Saturday, 23 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. George Washington Ke 110 Usool e Shaistagi o Tehzeeb

George Washington Ke 110 Usool e Shaistagi o Tehzeeb

جارج واشنگٹن کے 110 اصول شائستگی و تہذیب

كسب كمال كُن كہ عزيزِ جہان شوى
كس بے كمال ہيچ نيرزد، عزيزِ من!

"اور واقعی یہ کہا جا سکتا ہے کہ فطرت اور قسمت نے کبھی کسی انسان کو عظیم بنانے کے لیے اس قدر کامل طور پر باہم اشتراک نہیں کیا"

جارج واشنگٹن کا تھامس جیفرسن کے نام خط، تقریباً 1814ء

سولہ برس کی عمر تک پہنچتے پہنچتے جارج واشنگٹن نے اپنے ہاتھ سے "آدابِ معاشرت اور شائستہ برتاؤ" کے ایک سو دس اصول نقل کیے۔ یہ اصول دراصل 1595ء میں فرانسیسی یسوعی علما کے مرتب کردہ قواعد پر مبنی تھے۔ غالب گمان یہ ہے کہ نوجوان واشنگٹن نے انہیں خوشخطی کی مشق کے طور پر اپنے استاد کے حکم پر نقل کیا۔ ان فرانسیسی اصولوں کا پہلا انگریزی ترجمہ 1640ء میں شائع ہوا، جسے ایک طبیب کے بارہ سالہ بیٹے فرانسس ہاکنز سے منسوب کیا جاتا ہے۔

مصنف رچرڈ بروکھائزر نے اپنی کتاب میں لکھا: "مغربی دنیا کے جدید آداب اصل میں اشرافیہ کے آداب تھے۔ شائستگی سے مراد دربار کے مناسب طرزِ عمل تھا، اور، شجاعت کا لفظ فرانسیسی لفظ شوالیے یعنی، سپاہی سے نکلا ہے۔ مگر واشنگٹن نے خود کو امریکہ کو درباری تسلط سے آزاد کرانے کے لیے وقف کر دیا تھا۔ کیا ایسے میں آداب باقی رہ سکتے تھے؟ یسوعی مصنفین اور ان اصولوں کو نقل کرنے والا نوجوان شاید خود بھی نہ جانتے تھے کہ وہ مساوی اور قریب المساوی انسانوں کے درمیان باہمی احترام کا ایک نظام ترتیب دے رہے ہیں۔ جب اس شائستگی کا دائرہ ایک محفل سے بڑھ کر پوری قوم تک پھیل گیا تو واشنگٹن اس کے لیے تیار تھا۔ پادری ویمز نے درست کہا تھا: ، اس میں کوئی حیرت نہیں کہ ہر شخص اس کا احترام کرتا تھا، کیونکہ وہ ہر شخص کا احترام کرتا تھا"۔

اصولِ شائستگی و تہذیب

1۔ ہر وہ عمل جو دوسروں کی موجودگی میں کیا جائے، اس میں حاضرین کے احترام کی کوئی نہ کوئی علامت ضرور ہونی چاہیے۔

2۔ مجلس میں اپنے جسم کے ان حصوں کو نہ چھیڑو جو عام طور پر ڈھانپے جاتے ہیں۔

3۔ اپنے دوست کو ایسی کوئی چیز نہ دکھاؤ جو اسے خوفزدہ کر دے۔

4۔ دوسروں کی موجودگی میں گنگنانا، انگلیوں یا پاؤں سے تھاپ دینا مناسب نہیں۔

5۔ اگر کھانسی، چھینک، آہ یا جمائی آئے تو آہستگی اور پردے سے کرو، جمائی لیتے وقت بات نہ کرو بلکہ رومال یا ہاتھ منہ پر رکھ کر رخ پھیر لو۔

6۔ جب دوسرے گفتگو کر رہے ہوں تو مت سوؤ، جب سب کھڑے ہوں تو نہ بیٹھو، جب خاموش رہنا چاہیے تو نہ بولو اور جب دوسرے رک جائیں تو آگے نہ بڑھو۔

7۔ دوسروں کے سامنے کپڑے نہ اتارو اور نہ ہی نیم لباس میں کمرے سے باہر نکلو۔

8۔ کھیل یا آگ کے پاس بیٹھنے میں نئے آنے والے کو جگہ دینا اچھے آداب ہیں اور معمول سے زیادہ اونچی آواز میں بولنے کی کوشش نہ کرو۔

