Kitab Tehzebon Ki Maa: Tareekh e Tabari Ka Ilmi Chiragh (8)
کتاب تہذیبوں کی ماں: تاریخِ طبری کا علمی چراغ (8)

علمِ تاریخ محض گزرے ہوئے واقعات کا بوجھ نہیں ہوتا بلکہ یہ انسان کے شعور، اس کے فہم اور اس کی فکری سمت کا تعین بھی کرتا ہے۔ جب ہم اسلامی تاریخ کی بات کرتے ہیں تو چند ایسی کتب سامنے آتی ہیں جو نہ صرف اپنے عہد کی نمائندہ ہوتی ہیں بلکہ آنے والی صدیوں کے لیے بھی رہنمائی کا چراغ بن جاتی ہیں۔ انہی میں ایک عظیم نام تاریخِ طبری کا ہے، جس کے مصنف امام ابو جعفر محمد بن جریر الطبری ہیں۔ یہ کتاب محض ایک تاریخی تصنیف نہیں بلکہ ایک ایسا علمی خزانہ ہے جس میں انسانی تاریخ کا تسلسل، تہذیبی ارتقا اور فکری کشمکش ایک مربوط انداز میں محفوظ ہوگئی ہے۔ طبری کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے تاریخ کو کسی خاص زاویے یا نظریے کے تابع نہیں کیا بلکہ اسے اس کی اصل صورت میں آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ کر دیا اور یہی وصف اس کتاب کو دیگر تواریخ سے ممتاز کرتا ہے۔
تاریخِ طبری کا آغاز کائنات کی تخلیق سے ہوتا ہے اور یہیں سے قاری کو یہ احساس ملتا ہے کہ تاریخ محض انسانی اعمال کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک الٰہی منصوبے کا حصہ ہے۔ قرآن مجید اور احادیث نبوی کی روشنی میں زمین و آسمان کی تخلیق، فرشتوں اور جنات کا ذکر اور پھر حضرت آدمؑ کی پیدائش ایک ایسے مربوط بیانیے میں سامنے آتی ہے جو انسان کو اپنی اصل سے جوڑ دیتی ہے۔ ابلیس کی سرکشی اور انسان کی آزمائش کا بیان یہ واضح کرتا ہے کہ تاریخ دراصل خیر و شر کی ایک مسلسل کشمکش ہے۔ طبری یہاں محض واقعات بیان نہیں کرتے بلکہ قاری کے ذہن میں ایک ایسا فکری سانچہ تشکیل دیتے ہیں جس میں تاریخ کو اخلاقی اور ربانی نظم کے تحت سمجھا جا سکتا ہے۔
انبیاء کرام علیہم السلام کے حالات تاریخِ طبری کا ایک اہم باب ہیں، جہاں حضرت نوحؑ، حضرت ابراہیمؑ اور حضرت موسیٰؑ جیسے جلیل القدر پیغمبروں کی زندگیاں نہایت تفصیل سے بیان ہوئی ہیں۔ ان واقعات کی خاص بات یہ ہے کہ انہیں محض داستانی رنگ میں پیش نہیں کیا گیا بلکہ ان کے اندر چھپے ہوئے اصول، توحید، صبر، عدل اور استقامت، کو بھی نمایاں کیا گیا ہے۔ طبری کا اسلوب یہاں اور بھی منفرد ہو جاتا ہے جب وہ ایک ہی واقعے کی متعدد روایات نقل کرتے ہیں۔ بظاہر یہ انداز قاری کو الجھا سکتا ہے، لیکن درحقیقت یہی وہ مقام ہے جہاں تاریخ ایک جامد بیان کے بجائے ایک زندہ علمی مکالمہ بن جاتی ہے۔ یہ طرزِ تحریر ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ تاریخ کو آنکھیں بند کرکے قبول کرنے کے بجائے اسے پرکھنا اور سمجھنا بھی ضروری ہے۔
اسلام سے قبل کے حالات کا بیان اس کتاب کو مزید وسعت عطا کرتا ہے۔ عرب کا قبائلی نظام، یمن کی سیاسی کشمکش اور فارسی و رومی سلطنتوں کا عروج و زوال ایک ایسے پس منظر کو واضح کرتا ہے جس میں اسلام نے جنم لیا۔ خاص طور پر ساسانی ایران اور بازنطینی سلطنت کا ذکر اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اسلامی تہذیب کسی خلا میں نہیں ابھری بلکہ اس نے اپنے گرد و پیش کی بڑی تہذیبوں سے اثر بھی لیا اور انہیں ایک نئی سمت بھی دی۔ اس تناظر میں تاریخِ طبری ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ اسلام کا ظہور ایک تاریخی ضرورت بھی تھا اور ایک الٰہی منصوبہ بھی، جس نے دنیا کے سیاسی اور سماجی دھاروں کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔
سیرتِ رسول ﷺ کا بیان تاریخِ طبری کا سب سے مؤثر اور دل نشین حصہ ہے۔ مکی دور کی آزمائشیں، ہجرت کا کٹھن مرحلہ، مدنی ریاست کی تشکیل اور غزوات و معاہدات کا تسلسل ایک ایسی زمانی ترتیب کے ساتھ پیش کیا گیا ہے جو اسلامی معاشرے کے تدریجی ارتقا کو واضح کر دیتا ہے۔ طبری یہاں جذباتیت سے گریز کرتے ہیں اور ایک باوقار انداز میں واقعات کو ترتیب دیتے ہیں، جس سے قاری کو یہ سیکھنے کا موقع ملتا ہے کہ عظیم ترین شخصیات کی زندگی کو بھی تحقیق اور توازن کے ساتھ بیان کرنا چاہیے۔ اسی طرح خلافتِ راشدہ کے دور، خصوصاً حضرت عثمانؓ کی شہادت اور حضرت علیؓ کے زمانے میں پیدا ہونے والے اختلافات کو جس احتیاط اور غیر جانبداری سے بیان کیا گیا ہے، وہ طبری کی علمی دیانت کی روشن مثال ہے۔ یہ حصہ ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ اختلاف اور سیاسی کشمکش تاریخ کا مستقل حصہ رہے ہیں، حتیٰ کہ مقدس ترین ادوار میں بھی۔
اموی اور عباسی ادوار کا بیان تاریخِ طبری کو ایک مکمل سیاسی تاریخ کا درجہ دے دیتا ہے، جہاں خلافت ایک مذہبی قیادت سے ایک منظم ریاستی ادارے میں تبدیل ہوتی نظر آتی ہے۔ بغاوتیں، سازشیں، اقتدار کی جنگیں اور درباری سیاست، یہ سب کچھ سال بہ سال محفوظ کر دیا گیا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں تاریخِ طبری اپنی اصل قوت کے ساتھ سامنے آتی ہے، کیونکہ امام طبری نے نہ تو اپنی رائے مسلط کی اور نہ ہی کسی روایت کو محض اس لیے رد کیا کہ وہ کمزور ہے۔ انہوں نے ہر روایت کو اس کے ماخذ کے ساتھ نقل کیا، جس کی وجہ سے یہ کتاب آج کے مؤرخین کے لیے خام مواد کی حیثیت رکھتی ہے۔ بلاشبہ بعض مقامات پر متضاد اور ضعیف روایات قاری کو الجھن میں ڈالتی ہیں، لیکن اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو یہی اس کتاب کی سب سے بڑی طاقت ہے، کیونکہ اس کے بغیر تاریخ کا بڑا حصہ شاید ہمیشہ کے لیے گم ہو جاتا۔
مختصراً، تاریخِ طبری محض ایک کتاب نہیں بلکہ تاریخ کو سمجھنے کا ایک اسلوب ہے، ایک زاویۂ نظر ہے اور ایک فکری تربیت ہے۔ یہ ہمیں صرف یہ نہیں بتاتی کہ ماضی میں کیا ہوا بلکہ یہ بھی سکھاتی ہے کہ ماضی کو کیسے پڑھا جائے، کیسے پرکھا جائے اور کیسے اس سے حال اور مستقبل کے لیے رہنمائی حاصل کی جائے۔ اگر اسلامی تاریخ کو ایک عظیم عمارت تصور کیا جائے تو تاریخِ طبری اس کی وہ بنیاد ہے جس پر پوری عمارت استوار ہے۔ اس بنیاد کے بغیر نہ صرف تاریخ کا فہم ادھورا رہتا ہے بلکہ ہماری فکری سمت بھی دھندلا جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی، صدیوں بعد، یہ کتاب علم و تحقیق کے افق پر ایک روشن مینار کی طرح ایستادہ ہے، جو ہر سنجیدہ قاری کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے اور اسے دعوت دیتی ہے کہ وہ تاریخ کو محض پڑھے نہیں، بلکہ اسے سمجھے بھی۔

