار کے ساتھ

جس نے سیکھا ہو جدوجہد کا مفہوم کبھی
وہی جیتا ہے سدا وقت کی رفتار کے ساتھ

Check Also

Pakistani Samaj Ki Ikhlaqi Iqdar Ki Zaboon Hali

By Mohsin Khalid Mohsin