9۔ آگ میں تھوکو نہیں، نہ اس کے سامنے بہت جھکو، نہ ہاتھ شعلوں میں ڈال کر گرم کرو اور نہ پاؤں آگ پر رکھو، خاص طور پر جب کھانا سامنے ہو۔

10۔ بیٹھتے وقت پاؤں سیدھے اور برابر رکھو، ایک پاؤں دوسرے پر نہ رکھو اور نہ انہیں الجھاؤ۔

11۔ دوسروں کے سامنے بدن نہ کھجاؤ اور نہ ناخن چباؤ۔

12۔ سر، پاؤں یا ٹانگیں نہ ہلاؤ، آنکھیں نہ گھماؤ، ایک بھنو دوسری سے زیادہ نہ اٹھاؤ، منہ نہ بگاڑو اور بات کرتے ہوئے اتنا قریب نہ جاؤ کہ تمہاری تھوک دوسرے کے چہرے پر جا پڑے۔

13۔ جوئیں، پسو یا کیڑے دوسروں کے سامنے نہ مارو۔ اگر کہیں گندگی یا تھوک دیکھو تو مہارت سے اس پر پاؤں رکھ دو۔ اگر ساتھی کے کپڑوں پر کوئی میل ہو تو خاموشی سے ہٹا دو اور اگر تمہارے اپنے کپڑوں سے کوئی میل صاف کرے تو اس کا شکریہ ادا کرو۔

14۔ گفتگو کرتے ہوئے دوسروں کی طرف پشت نہ کرو، کسی کی میز یا تختہ نہ ہلاؤ جس پر وہ پڑھ یا لکھ رہا ہو اور نہ کسی پر ٹیک لگاؤ۔

15۔ ناخن چھوٹے اور صاف رکھو، ہاتھ اور دانت بھی صاف رکھو مگر ان کے بارے میں حد سے زیادہ فکرمندی ظاہر نہ کرو۔

16۔ گال نہ پھلاؤ، زبان نہ نکالو، ہاتھ یا داڑھی نہ ملتے رہو، ہونٹ نہ سکیڑو اور نہ کاٹو، نہ بہت زیادہ کھولو اور نہ سختی سے بند رکھو۔

17۔ چاپلوس نہ بنو اور ایسے شخص سے مذاق نہ کرو جسے مذاق پسند نہ ہو۔

18۔ مجلس میں بلا ضرورت خطوط، کتابیں یا کاغذات نہ پڑھو۔ اگر مجبوری ہو تو اجازت لو۔ کسی کے کاغذات کے اتنا قریب نہ جاؤ کہ وہ پڑھ سکو اور کسی کی تحریر پر بغیر پوچھے رائے نہ دو۔

19۔ چہرہ خوشگوار رکھو مگر سنجیدہ معاملات میں متانت اختیار کرو۔

20۔ جسم کے اشارے گفتگو کے مطابق ہونے چاہییں۔

21۔ کسی کی پیدائشی کمزوری یا معذوری پر طعنہ نہ دو اور نہ اسے اس کا احساس دلانے میں لطف محسوس کرو۔

22۔ کسی دوسرے کی مصیبت پر خوشی ظاہر نہ کرو، خواہ وہ تمہارا دشمن ہی کیوں نہ ہو۔

23۔ اگر کسی مجرم کو سزا ملتے دیکھو تو دل میں اطمینان ہو سکتا ہے، مگر ظاہر میں اس پر رحم ہی دکھاؤ۔

24۔ کسی عوامی منظر پر بہت زور سے یا بہت زیادہ نہ ہنسو۔

25۔ فضول تکلفات اور بناوٹی رسمیات سے بچو، مگر جہاں آداب کا تقاضا ہو انہیں نظرانداز نہ کرو۔

26۔ معزز لوگوں کو سلام کرتے وقت مناسب ادب اور جھکاؤ اختیار کرو، مگر اپنے برابر والوں کے ساتھ غیر ضروری تکلف نہ کرو۔

