1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Kitab Tehzebon Ki Maa: Karamazov Brotheran (14)

Kitab Tehzebon Ki Maa: Karamazov Brotheran (14)

کتاب تہذیبوں کی ماں: کرامازوف برادران (14)

ادب کی دنیا میں کچھ کتابیں محض پڑھی نہیں جاتیں بلکہ جھیلی جاتی ہیں اور کرامازوف برادران انہی میں سے ایک ہے۔ فیودور دستوئیفسکی کا یہ شاہکار ایک ایسا فکری اور روحانی تجربہ ہے جو قاری کو اپنے اندر کھینچ لیتا ہے، اسے ہلا دیتا ہے اور پھر ایک نئے شعور کے ساتھ باہر نکالتا ہے۔ جب لیو ٹالسٹائی جیسے عظیم ادیب یہ کہنے پر مجبور ہو جائیں کہ "اگر تم دستوئیفسکی سے ملو تو اُسے کہنا کہ میں اُس سے پیار کرتا ہوں"، تو یہ محض ایک تعریف نہیں بلکہ ایک بڑے ادبی سچ کا اعتراف ہے۔ اسی طرح اینٹن شیخوف کا یہ کہنا کہ دستوئیفسکی کو پڑھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے خدا سے مکالمہ ہو رہا ہو، اس ناول کی اس گہرائی کی نشاندہی کرتا ہے جو عام فہم ادب کے دائرے سے بہت آگے نکل جاتی ہے۔

یہ ناول محض ایک خاندان، یعنی کرامازوف برادران کی کہانی نہیں بلکہ انسانی روح کے پیچیدہ گوشوں کی ایک ایسی پرت در پرت تصویر ہے جس میں محبت، نفرت، شک، ایمان، گناہ اور نجات سب ایک ساتھ موجود ہیں۔ میکسم گورکی نے درست کہا کہ اگر تصویر کشی میں دستوئیفسکی کا کوئی جواب ہو سکتا ہے تو وہ شاید ولیم شیکسپئر ہی ہو سکتا ہے۔ اس ناول میں ہر کردار ایک زندہ انسان کی طرح سانس لیتا محسوس ہوتا ہے، الیوشا کی روحانیت، ایوان کی فکری بغاوت اور دیمتری کی جذباتی شدت، یہ سب مل کر ایک ایسا انسانی منظرنامہ تشکیل دیتے ہیں جو بیک وقت دل دہلا دینے والا بھی ہے اور مسحور کن بھی۔ یہی وجہ ہے کہ سگمنڈ فرائیڈ نے اسے اب تک کے لکھے گئے ناولوں میں سب سے عالی شان قرار دیا۔

دستوئیفسکی کی عظمت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وہ محض کہانی سنانے والے نہیں بلکہ انسانی نفسیات کے ایسے ماہر ہیں جنہوں نے اپنے کرداروں کے ذریعے انسانی ذہن کی تاریک گلیوں تک رسائی حاصل کی۔ فریڈرچ نطشے کا یہ کہنا کہ دستوئیفسکی واحد ماہرِ نفسیات ہے جس سے وہ کچھ سیکھتے ہیں، اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ ناول فلسفہ اور نفسیات دونوں کے لیے ایک خزانہ ہے۔ ورجینیا وولف نے اسے روحانی اضطراب کا بےقابو طوفان کہا اور واقعی یہ ناول ایک ایسا طوفان ہے جو قاری کے اندر اٹھتا ہے، اس کے یقین کو چیلنج کرتا ہے اور اسے اپنے وجود کے بنیادی سوالات سے روبرو کر دیتا ہے۔

اس ناول کی تاثیر کا دائرہ صرف ادب تک محدود نہیں بلکہ سائنس، فلسفہ اور جدید فکر تک پھیلا ہوا ہے۔ البرٹ آئن سٹائن جیسے سائنسدان کا یہ اعتراف کہ دستوئیفسکی نے انہیں وہ کچھ دیا جو کسی سائنسدان سے نہیں ملا، اس بات کی علامت ہے کہ یہ ادب محض تفریح نہیں بلکہ فہمِ کائنات کا ایک ذریعہ بھی ہے۔ فرینز کافکا اور جیمز جائس جیسے ادیبوں پر اس ناول کے اثرات اس کی ہمہ گیر طاقت کو ظاہر کرتے ہیں۔ ماریو پُزو کا یہ کہنا کہ اگر وہ یہ ناول نہ پڑھتے تو کبھی ادیب نہ بنتے اور ارہان پاموک کا اسے ہزار سالوں کی بہترین کتاب قرار دینا، اس کے ادبی مرتبے کو مزید مستحکم کرتا ہے۔

دستوئیفسکی کی اپنی زندگی بھی اس ناول کی طرح ایک کرب ناک داستان ہے۔ ارنسٹ ہیمنگوے نے درست کہا کہ سائبیریا کی جلاوطنی نے انہیں تراشا، مصنفین ناانصافی کی بھٹی میں اسی طرح ڈھلتے ہیں جیسے تلوار لوہے کی بھٹی میں۔ یہی تجربات اس ناول میں جھلکتے ہیں، جہاں انسان خدا کے وجود، شر کی فطرت اور اخلاقی ذمہ داری جیسے سوالات سے نبرد آزما ہوتا ہے۔ مارٹن ایمس کے مطابق یہ ناول انہی گمبھیر موضوعات پر ایک بلند پایہ تخلیق ہے اور واقعی یہ کتاب قاری کو اس مقام پر لے جاتی ہے جہاں وہ اپنے ایمان، اپنے شک اور اپنے وجود کے معنی پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

یوں "کرامازوف برادران" محض ایک ناول نہیں بلکہ ایک فکری کائنات ہے، ایک ایسا آئینہ جس میں انسان خود کو، اپنے خدا کو اور اپنی تقدیر کو دیکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ کتاب ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ سوال کرنا گناہ نہیں بلکہ جستجو کی ابتدا ہے اور یہی جستجو انسان کو اس کے اصل مقام تک پہنچاتی ہے۔ شاید اسی لیے یہ ناول آج بھی زندہ ہے اور آنے والے زمانوں میں بھی زندہ رہے گا، کیونکہ جب تک انسان اپنے وجود کے سوالات سے الجھا رہے گا، دستوئیفسکی کی آواز اس کے اندر گونجتی رہے گی۔

Check Also

Dr. Khalid Javed

By Shahid Nasim Chaudhry