Thursday, 07 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Kitab Tehzebon Ki Maa: Dunya Par Kis Ki Hukumrani (15)

Kitab Tehzebon Ki Maa: Dunya Par Kis Ki Hukumrani (15)

کتاب تہذیبوں کی ماں: دنیا پر کس کی حکمرانی؟ (15)

یہ سوال بظاہر سادہ ہے مگر اپنی تہہ میں ایک پوری کائنات سموئے ہوئے ہے۔ جب نوم چومسکی جیسے مفکر اس سوال کو اٹھاتے ہیں تو وہ محض سیاسی بحث نہیں کرتے بلکہ انسانی تہذیب کے اس بنیادی ڈھانچے کو چیلنج کرتے ہیں جسے ہم روزمرہ زندگی میں بغیر سوچے سمجھے قبول کیے بیٹھے ہیں۔ چومسکی کی فکر ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کیا واقعی دنیا پر حکمرانی ریاستیں کرتی ہیں، یا وہ طاقتیں جو ریاستوں کے پیچھے کھڑی ہیں؟ ان کی تصنیف میں یہ سوال محض ایک فلسفیانہ تجسس نہیں بلکہ ایک عملی حقیقت کی کھوج ہے، جس کے اثرات جنگوں، معیشتوں اور انسانی زندگیوں میں واضح طور پر نظر آتے ہیں۔ یہ وہ سوال ہے جو ہر دور میں کسی نہ کسی شکل میں موجود رہا، مگر جدید دنیا میں اس کی شدت اور پیچیدگی کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔

چومسکی کے مطابق طاقت کی اصل نوعیت کو سمجھنے کے لیے ہمیں رسمی سیاسی ڈھانچوں سے آگے دیکھنا ہوگا۔ بظاہر دنیا میں حکومتیں موجود ہیں، پارلیمانیں ہیں، آئین ہیں اور انتخابات ہوتے ہیں، مگر ان سب کے پیچھے ایک غیر مرئی طاقت کا نظام کام کر رہا ہوتا ہے۔ یہ نظام کارپوریٹ مفادات، مالیاتی اداروں اور عالمی سرمایہ دارانہ ڈھانچے پر مشتمل ہے، جو نہ صرف پالیسی سازی پر اثر انداز ہوتا ہے بلکہ عوامی رائے کو بھی تشکیل دیتا ہے۔ اس تناظر میں ریاستہائے متحدہ امریکہ کی مثال نمایاں ہے، جہاں جمہوریت کا ایک مضبوط ڈھانچہ ہونے کے باوجود بڑی کارپوریشنز اور مالیاتی ادارے پالیسی سازی پر گہرا اثر رکھتے ہیں۔ چومسکی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اگر ہم طاقت کے اصل مراکز کو نہیں پہچانتے تو ہم کبھی بھی عالمی نظام کی حقیقت کو نہیں سمجھ سکتے۔

یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر دنیا پر حکمرانی صرف حکومتیں نہیں کرتیں تو پھر وہ کون سی قوتیں ہیں جو عالمی فیصلوں کی سمت متعین کرتی ہیں؟ چومسکی کے مطابق یہ قوتیں کثیر القومی کمپنیاں، مالیاتی ادارے اور وہ مخصوص مفاداتی گروہ ہیں جو اپنی دولت اور اثر و رسوخ کے ذریعے عالمی پالیسیوں کو کنٹرول کرتے ہیں۔ یہ ادارے نہ صرف اقتصادی فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں بلکہ جنگ و امن کے معاملات میں بھی اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر تیل، اسلحہ اور ٹیکنالوجی کے شعبوں سے وابستہ کمپنیاں عالمی سیاست میں ایک کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کے مفادات اکثر قومی مفادات پر غالب آ جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں ایسی پالیسیاں تشکیل پاتی ہیں جو بظاہر قومی سلامتی کے نام پر ہوتی ہیں مگر درحقیقت مخصوص طبقوں کے مفادات کی حفاظت کرتی ہیں۔

چومسکی کی تنقید کا ایک اہم پہلو امریکی خارجہ پالیسی ہے، جسے وہ عالمی طاقت کے استعمال کی ایک واضح مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ان کے مطابق امریکہ نے اپنی طاقت کو اکثر ایسے طریقوں سے استعمال کیا ہے جو عالمی امن کے بجائے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے تھے۔ مختلف خطوں میں مداخلت، حکومتوں کی تبدیلی اور معاشی پابندیاں ایسے اقدامات ہیں جو بظاہر جمہوریت اور انسانی حقوق کے نام پر کیے جاتے ہیں، مگر ان کے پیچھے معاشی اور سیاسی مفادات کارفرما ہوتے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف عالمی سطح پر عدم استحکام پیدا کرتا ہے بلکہ ترقی پذیر ممالک میں غربت اور عدم مساوات کو بھی بڑھاتا ہے۔ چومسکی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اگر عالمی نظام کو زیادہ منصفانہ بنانا ہے تو طاقت کے اس غیر متوازن استعمال کو سمجھنا اور اس پر سوال اٹھانا ضروری ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ چومسکی ماحولیاتی تبدیلی کو بھی طاقت کے اس کھیل کا ایک اہم نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک عالمی کارپوریٹ نظام، جو منافع کو ہر چیز پر ترجیح دیتا ہے، ماحول کے تحفظ کو نظر انداز کرتا ہے۔ صنعتی ترقی اور وسائل کے بے دریغ استعمال نے زمین کے قدرتی توازن کو بگاڑ دیا ہے، مگر اس کے باوجود بڑی کمپنیاں اور طاقتور ممالک اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل کرنے کے بجائے اپنے مفادات کے تحفظ میں مصروف ہیں۔ اس صورتحال میں عام انسان، جو اس نظام کا سب سے کمزور حصہ ہے، سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ چومسکی کا خیال ہے کہ اگر طاقت کے مراکز کو جوابدہ نہ بنایا گیا تو ماحولیاتی بحران آنے والی نسلوں کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ثابت ہوگا۔

آخر میں چومسکی ہمیں ایک اہم فکری موڑ پر لا کھڑا کرتے ہیں: کیا ہم اس نظام کو بدل سکتے ہیں؟ ان کے مطابق تبدیلی ممکن ہے، مگر اس کے لیے شعور، آگاہی اور اجتماعی کوشش کی ضرورت ہے۔ جب تک عوام یہ نہیں سمجھیں گے کہ طاقت کے اصل مراکز کہاں ہیں، وہ اس نظام کا حصہ بنے رہیں گے اور اس کے اثرات برداشت کرتے رہیں گے۔ تعلیم، آزاد میڈیا اور شہری شعور وہ ذرائع ہیں جن کے ذریعے اس نظام کو چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ چومسکی کی فکر ہمیں مایوسی نہیں بلکہ بیداری کا پیغام دیتی ہے، وہ ہمیں یہ باور کراتے ہیں کہ دنیا پر حکمرانی کا سوال صرف طاقتوروں کا نہیں بلکہ ہر اس فرد کا ہے جو انصاف، امن اور برابری پر یقین رکھتا ہے۔ یہی وہ شعور ہے جو ایک زیادہ منصفانہ اور متوازن عالمی نظام کی بنیاد بن سکتا ہے، اگر انسان اسے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی ہمت پیدا کرے۔

Check Also

One Constitution Corruption Case Taleemi Zawal Ka Nuqta e Kamal

By Abdul Hannan Raja