Tuesday, 28 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Kitab Tehzebon Ki Maa: Quran (11)

Kitab Tehzebon Ki Maa: Quran (11)

کتاب تہذیبوں کی ماں: قرآن (11)

ہم ایک عجیب زمانے میں جی رہے ہیں جہاں معلومات کی فراوانی ہے مگر فہم کی کمی، جہاں کتابیں گھروں میں موجود ہیں مگر دلوں میں جگہ خالی ہے اور جہاں سب کچھ جاننے کا دعویٰ ہے مگر اصل جاننے سے گریز ہے۔ قرآنِ مجید، جو محض ایک مذہبی کتاب نہیں بلکہ انسان کی مکمل رہنمائی کا سرچشمہ ہے، اکثر ہمارے لیے صرف تلاوت تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ حالانکہ اس کے اندر زندگی کے وہ راز پوشیدہ ہیں جو نہ صرف ہماری روح کو جِلا بخشتے ہیں بلکہ ہمارے ذہن کو بھی وسعت دیتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ قرآن میں صرف عبادات، احکام اور چند واقعات ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس میں انسانی نفسیات، سماجی رویے، اخلاقی اصول اور زندگی کے پیچیدہ مسائل کے حیرت انگیز حل بھی موجود ہیں۔ یہ وہ پہلو ہیں جنہیں ہم یا تو نظر انداز کر دیتے ہیں یا پھر ان کی طرف توجہ دینے کی زحمت ہی نہیں کرتے۔

قرآن خود انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ بار بار یہ سوال اٹھاتا ہے کہ کیا تم سوچتے نہیں؟ کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟ مگر افسوس کہ ہم نے اسے محض ایک مقدس متن بنا کر رکھ دیا ہے، جسے پڑھنا تو ثواب سمجھتے ہیں مگر سمجھنا ضروری نہیں سمجھتے۔ حالانکہ قرآن کی اصل روح اس کے فہم میں ہے، اس کی آیات کے پیچھے چھپے پیغام کو جاننے میں ہے۔ جب ہم اس زاویے سے قرآن کو دیکھتے ہیں تو ہمیں حیرت ہوتی ہے کہ اس میں انسانی زندگی کے کتنے پہلوؤں کو نہایت باریک بینی سے بیان کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر صبر، شکر، خوف، امید، حسد، تکبر اور محبت جیسے جذبات کو جس انداز میں قرآن بیان کرتا ہے، وہ کسی ماہرِ نفسیات کے تجزیے سے کم نہیں۔

یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ قرآن ایک زندہ کتاب ہے، جو ہر دور کے انسان سے ہم کلام ہوتی ہے۔ اس کی آیات محض ماضی کے قصے نہیں بلکہ حال اور مستقبل کے لیے رہنمائی ہیں۔ جب ہم حضرت یوسفؑ کی داستان پڑھتے ہیں تو ہمیں صرف ایک نبی کی زندگی کا واقعہ نہیں ملتا بلکہ ہمیں حسد، سازش، صبر اور آخرکار کامیابی کا ایک مکمل نفسیاتی اور اخلاقی نقشہ نظر آتا ہے۔ جب ہم فرعون کا ذکر پڑھتے ہیں تو وہ صرف ایک ظالم بادشاہ نہیں رہتا بلکہ ہر اس شخص کی علامت بن جاتا ہے جو طاقت کے نشے میں حق کو جھٹلا دیتا ہے۔ اسی طرح قرآن میں بار بار آنے والے واقعات ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ انسان کی اصل آزمائش اس کے رویے میں ہے، اس کے فیصلوں میں ہے اور اس کے کردار میں ہے۔

ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے قرآن کو زندگی سے الگ کر دیا ہے۔ ہم اسے مسجد تک محدود کر چکے ہیں، جبکہ اس کا تعلق بازار، دفتر، گھر اور ہر اس جگہ سے ہے جہاں انسان موجود ہے۔ قرآن ہمیں صرف نماز پڑھنے کا حکم نہیں دیتا بلکہ سچ بولنے، انصاف کرنے، وعدہ پورا کرنے اور دوسروں کے حقوق ادا کرنے کی بھی تعلیم دیتا ہے۔ یہ وہ باتیں ہیں جنہیں ہم جانتے تو ہیں مگر اپنی عملی زندگی میں شامل نہیں کرتے۔ اگر ہم قرآن کو واقعی سمجھنا شروع کر دیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ یہ صرف آخرت کی کامیابی کا راستہ نہیں دکھاتا بلکہ دنیا میں ایک متوازن، باوقار اور کامیاب زندگی گزارنے کا مکمل نظام بھی فراہم کرتا ہے۔

قرآن کی ایک اور حیرت انگیز خوبی یہ ہے کہ یہ انسان کو اس کی اصل پہچان سے روشناس کراتا ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ ہم کون ہیں، کہاں سے آئے ہیں اور کہاں جانا ہے۔ یہ سوالات بظاہر سادہ لگتے ہیں مگر ان کے جواب ہی انسان کی پوری زندگی کا رخ متعین کرتے ہیں۔ جب انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ وہ محض ایک جسم نہیں بلکہ ایک روح بھی رکھتا ہے اور اس کی زندگی کا مقصد صرف دنیاوی کامیابی نہیں بلکہ اللہ کی رضا بھی ہے، تو اس کے فیصلے بدل جاتے ہیں، اس کی ترجیحات بدل جاتی ہیں اور اس کا رویہ بھی بدل جاتا ہے۔ یہی وہ تبدیلی ہے جو قرآن انسان کے اندر پیدا کرنا چاہتا ہے۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ قرآن کو صرف پڑھنا کافی نہیں، اسے سمجھنا اور اپنی زندگی کا حصہ بنانا اصل مقصد ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس کتاب کو نئے زاویے سے دیکھیں، اس کی آیات پر غور کریں اور اس میں چھپے پیغامات کو اپنی روزمرہ زندگی میں شامل کریں۔ جب ہم ایسا کریں گے تو ہمیں خود محسوس ہوگا کہ واقعی "یہ باتیں بھی قرآن میں ہیں!" اور یہ احساس نہ صرف ہمارے ایمان کو مضبوط کرے گا بلکہ ہماری زندگی کو بھی ایک نئی سمت دے گا، ایک ایسی سمت جو سکون، اطمینان اور حقیقی کامیابی کی طرف لے جاتی ہے۔

Check Also

Kya Aurat Psycho Hai?

By Mohsin Khalid Mohsin