Kitab Tehzebon Ki Maa: Shahab Nama (16)
کتاب تہذیبوں کی ماں: شہاب نامہ (16)

میرے کئی دوستوں نے جس کتاب کا ذکر بارہا ایک گہرے تاثر کے ساتھ کیا، وہ قدرت اللہ شہاب کی شہرۂ آفاق تصنیف "شہاب نامہ" ہے۔ یہ محض ایک کتاب نہیں بلکہ ایک ایسا تجربہ ہے جو قاری کے باطن میں اترتا چلا جاتا ہے۔ میں اس کتاب کے مداحوں میں شامل ہوں اور اسے کئی بار پڑھ چکا ہوں۔ یہ آج بھی میری چھوٹی سی ذاتی لائبریری میں ایک زندہ، سانس لیتی ہوئی موجودگی کی طرح رکھی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کتاب کے ناقدین بھی اسے رد نہیں کر پاتے، وہ اسے پڑھنے کے لیے تیار رہتے ہیں، چاہے اسے محض ایک ناول سمجھ کر ہی کیوں نہ پڑھیں۔ مگر جو لوگ اسے صرف ایک ناول سمجھ کر پڑھتے ہیں، وہ شاید اس کے اصل جوہر تک نہیں پہنچ پاتے، کیونکہ "شہاب نامہ" کسی ایک صنف میں محدود ہونے والی کتاب نہیں ہے۔ یہ ایک ایسی آزاد رو تحریر ہے جو قاری کو اپنے ساتھ بہا لے جاتی ہے، بغیر کسی رسمی ترتیب یا روایتی ساخت کے۔
یہ کتاب اپنی ساخت اور اسلوب کے اعتبار سے بالکل نرالی ہے۔ اسے پڑھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے مصنف کسی خاص ادبی قاعدے یا ڈھانچے کا پابند نہیں، بلکہ وہ اپنے تجربات، مشاہدات اور واردات کو ایک بےساختہ اور رواں انداز میں بیان کر رہا ہے۔ یہی بےتکلفی اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی ہے۔ قاری اسے پڑھتے ہوئے کسی بوجھ یا سنجیدگی کے دباؤ میں نہیں آتا بلکہ ایک خوشگوار کیفیت میں ڈوبتا چلا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی صحبت کا احساس دیتی ہے جہاں باتیں رسمی نہیں بلکہ دل سے نکل کر دل تک پہنچتی ہیں۔ اسی لیے اس کتاب کو پڑھتے ہوئے بارہا یوں لگتا ہے کہ جیسے ہم کسی بزرگ، کسی صاحبِ تجربہ انسان کے سامنے بیٹھے ہیں جو اپنی زندگی کے راز اور کہانیاں نہایت سادگی اور خلوص سے بیان کر رہا ہے۔
"شہاب نامہ" کو اگر کسی ایک زاویے سے دیکھنے کی کوشش کی جائے تو وہ کوشش ناکافی محسوس ہوتی ہے۔ اس میں خود نوشت بھی ہے، تاریخ بھی، روحانیت بھی، سیاست بھی اور ایک حد تک فکشن کا رنگ بھی۔ یہی امتزاج اسے ایک منفرد مقام عطا کرتا ہے۔ مرکزی کردار، یعنی خود شہاب صاحب، ایک ایسے انسان کے طور پر سامنے آتے ہیں جو بیک وقت کئی جہات کا حامل ہے۔ وہ ایک اعلیٰ سرکاری عہدے پر فائز افسر بھی ہیں، ایک حساس دل رکھنے والے انسان بھی، ایک عاشق مزاج شخصیت بھی اور ایک ایسے شخص بھی جو روحانیت کے گہرے تجربات سے گزرا ہے۔ یہ تضاد نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر شخصیت کی علامت ہے، جو زندگی کو مختلف زاویوں سے جینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اسی تنوع کی وجہ سے بعض اوقات قاری کو یہ گمان ہوتا ہے کہ شاید وہ ایک ناول پڑھ رہا ہے۔ مرکزی کردار کی رنگا رنگی، اس کے تجربات کی وسعت اور واقعات کی دلچسپی اس تاثر کو مزید مضبوط کرتی ہے۔ لیکن حقیقت میں یہ ناول نہیں بلکہ ایک ایسی خود نوشت ہے جو روایتی خود نوشتوں سے بالکل مختلف ہے۔ یہاں واقعات کی ترتیب سے زیادہ ان کی تاثیر اہم ہے اور کردار کی پیشکش میں حقیقت اور تاثر کا ایک ایسا امتزاج ہے جو قاری کو مسحور کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کتاب پر تنقید کرنا بعض اوقات زیادتی محسوس ہوتا ہے، کیونکہ یہ کسی ادبی معیار پر پوری اترنے کے لیے نہیں لکھی گئی بلکہ یہ ایک داخلی ضرورت کا اظہار ہے۔
شہاب صاحب کی شخصیت اس کتاب کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ وہ ایک ایسے انسان کے طور پر سامنے آتے ہیں جو بیک وقت دنیاوی ذمہ داریوں اور روحانی جستجو کے درمیان توازن قائم رکھتا ہے۔ وہ عشق بھی کرتا ہے، عبادت بھی کرتا ہے، سرکاری امور بھی نہایت مہارت سے انجام دیتا ہے اور عام انسانوں کے ساتھ بھی نہایت سادگی اور خلوص سے پیش آتا ہے۔ اس کی زندگی میں کوئی تصنع نہیں، کوئی بناوٹ نہیں۔ وہ دوست کے کچن میں پیڑھی پر بیٹھ کر کھانا بھی کھا سکتا ہے، بوجہ تصورِ بھُرشٹ، چندراوتی کی گڑوی سے گرتی لسی کی آبشار جھُک کر اپنے چُلو میں ہی وصول کرکے پی لیتا ہے اور ایوانِ صدر میں اعلیٰ سطح کے فیصلے بھی کر سکتا ہے۔ یہی سادگی اور بےساختگی اس کی شخصیت کو ایک خاص کشش عطا کرتی ہے۔
"شہاب نامہ" دراصل ایک آئینہ ہے جس میں ہم نہ صرف ایک فرد کی زندگی دیکھتے ہیں بلکہ اپنے معاشرے، اپنی تاریخ اور اپنی داخلی کیفیتوں کو بھی پہچانتے ہیں۔ یہ کتاب ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ زندگی کو کسی ایک خانے میں بند نہیں کیا جا سکتا۔ انسان بیک وقت کئی پہلو رکھتا ہے اور اس کی اصل خوبصورتی اسی تنوع میں ہے۔ شہاب صاحب کی تحریر ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ سچائی ہمیشہ سیدھی لکیر میں نہیں چلتی، بلکہ وہ پیچیدہ راستوں سے گزرتی ہوئی ہمارے سامنے آتی ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ "شہاب نامہ" ایک ایسی کتاب ہے جو ہر قاری کے لیے ایک مختلف معنی رکھتی ہے۔ کوئی اسے ایک دلچسپ داستان کے طور پر پڑھتا ہے، کوئی اسے روحانیت کی ایک جھلک سمجھتا ہے اور کوئی اسے ایک تاریخی دستاویز کے طور پر دیکھتا ہے۔ لیکن اس کی اصل طاقت اس بات میں ہے کہ یہ قاری کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے، اسے اپنے اندر جھانکنے کا موقع دیتی ہے اور اسے یہ احساس دلاتی ہے کہ زندگی محض واقعات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مسلسل جاری رہنے والا تجربہ ہے۔ یہی وہ خوبی ہے جو "شہاب نامہ" کو ایک لازوال کتاب بنا دیتی ہے، ایک ایسی کتاب جو ہر دور میں پڑھی جائے گی اور ہر بار ایک نئے معنی کے ساتھ سامنے آئے گی۔