27۔ اپنے سے بڑے مرتبے والے کو بیٹھنے یا ٹوپی پہننے کے معاملے میں بے جا اصرار نہ کرو، کیونکہ حد سے بڑھی ہوئی رسمیات دوسروں کے لیے زحمت بن جاتی ہیں۔

28۔ اگر کوئی شخص تم سے گفتگو کے لیے آئے جبکہ تم بیٹھے ہو، تو کھڑے ہو جاؤ چاہے وہ تم سے کم تر ہی کیوں نہ ہو۔

29۔ اگر تم سے بلند مرتبہ شخص سامنے آ جائے تو راستہ چھوڑ دو، خصوصاً دروازے یا تنگ جگہ پر۔

30۔ چلتے وقت عزت والے شخص کو دائیں جانب رکھو، اگر تین آدمی ساتھ ہوں تو درمیان والی جگہ زیادہ معزز سمجھی جاتی ہے۔

31۔ اگر کوئی بہت معزز شخص اپنی جگہ کسی کم تر کو دینا چاہے تو دوسرے کو ابتدا میں انکار کرنا چاہیے اور پہلے شخص کو بھی زیادہ اصرار نہیں کرنا چاہیے۔

32۔ اپنے برابر یا کم درجے والے مہمان کو اچھی جگہ دو اور جسے جگہ دی جائے وہ ابتدا میں انکار کرے مگر بعد میں شکریے کے ساتھ قبول کرے۔

33۔ منصب دار لوگوں کو فوقیت حاصل ہوتی ہے، مگر نوجوان صاحبانِ منصب کو اپنے ہم مرتبہ لوگوں کا احترام کرنا چاہیے۔

34۔ گفتگو میں اپنے سے بڑے لوگوں کو اپنے اوپر ترجیح دو۔

35۔ کاروباری لوگوں سے گفتگو مختصر اور جامع رکھو۔

36۔ ہنرمند اور کم درجے کے لوگ امیروں سے بے جا رسمیات نہ کریں اور امیر لوگ بھی ان سے نرمی اور خوش اخلاقی سے پیش آئیں۔

37۔ معزز لوگوں سے گفتگو کرتے وقت ان کے بہت قریب نہ جاؤ اور نہ انہیں گھور کر دیکھو۔

38۔ بیمار کی عیادت میں فوراً طبیب بننے کی کوشش نہ کرو اگر تمہیں علم نہ ہو۔

39۔ لکھنے یا بولنے میں ہر شخص کو اس کے مرتبے کے مطابق خطاب دو۔

40۔ بڑوں سے بحث میں ضد نہ کرو بلکہ عاجزی اختیار کرو۔

41۔ اپنے ہم مرتبہ شخص کو اس فن میں تعلیم دینے کی کوشش نہ کرو جس کا وہ خود ماہر ہو۔

42۔ ہر شخص کے مرتبے کے مطابق ادب اختیار کرو، ایک عام آدمی اور شہزادے کے ساتھ ایک جیسا برتاؤ مناسب نہیں۔

43۔ بیمار یا تکلیف میں مبتلا شخص کے سامنے خوشی کا اظہار نہ کرو۔

44۔ اگر کوئی شخص پوری کوشش کرے مگر کامیاب نہ ہو تو اسے ملامت نہ کرو۔

45۔ نصیحت یا سرزنش کرتے وقت سوچو کہ اسے علانیہ کہنا بہتر ہے یا تنہائی میں اور غصے کے بغیر نرمی سے بات کرو۔

46۔ نصیحت کو شکرگزاری سے قبول کرو اور اگر تم بے قصور ہو تو مناسب وقت پر نرمی سے اپنی وضاحت پیش کرو۔

47۔ اہم باتوں پر مذاق نہ کرو، نہ ایسا لطیفہ سناؤ جو دل آزاری کرے اور اگر کوئی مزاحیہ بات کہو تو خود اس پر نہ ہنسو۔

48۔ جس بات پر دوسروں کو ٹوکو، پہلے خود اس سے پاک ہو، کیونکہ عمل نصیحت سے زیادہ اثر رکھتا ہے۔

49۔ کسی کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال نہ کرو، نہ گالی دو اور نہ بدزبانی کرو۔

