Thursday, 29 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Cricket Ki Mandi, Usoolon Ki Lash Aur Tanha Khara Pakistan

Cricket Ki Mandi, Usoolon Ki Lash Aur Tanha Khara Pakistan

کرکٹ کی منڈی، اصولوں کی لاش اور تنہا کھڑا پاکستان

بین الاقوامی کھیل خصوصاً کرکٹ کو جب محض ایک کاروباری لین دین میں بدل دیا جائے، جہاں ہر چیز کی قیمت ہو اور کسی اصول، روایت یا اخلاقی قدر کی کوئی وقعت نہ رہے، تو پھر طاقت کا توازن نہیں بلکہ طاقت کی بدصورتی جنم لیتی ہے۔ آج انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی پالیسیوں میں جو کھلا ہوا تجارتی رجحان نظر آ رہا ہے، وہ دراصل ایک مخصوص ریاستی اور کارپوریٹ مفاد کی عکاسی کرتا ہے، جس میں کھیل کو کھیل نہیں بلکہ منڈی کی جنس سمجھا جا رہا ہے۔ اس سوچ کا نتیجہ طاقت نہیں بلکہ تنہائی ہے اور یہی وہ دلدل ہے جس میں بھارتی کرکٹ انتظامیہ مسلسل دھنستی جا رہی ہے۔ یکطرفہ فیصلے، دھمکیوں کی سیاست اور مالی دباؤ کے ذریعے عالمی کرکٹ کو یرغمال بنانے کی روش نہ صرف کھیل کے وقار کے خلاف ہے بلکہ خود اس نظام کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہو رہی ہے۔

یہ تاثر بظاہر دیا جا رہا ہے کہ دنیا کی اکثریت اس سوچ کے ساتھ کھڑی ہے، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ جو خاموش تائید یا ظاہری ہم آہنگی نظر آتی ہے، وہ اصول کی بنیاد پر نہیں بلکہ پیسے کی ہوس پر کھڑی ہے۔ بہت سے کرکٹ بورڈ اس لیے لب کشائی نہیں کرتے کہ ان کا معاشی سانس اسی نظام سے جڑا ہوا ہے۔ اسپانسرشپ، نشریاتی حقوق، آئی پی ایل کے سائے میں ملنے والے وقتی فوائد نے ضمیر کی آواز کو دبا دیا ہے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ جب کھیل کو منافع کی بھٹی میں جھونکا جاتا ہے تو وہ آخرکار دھڑام سے گرتا ہے۔ یہ نظام بظاہر مضبوط دکھائی دیتا ہے مگر اندر سے کھوکھلا ہو چکا ہے اور ایک دن یہی کھوکھلا پن اسے زمین بوس کر دے گا۔

دنیا کو یہ بات جلد سمجھنی ہوگی کہ کرکٹ محض ایک تفریحی صنعت نہیں بلکہ ایک تہذیبی ورثہ ہے، جسے ہمیشہ سے "جینٹل مین گیم" کہا گیا۔ اگر اس کھیل کو طاقت کے نشے میں بدتمیزی، ہٹ دھرمی اور تجارتی بلیک میلنگ کی نذر کر دیا گیا تو نقصان صرف کسی ایک ملک یا بورڈ کا نہیں ہوگا بلکہ کرکٹ کی پوری دنیا اس کی قیمت ادا کرے گی۔ قوانین کی پامالی، پروٹوکول کی بے توقیری اور ادارہ جاتی فیصلوں کو ذاتی انا کے تابع کرنا وہ زہر ہے جو آہستہ آہستہ اس کھیل کی روح کو مار رہا ہے۔ افسوس کہ اس وقت عالمی کرکٹ کا ضمیر یا تو سو چکا ہے یا خرید لیا گیا ہے۔

