Wednesday, 20 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Kitab Tehzebon Ki Maa: Qumein Kaise Kamyab Hoti Hain? (25)

Kitab Tehzebon Ki Maa: Qumein Kaise Kamyab Hoti Hain? (25)

کتاب تہذیبوں کی ماں: قومیں کیسے کامیاب ہوتی ہیں؟ (25)

دنیا کی تاریخ ہمیں ایک بہت بنیادی مگر اکثر نظر انداز کر دی جانے والی حقیقت بتاتی ہے کہ قومیں صرف نعروں، جذبات، تقریروں، شاعری، وسائل یا جغرافیے سے کامیاب نہیں ہوتیں بلکہ اُن کی اصل کامیابی علم، صنعت، پیداوار، تجارت اور مسلسل اجتماعی نظم و ضبط سے جنم لیتی ہے۔ ترک ماہرِ معاشیات مورات آئیولیک نے اپنی اہم کتاب "قومیں کیسے کامیاب ہوتی ہیں؟" میں اسی بنیادی سوال کا نہایت سنجیدگی سے جائزہ لیا ہے کہ آخر وہ کون سے عوامل ہیں جنہوں نے بعض قوموں کو دنیا کی قیادت عطا کی جبکہ دوسری قومیں وسائل کے باوجود پسماندہ رہ گئیں۔

اس کتاب کا اردو ترجمہ وقاص معظم جھوجہ نے کیا ہے اور یہ ترجمہ صرف ایک علمی خدمت نہیں بلکہ ہمارے جیسے معاشروں کے لیے ایک آئینہ بھی ہے۔ یہ کتاب ہمیں بار بار جھنجھوڑتی ہے کہ دنیا میں ترقی کا راز محض آزاد تجارت یا قدرتی وسائل میں نہیں بلکہ ایک مضبوط صنعتی بنیاد، تعلیم یافتہ افرادی قوت، ریاستی وژن، قومی منصوبہ بندی اور مقامی پیداوار کے فروغ میں پوشیدہ ہے۔

ہم ایک ایسے دور میں زندہ ہیں جہاں اکثر معاشروں کو یہ خوش فہمی لاحق ہے کہ محض سروس سیکٹر، درآمدات، قرضوں اور بیرونی سرمایہ کاری کے ذریعے مستقل ترقی حاصل کی جا سکتی ہے۔ مورات آئیولیک اس تصور کو تاریخی شواہد سے رد کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ برطانیہ، جرمنی، امریکہ، جاپان، جنوبی کوریا اور چین جیسی طاقتیں آزاد منڈی کے فلسفے سے پہلے ایک طویل صنعتی تربیت، ریاستی سرپرستی اور مقامی صنعتوں کے تحفظ کے مراحل سے گزریں۔

ان ممالک نے ابتدا میں اپنی صنعتوں کو بیرونی مقابلے سے بچایا، اپنے ہنرمند پیدا کیے، اپنی ٹیکنالوجی تیار کی اور پھر عالمی تجارت میں قدم رکھا۔ گویا دنیا میں کوئی بھی قوم محض بازار کھول دینے سے عظیم نہیں بنی بلکہ اُس نے پہلے اپنی پیداواری صلاحیت کو مضبوط کیا۔ افسوس یہ ہے کہ ہمارے ہاں ترقی کا مطلب اب بھی بڑی سڑکیں، بلند عمارتیں، درآمدی گاڑیاں اور غیر ملکی برانڈز سمجھا جاتا ہے جبکہ اصل ترقی اُس دن شروع ہوتی ہے جب ایک قوم اپنے نوجوانوں کو محض صارف نہیں بلکہ تخلیق کار بنانا شروع کر دیتی ہے۔

یہ کتاب ایک اور نہایت اہم حقیقت بھی واضح کرتی ہے کہ صنعتی ترقی صرف معاشی معاملہ نہیں بلکہ تہذیبی اور فکری معاملہ بھی ہے۔ کوئی قوم اُس وقت تک مضبوط صنعتی طاقت نہیں بن سکتی جب تک اُس کے اندر نظم، وقت کی پابندی، تحقیق، سائنسی سوچ، ادارہ سازی اور اجتماعی ذمہ داری کا شعور پیدا نہ ہو۔ جاپان کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد ایک تباہ حال ملک نے چند دہائیوں میں دنیا کی بڑی معاشی طاقت بن کر دکھا دیا۔ جنوبی کوریا کبھی ہم سے بھی زیادہ غریب سمجھا جاتا تھا مگر آج اُس کی مصنوعات پوری دنیا میں معیار کی علامت ہیں۔ چین نے اپنے کروڑوں لوگوں کو غربت سے نکال کر عالمی معیشت کا مرکز بنا دیا۔

سوال یہ ہے کہ آخر انہوں نے ایسا کیا کیا؟ انہوں نے اپنی قوم کو محنت، تعلیم، ہنر اور صنعت کے ساتھ جوڑ دیا۔ انہوں نے نوجوانوں کو محض نوکری ڈھونڈنے والا نہیں بلکہ پیداوار کرنے والا انسان بنایا۔ انہوں نے ریاستی پالیسیوں کو سیاسی نعروں کی بجائے قومی مفاد کے تابع رکھا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مورات آئیولیک کی فکر ہمارے معاشروں کے لیے نہایت اہم ہو جاتی ہے کیونکہ ہم اکثر ترقی کو شارٹ کٹ کے ذریعے حاصل کرنا چاہتے ہیں جبکہ تاریخ بتاتی ہے کہ پائیدار ترقی ہمیشہ صبر، محنت، علم اور طویل منصوبہ بندی سے حاصل ہوتی ہے۔

