Khaliq Ka Mansooba e Takhleeq Aur Quran Ki Rehnumi
خالق کا منصوبۂ تخلیق اور قرآن کی رہنمائی

ہر کتاب کا ایک مقصد ہوتا ہے اور قرآن کا مقصد انسان کو خالق کے منصوبۂ تخلیق سے آگاہ کرنا ہے۔ یعنی یہ بتانا کہ خدا نے یہ دنیا کیوں پیدا کی، انسان کو زمین پر کیوں بسایا گیا، اس کی قبل از موت زندگی میں اس سے کیا مطلوب ہے اور موت کے بعد اسے کس حقیقت کا سامنا کرنا ہے۔ قرآن انسان کو یہ بنیادی شعور دیتا ہے کہ وہ محض چند سالہ مخلوق نہیں بلکہ ایک ابدی وجود رکھتا ہے۔ اس کی زندگی کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے: ایک یہ دنیا، جہاں امتحان ہے اور دوسرا آخرت، جہاں اسی امتحان کا نتیجہ سامنے آئے گا۔ جنت اور جہنم کسی افسانے کا نام نہیں بلکہ انسان کے اعمال کا منطقی اور اخلاقی انجام ہیں۔ قرآن اسی حقیقت کا اعلان ہے اور اسی شعور کے ساتھ انسان کو زندگی گزارنے کی دعوت دیتا ہے۔ یوں یہ کتاب انسان کے آغاز سے اس کے انجام تک پورے سفر میں اس کی رہنمائی کرتی ہے۔
قرآن انسان کو ایک فطری سوال کرنے والی مخلوق قرار دیتا ہے۔ انسان پیدائشی طور پر متجسس ہے۔ وہ خود سے سوال کرتا ہے: میں کون ہوں؟ میری زندگی کا مقصد کیا ہے؟ زندگی اور موت کی حقیقت کیا ہے؟ کامیابی اور ناکامی کا اصل معیار کیا ہے؟ قرآن ان سوالات کو غیر متعلق یا فلسفیانہ موشگافیاں نہیں سمجھتا بلکہ انہیں انسانی شعور کی بنیاد قرار دیتا ہے۔ قرآن کے مطابق موجودہ دنیا ایک امتحان گاہ ہے اور انسان کو جو کچھ یہاں دیا گیا ہے، صلاحیتیں، وسائل، عقل، وقت، اختیار، یہ سب اسی امتحان کا حصہ ہیں۔ اصل حساب کتاب آخرت میں ہوگا، جہاں ہر انسان کو اس کے اعمال کے مطابق بدلہ یا سزا ملے گی۔ اس دنیا میں کامیابی کا راز یہی ہے کہ انسان خدا کے منصوبۂ تخلیق کو سمجھے اور اپنی زندگی کو اسی نقشے کے مطابق ترتیب دے۔ جو شخص اس حقیقت کو پا لیتا ہے، اس کی زندگی محض ردِعمل نہیں رہتی بلکہ ایک بامقصد جدوجہد بن جاتی ہے۔
قرآن کو اگرچہ اکثر لوگ محض ایک مذہبی کتاب سمجھتے ہیں، مگر درحقیقت یہ ایک کتابِ تنبیہ اور کتابِ حکمت ہے۔ یہ نصیحت اور فہم کا ایسا امتزاج ہے جو انسان کے باطن کو جھنجھوڑتا ہے۔ یہ کسی روایتی درسی کتاب کی طرح منظم ابواب اور مسلسل منطقی ترتیب میں نہیں اور یہی بات بعض قارئین کو ابتدا میں الجھن میں ڈال دیتی ہے۔ بظاہر قرآن مختلف موضوعات پر بکھری ہوئی آیات کا مجموعہ دکھائی دیتا ہے، مگر یہ انتشار نہیں بلکہ ایک حکیمانہ ترتیب ہے۔ قرآن اپنی اصل شکل میں اس لیے محفوظ رکھا گیا کہ وہ ہر قاری سے براہِ راست مخاطب ہو سکے، چاہے وہ ایک صفحہ پڑھے، ایک آیت، یا ایک ہی سطر۔ ہر مقام پر قرآن قاری کے دل و دماغ کو جھنجھوڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے، کیونکہ اس کا اصل مقصد معلومات دینا نہیں بلکہ بیداری پیدا کرنا ہے۔