50۔ کسی کی بدنامی پر مبنی افواہوں پر جلد یقین نہ کرو۔

51۔ اپنے کپڑے صاف ستھرے رکھو، نہ میلے ہوں، نہ پھٹے، نہ گرد آلود۔

52۔ لباس میں سادگی اختیار کرو، نمود و نمائش سے بچو اور اپنے معاشرے کے مہذب لوگوں کے مطابق لباس پہنو۔

53۔ سڑک پر نہ دوڑو، نہ بہت سست چلو، نہ منہ کھول کر چلو، نہ ہاتھ بے جا ہلاؤ اور نہ پاؤں گھسیٹو۔

54۔ مور کی طرح ہر وقت اپنے لباس اور ظاہری شکل کا جائزہ لیتے نہ پھرو۔

55۔ بے وقت نہ گھر میں کھاؤ نہ راستے میں۔

56۔ اگر اپنی عزت چاہتے ہو تو اچھے لوگوں کی صحبت اختیار کرو، بری صحبت سے تنہائی بہتر ہے۔

57۔ اگر کسی بڑے آدمی کے ساتھ چل رہے ہو تو ابتدا میں اسے دائیں طرف دو اور اس سے آگے نہ بڑھو۔

58۔ تمہاری گفتگو حسد اور کینہ سے پاک ہو اور غصے میں بھی عقل کو حاکم رکھو۔

59۔ اپنے سے کم تر لوگوں کے سامنے غیر اخلاقی بات نہ کرو اور نہ بدعملی دکھاؤ۔

60۔ اپنے دوستوں پر راز اگلوانے کے لیے بے جا زور نہ دو۔

61۔ سنجیدہ اور عالم لوگوں کے سامنے فضول باتیں نہ کرو اور جاہلوں کے سامنے مشکل مباحث نہ چھیڑو۔

62۔ خوشی کے موقع پر غمگین باتیں نہ کرو، دسترخوان پر موت اور زخموں کا ذکر نہ چھیڑو اور اپنے خواب صرف قریبی دوست سے بیان کرو۔

63۔ اپنی کامیابیوں، ذہانت، دولت، خاندان یا خوبیوں پر فخر نہ کرو۔

64۔ ایسا مذاق نہ کرو جس میں دوسروں کو لطف نہ آئے اور کسی کی بدقسمتی پر نہ ہنسو۔

65۔ مذاق یا سنجیدگی میں کسی کو تکلیف دینے والے الفاظ نہ کہو۔

66۔ خوش اخلاق، دوستانہ اور گفتگو میں پہل کرنے والے بنو۔

67۔ دوسروں کی برائی نہ کرو اور نہ حد سے زیادہ حکم چلاؤ۔

68۔ وہاں مت جاؤ جہاں تمہاری آمد مشکوک ہو اور بغیر مانگے مشورہ نہ دو۔

69۔ اگر دو لوگ جھگڑ رہے ہوں تو بلاوجہ کسی ایک کا فریق نہ بنو۔

70۔ دوسروں کی خامیوں پر ملامت نہ کرو، یہ والدین، اساتذہ اور بڑوں کا کام ہے۔

71۔ لوگوں کے داغ دھبوں یا جسمانی نقص کو گھورنے سے بچو اور نہ پوچھو کہ وہ کیسے پیدا ہوئے۔

72۔ مجلس میں اجنبی زبان نہ بولو بلکہ اپنی زبان میں گفتگو کرو اور مہذب انداز اپناؤ۔

73۔ بولنے سے پہلے سوچو، واضح اور متوازن انداز میں گفتگو کرو۔

74۔ جب کوئی اور بول رہا ہو تو پوری توجہ سے سنو، اس کی بات نہ کاٹو اور نہ بغیر کہے مدد کرو۔

75۔ گفتگو کے دوران یہ نہ پوچھو کہ کیا بات ہو رہی ہے، اگر تمہاری آمد سے خاموشی چھا جائے تو نرمی سے بات جاری رکھنے کو کہو۔