اس ساری صورتحال میں پاکستان بظاہر تنہا نظر آتا ہے، مگر دراصل وہ اصولوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ کوئی اس کے ساتھ آواز نہیں ملا رہا، مگر یہ تنہائی کمزوری نہیں بلکہ اخلاقی برتری کی علامت ہے۔ پاکستان اس ہنگامہ خیز منڈی میں شاید واحد فریق ہے جو یہ کہنے کی جرات رکھتا ہے کہ کھیل اصولوں سے خالی ہو جائے تو وہ کھیل نہیں رہتا۔ بھارتی تجارتی بالادستی اور اس سے جڑی خالی دھمکیوں کے سامنے جھکنے کے بجائے پاکستان کو ثابت قدم رہنا چاہیے، کیونکہ تاریخ میں وہی قومیں سرخرو ہوتی ہیں جو وقتی نقصان قبول کر لیتی ہیں مگر اصولوں کا سودا نہیں کرتیں۔

یہ درست ہے کہ بعض اوقات اصولی مؤقف اپنانے کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ میچز چھن جاتے ہیں، ایونٹس خطرے میں پڑ جاتے ہیں اور مالی نقصانات بھی ہوتے ہیں۔ مگر اصل ہار ان لوگوں کی ہوتی ہے جو اصول توڑتے ہیں، ضابطے پامال کرتے ہیں اور کھیل کو اپنی جاگیر سمجھ بیٹھتے ہیں۔ وقتی فتح کے نشے میں وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ کھیل عوام کا ہوتا ہے، اداروں کا نہیں اور اس کی روح کو قید نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان اگر آج اکیلا کھڑا ہے تو کل یہی تنہائی اس کی گواہی بنے گی کہ جب ناانصافی ہو رہی تھی، جب کھیل کو منڈی بنایا جا رہا تھا، تب کسی ایک نے ضرور آواز اٹھائی تھی۔

تاریخ کے کٹہرے میں ہمیشہ تعداد نہیں بلکہ مؤقف دیکھا جاتا ہے۔ آج اگر زیادہ لوگ خاموش ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ خاموشی درست ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اس خاموشی کے شور میں اپنی آواز بلند رکھے، کیونکہ کل یہی آواز دستاویز بنے گی۔ جب کرکٹ کی کتابِ تاریخ لکھی جائے گی تو یہ ضرور درج ہوگا کہ ایک وقت ایسا بھی آیا تھا جب پیسے نے اصولوں کو یرغمال بنا لیا تھا اور اسی دور میں ایک ملک ایسا بھی تھا جو نقصان کے خوف کے باوجود کھڑا رہا۔ یہی کھڑا رہنا اصل فتح ہے اور یہی وہ سرخروئی ہے جس کے ساتھ ہم آنے والی نسلوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہہ سکیں گے کہ ہم نے ناانصافی کے آگے سر نہیں جھکایا۔

یہ کالم کسی ضد یا تعصب کا اظہار نہیں بلکہ ایک اصولی گواہی ہے۔ جب کھیل کو منڈی، فیصلوں کو سودے اور اداروں کو طاقت کے نشے میں مبتلا کر دیا جائے تو خاموشی جرم بن جاتی ہے۔ تاریخ ہمیشہ یہ پوچھتی ہے کہ مشکل وقت میں کون کھڑا رہا اور کون فائدے کی خاطر جھک گیا۔ ہم نے اپنی حد تک سچ کہہ دیا ہے، اب فیصلہ وقت اور ضمیر پر چھوڑتے ہیں۔

ہم نے اصول بیچنے کا ہنر سیکھا نہیں
سچ کے بدلے زر کا سودا ہم نے دیکھا نہیں

اک طرف بازار گرم ہے، شورِ مفاد
اک طرف تنہا ضمیر ہے، مگر ٹوٹا نہیں

خوف کی دھمکی، نفع کی زنجیر کیا
جو حق پہ تھا وہ کبھی بھی جھکا نہیں

کل لکھے گی داستاں تاریخ خود
کون تھا سرخرو، کون وقت پر بولا نہیں

Check Also

Ilhad Aur Manazra

By Mohammad Din Jauhar