پاکستان جیسے ملک کے لیے یہ کتاب اس لیے بھی زیادہ اہم ہے کہ ہمارے پاس نوجوان آبادی، زرعی وسائل، جغرافیائی اہمیت اور بے شمار ذہین افراد موجود ہیں مگر ہم ابھی تک ایک مضبوط صنعتی معیشت تشکیل نہیں دے سکے۔ ہم نے تعلیم کو ڈگری تک محدود رکھا، ہنر کو کمتر سمجھا، تحقیق کو نظر انداز کیا اور درآمدی معیشت کو ترقی کا نام دے دیا۔ ہمارے تعلیمی اداروں اور صنعتوں کے درمیان وہ تعلق پیدا ہی نہ ہو سکا جو ترقی یافتہ ممالک کی بنیاد بنتا ہے۔ ہمارے نوجوان بڑے خواب تو دیکھتے ہیں مگر اُن کے ہاتھ میں اوزار کم اور موبائل زیادہ ہیں۔ ہم نے کارخانے کم اور شاپنگ مال زیادہ بنائے۔ ہم نے سائنس دانوں، انجینئروں، ٹیکنیشنوں اور صنعت کاروں کے بجائے فوری شہرت کے کلچر کو فروغ دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری معیشت بار بار بحرانوں کا شکار ہوتی ہے۔ مورات آئیولیک کی کتاب ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ اگر کوئی قوم خود چیزیں بنانا چھوڑ دے تو پھر وہ دوسروں کی محتاج بن جاتی ہے۔ قرض، امداد اور درآمدات وقتی سہارا تو دے سکتے ہیں مگر قومی وقار اور معاشی آزادی صرف اپنی پیداوار سے حاصل ہوتی ہے۔

اس کتاب کا سب سے خوبصورت پہلو یہ ہے کہ یہ محض معاشی اعداد و شمار کی خشک بحث نہیں بلکہ قوموں کے عروج و زوال کی ایک فکری داستان ہے۔ مصنف ہمیں بتاتے ہیں کہ صنعت دراصل انسانی تخلیقی صلاحیت کا اجتماعی اظہار ہے۔ ایک کارخانہ صرف مشینوں کا مجموعہ نہیں ہوتا بلکہ وہ ایک قوم کی نظم، تحقیق، مہارت، تعلیم اور اجتماعی شعور کا مظہر ہوتا ہے۔ جب ایک قوم اپنے بچوں کو تجربہ گاہوں، ورکشاپس، تحقیقی مراکز اور فنی اداروں کی طرف بھیجتی ہے تو وہ دراصل اپنے مستقبل کی بنیاد رکھ رہی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کامیاب قومیں اپنی جامعات، تکنیکی تعلیم اور صنعتی تحقیق پر بے پناہ سرمایہ لگاتی ہیں۔ وہ جانتی ہیں کہ آنے والی جنگیں توپوں سے زیادہ ٹیکنالوجی، علم اور معیشت کے میدان میں لڑی جائیں گی۔ افسوس کہ ہمارے ہاں اب بھی تعلیم کو روزگار کے ایک محدود ذریعے کے طور پر دیکھا جاتا ہے جبکہ ترقی یافتہ معاشروں میں تعلیم قومی طاقت کا بنیادی ستون سمجھی جاتی ہے۔

وقاص معظم جھوجہ نے اس کتاب کا اردو ترجمہ کرکے ایک اہم علمی خلا کو پُر کیا ہے۔ ہماری بدقسمتی یہ رہی ہے کہ معاشیات، صنعت، ریاستی پالیسی اور ترقیاتی فکر پر معیاری کتابیں اردو میں بہت کم دستیاب ہیں۔ اس ترجمے کے ذریعے اردو قاری کو عالمی معاشی فکر سے جڑنے کا موقع ملتا ہے۔ خاص طور پر نوجوان نسل کے لیے یہ کتاب ایک فکری تربیت گاہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ اُنہیں بتاتی ہے کہ ترقی محض خواہش سے نہیں آتی بلکہ اُس کے لیے قومی مزاج بدلنا پڑتا ہے۔ قوموں کو کامیاب بنانے کے لیے محنت کش ہاتھ، تخلیقی ذہن، دیانت دار قیادت، مضبوط ادارے، معیاری تعلیم اور واضح صنعتی وژن درکار ہوتا ہے۔

دنیا اُن قوموں کی عزت کرتی ہے جو دوسروں کے لیے مسائل نہیں بلکہ مصنوعات پیدا کرتی ہیں۔ جو قومیں صرف استعمال کرتی ہیں وہ ہمیشہ پیچھے رہ جاتی ہیں جبکہ جو قومیں تخلیق کرتی ہیں وہی دنیا کی قیادت سنبھالتی ہیں۔ شاید یہی وہ بنیادی پیغام ہے جو مورات آئیولیک اپنی کتاب کے ذریعے دینا چاہتے ہیں کہ قومیں تقریروں سے نہیں، پیداوار سے اٹھتی ہیں، نعروں سے نہیں، علم سے مضبوط ہوتی ہیں اور خوابوں سے نہیں بلکہ مسلسل محنت، صنعت اور اجتماعی شعور سے تاریخ میں اپنا مقام بناتی ہیں۔

Check Also

Dunya Ke 100 Azeem Tareen Novel

By Zafar Syed