76۔ گفتگو کے دوران انگلی سے کسی کی طرف اشارہ نہ کرو اور نہ بہت قریب جاؤ۔

77۔ کاروباری بات مناسب وقت پر کرو اور دوسروں کی موجودگی میں سرگوشیاں نہ کرو۔

78۔ دوسروں کا آپس میں موازنہ نہ کرو۔

79۔ ایسی خبریں نہ سناؤ جن کی سچائی معلوم نہ ہو۔

80۔ گفتگو یا مطالعہ میں طوالت سے بچو، جب تک مجلس دلچسپی نہ لے رہی ہو۔

81۔ دوسروں کے معاملات جاننے کی بے جا جستجو نہ کرو۔

82۔ ایسا کام نہ اٹھاؤ جو پورا نہ کر سکو، مگر وعدہ ضرور نبھاؤ۔

83۔ بات نرمی اور سمجھداری سے کرو، چاہے مخاطب کوئی معمولی شخص ہی کیوں نہ ہو۔

84۔ جب بڑے لوگ بات کر رہے ہوں تو کان نہ لگاؤ، نہ بولو اور نہ ہنسو۔

85۔ اپنے سے بڑے لوگوں کی مجلس میں بلا سوال نہ بولو اور جواب مختصر دو۔

86۔ بحث میں صرف جیتنے کی خواہش نہ رکھو بلکہ دوسروں کو اظہارِ رائے کا حق دو۔

87۔ تمہارا انداز باوقار، متین اور متوجہ ہونا چاہیے۔

88۔ گفتگو میں بار بار ایک ہی بات دہرانے سے بچو۔

89۔ غیر حاضر لوگوں کی برائی نہ کرو، یہ ناانصافی ہے۔

90۔ کھانے کے دوران بلا ضرورت کھجانا، تھوکنا، کھانسنا یا ناک صاف کرنا مناسب نہیں۔

91۔ کھانے پر ٹوٹ نہ پڑو اور کھانے میں عیب نہ نکالو۔

92۔ چکنی چھری سے نمک یا روٹی نہ لو۔

93۔ دسترخوان پر مہمان کو کھانا پیش کرنا اچھا ادب ہے۔

94۔ شوربے میں روٹی اتنی ہی ڈبوؤ جتنی ایک نوالے کے لیے کافی ہو اور گرم کھانے پر پھونکیں نہ مارو۔

95۔ چھری ہاتھ میں پکڑ کر کھانا منہ تک نہ لے جاؤ اور پھلوں کی گٹھلیاں برتن میں نہ تھوکو۔

96۔ کھانے پر بہت نہ جھکو اور انگلیاں گندی ہو جائیں تو رومال سے صاف کرو۔

97۔ پچھلا نوالہ نگلے بغیر دوسرا منہ میں نہ ڈالو۔

98۔ منہ بھر کر نہ بولو اور نہ پانی پیتے وقت اِدھر اُدھر دیکھو۔

99۔ نہ بہت جلدی پیو اور نہ بہت آہستہ، پینے سے پہلے اور بعد میں ہونٹ صاف کرو۔

100۔ دسترخوان کے کپڑے یا چھری کانٹے سے دانت صاف نہ کرو۔

101۔ دوسروں کے سامنے کلی نہ کرو۔

102۔ بار بار لوگوں کو کھانے پینے پر اصرار نہ کرو۔

103۔ اپنے بڑوں کی موجودگی میں ان سے زیادہ دیر تک کھانے میں مشغول نہ رہو۔

104۔ مجلس کے سربراہ کو چاہیے کہ وقت پر کھانا شروع کرے تاکہ سب کو مناسب وقت مل سکے۔

105۔ دسترخوان پر غصہ ظاہر نہ کرو، خوش اخلاقی ایک معمولی کھانے کو بھی ضیافت بنا دیتی ہے۔

106۔ میز کے صدر مقام پر خود نہ بیٹھو، مگر اگر میزبان اصرار کرے تو انکار میں جھگڑا نہ کرو۔

107۔ اگر دوسرے گفتگو کر رہے ہوں تو توجہ سے سنو، مگر منہ بھر کر بات نہ کرو۔

108۔ اللہ اور اس کی صفات کا ذکر ادب اور احترام سے کرو۔ اپنے والدین کی عزت اور اطاعت کرو، خواہ وہ غریب ہی کیوں نہ ہوں۔

109۔ تمہاری تفریح پاکیزہ اور باوقار ہونی چاہیے، گناہ آلود نہیں۔

110۔ اپنے دل میں اس آسمانی چنگاری کو زندہ رکھنے کی کوشش کرو جسے "ضمیر" کہا جاتا ہے۔

Check Also

Teen Dukh

By Rauf Klasra