قرآن کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ انسان کو اس کے محسنِ اعظم کی نعمتیں یاد دلاتا ہے۔ انسان کی تخلیق میں جو غیر معمولی صلاحیتیں رکھی گئیں، عقل، شعور، اخلاقی حس، تخلیقی قوت، یہ سب اللہ کی عطا ہیں۔ پھر زمین کو انسان کے لیے ایسا مسخر کیا گیا کہ اس میں زندگی کے تمام سہارے موجود ہیں، ہوا، پانی، روشنی، غذا، موسم اور فطری توازن۔ قرآن انسان کو یہ یاد دہانی کراتا ہے کہ وہ ان نعمتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے خالق کو فراموش نہ کرے۔ شکر محض زبان کا عمل نہیں بلکہ شعور اور طرزِ زندگی کا نام ہے۔ جو انسان اپنے محسن کو پہچان کر زندگی گزارتا ہے، اس کے لیے ابدی جنت کا وعدہ ہے اور جو شخص نعمتوں میں کھو کر دینے والے کو بھلا دیتا ہے، وہ خود اپنے لیے ہلاکت کا راستہ چن لیتا ہے۔ قرآن اسی ناگزیر انجام کی مسلسل یاد دہانی ہے۔
اکثر یہ خیال پیش کیا جاتا ہے کہ قرآن کو سمجھنے کے لیے کسی خاص روحانی شخصیت یا "پہنچے ہوئے" انسان کی موجودگی ضروری ہے اور عام آدمی خود قرآن کے معنی تک نہیں پہنچ سکتا۔ یہ سوچ دراصل انسان اور قرآن دونوں کی توہین ہے۔ قرآن انسان کے ذہن سے مخاطب ہے اور ذہن انسان کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ قرآن کو خالصتاً فکری اور شعوری سطح پر دریافت کرنا اس کے مفہوم تک پہنچنے کے لیے کافی ہے۔ جب انسان تعصب، موروثی جمود اور اندھی تقلید سے نکل کر قرآن کو پڑھتا ہے تو یہ کتاب اس کے لیے ایک کھلی ہوئی حقیقت بن جاتی ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ قرآن کو سمجھے بغیر محض سماجی روایات اور گروہی تشریحات پر اکتفا کرتے ہیں، وہ دراصل قرآن کی دعوت سے محروم رہتے ہیں۔ قرآن جس مثالی دینی رویّے کی طرف بلاتا ہے، وہ براہِ راست فہم، ذاتی جواب دہی اور شعوری وابستگی پر مبنی ہے۔
آخرکار قرآن انسان کو ایک فیصلہ کن موڑ پر لا کھڑا کرتا ہے۔ یہ کتاب انسان کو مجبور نہیں کرتی بلکہ باخبر بناتی ہے۔ یہ اسے بتاتی ہے کہ راستہ کون سا ہے، انجام کیا ہے اور انتخاب کس کے ہاتھ میں ہے۔ قرآن انسان سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ وہ محض دنیا کی ظاہری کامیابیوں میں نہ کھو جائے بلکہ اپنی ابدی زندگی کو سامنے رکھ کر فیصلے کرے۔ یہی خالق کا منصوبۂ تخلیق ہے: ایک باخبر، بااختیار اور جواب دہ انسان، جو اس دنیا میں امتحان دے رہا ہے اور جسے آخرت میں اس امتحان کا نتیجہ ملنا ہے۔ قرآن اسی بڑے سچ کا اعلان ہے اور جو اس اعلان کو سن کر اپنی زندگی سنوار لے، وہی حقیقی معنی میں کامیاب ہے۔
یہ کائنات محض حادثہ نہیں، نہ انسان بے مقصد وجود ہے۔ ہر سانس، ہر لمحہ، ہر موڑ ایک بڑے تخلیقی منصوبے کا حصہ ہے جو خالقِ کائنات نے حکمت کے ساتھ ترتیب دیا ہے۔ جب انسان اس منصوبے کو پہچان لیتا ہے تو زندگی بوجھ نہیں رہتی، امانت بن جاتی ہے اور اعمال محض عادت نہیں رہتے، عبادت میں ڈھل جاتے ہیں۔ اسی شعور کو لفظوں کی روشنی میں سمیٹنے کی ایک ادنیٰ کوشش یہ شعری نذرانہ ہے:
یہ زندگی کوئی اتفاقی سفر نہیں
خدا کے طے کیے ہوئے نقشے سے بے خبر نہیں
زمیں پہ بھیج دیا گیا ہمیں امتحاں کو
یہ قیام عارضی ہے، یہیں ہمارا گھر نہیں
جو عقل دی گئی ہے، وہ سوال مانگتی ہے
یہ دل بھی بے صدا نہیں، یہ فکر بے اثر نہیں
جو رب کو یاد رکھے نعمتوں کے شور میں
وہی ہے سرخرو، کوئی اور معتبر نہیں
یہ موت اختتام نہیں، فقط در ہے ایک
جو اس کو جان لے، وہ کبھی دربدر نہیں
قرآن نے بتا دیا انجام اور راستہ
اب بھٹکنا خود خطا ہے، کوئی جبر نہیں

