Cricket, Ikhtiar Aur Blackmailing Ka Bayania
کرکٹ، اختیار اور بلیک میلنگ کا بیانیہ

بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے گرد گھومتی سیاست ہمیشہ سے طاقت، مفاد اور اختیار کے مثلث میں قید رہی ہے، مگر حالیہ دنوں میں بھارتی صحافی وکرانت گپتا کے ایک بیان نے اس بحث کو ایک بار پھر بھڑکا دیا ہے۔ ان کا مؤقف نہ صرف پاکستان کرکٹ کے کردار پر سوال اٹھاتا ہے بلکہ آئی سی سی کے فیصلوں کی نیت اور معیار پر بھی انگلی رکھتا ہے۔ گپتا کی باتوں میں تلخی ہے، غرور بھی اور ایک خاص قسم کی بالادستی کا احساس بھی، جسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ امید کرتے ہیں کہ آئی سی سی پاکستان کی مبینہ دھمکیوں سے اسی سختی اور اختیار کے ساتھ نمٹے گی جیسے اس نے بنگلہ دیش کے معاملے میں کیا تھا، حالانکہ ان کے بقول بنگلہ دیش کے مطالبات میں کچھ نہ کچھ جواز موجود تھا۔ یہ جملہ خود اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ بعض ممالک کو "جواز" کے ساتھ بولنے کی اجازت ہے اور بعض کو محض دھمکی دینے والا سمجھ لیا جاتا ہے۔
وکرانت گپتا کے مطابق یہ درست ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان میچ آئی سی سی کے لیے پیسہ کمانے کا بڑا ذریعہ ہے، لیکن اس ایک میچ کے علاوہ پاکستان کی حیثیت کیا رہ جاتی ہے؟ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ آئی سی سی کی آمدنی کی تقسیم میں پاکستان چوتھے نمبر پر ہے، گویا اس مالی درجہ بندی کو اخلاقی یا انتظامی حق کی بنیاد بنا کر پیش کیا جا رہا ہو۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کرکٹ بورڈز کی عزت اور رائے کا تعین صرف ریونیو چارٹ سے ہونا چاہیے؟ اگر ایسا ہے تو پھر کھیل کو کھیل کہنے کا جواز ہی ختم ہو جاتا ہے اور وہ محض ایک منڈی بن کر رہ جاتا ہے، جہاں طاقتور خریدار شرائط طے کرتا ہے اور کمزور فروخت کنندہ سر جھکائے کھڑا رہتا ہے۔
گپتا اپنے بیان میں محسن نقوی کا نام لے کر انہیں سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ ان کے مطابق محسن نقوی نے ایشیا کپ میں کھیل کو روک کر اور پھر ٹرافی لے کر "بھاگ جانے" کی مثال قائم کی، جسے وہ بدترین نظیر قرار دیتے ہیں۔ وہ اسے بلیک میلنگ سے تعبیر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر پاکستان نے آئی سی سی کو یرغمال بنانے کی کوشش کی تو اسے اس بار یہ دھونس مسترد کر دینی چاہیے۔ یہ زبان محض تنقید نہیں بلکہ ایک طعنہ ہے، ایک حکم ہے اور ایک ایسے لہجے کی نمائندگی کرتی ہے جو خود کو فیصلہ کن طاقت سمجھتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ایشیا کپ کے فیصلے یک طرفہ بلیک میلنگ تھے، یا وہ ان حالات کا نتیجہ تھے جنہیں خود ایشیائی کرکٹ کی سیاست نے جنم دیا؟ اس پہلو کو یکسر نظر انداز کر دینا بھی انصاف نہیں۔
بیان کے اگلے حصے میں وہ کہتے ہیں کہ بورڈ کے عہدیدار اکثر اپنے ملک میں کھیل کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں اور پاکستان کو بھی یہ جان لینا چاہیے کہ آیا وہ واقعی ترقی کر رہا ہے یا نہیں۔ یہ جملہ بظاہر مشورہ لگتا ہے مگر اس کے پیچھے تحقیر چھپی ہوئی ہے، جیسے کسی استاد کا طالب علم کو ڈانٹتے ہوئے کہنا کہ پہلے خود کو دیکھو پھر بات کرو۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ نے پچھلے برسوں میں انتظامی غلطیوں، سیاسی مداخلت اور تسلسل کی کمی کے باوجود خود کو عالمی منظرنامے پر زندہ رکھا ہوا ہے اور یہ کسی ایک میچ یا ایک ٹورنامنٹ کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی تاریخی اور فطری صلاحیت کے باعث ہے۔
آخر میں گپتا بنگلہ دیش کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ شاید بنگلہ دیش بھی یہ سوچنے پر مجبور ہو کہ کیا وہ آئی سی سی کی "نصیحتوں " کے بغیر حالات کو بہتر انداز میں سنبھال سکتا تھا۔ اس جملے میں ایک عجیب سا تضاد ہے۔ ایک طرف وہ آئی سی سی کی سختی کی تعریف کرتے ہیں اور دوسری طرف اسی ادارے کی مداخلت پر سوال اٹھاتے ہیں۔ دراصل یہی تضاد عالمی کرکٹ کی اصل کہانی ہے۔ طاقتور ممالک جب آئی سی سی کے ذریعے فیصلے کرواتے ہیں تو وہ "نظم و ضبط" کہلاتا ہے اور جب کوئی نسبتاً کمزور یا مختلف مؤقف رکھنے والا ملک اپنی بات منوانے کی کوشش کرے تو اسے بلیک میلنگ کا نام دے دیا جاتا ہے۔
یہ پورا بیانیہ اس بات کی علامت ہے کہ کرکٹ اب محض ایک کھیل نہیں رہی بلکہ سفارت کاری، معیشت اور قومی وقار کی جنگ بن چکی ہے۔ پاکستان ہو یا بنگلہ دیش، یا کوئی اور ملک، اصل سوال یہ نہیں کہ کون کتنا ریونیو لاتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا عالمی کرکٹ واقعی سب کے لیے برابر ہے؟ اگر فیصلے طاقت کے بل پر ہوں گے تو ردِعمل بھی آئے گا اور اگر مکالمہ احترام کے ساتھ ہوگا تو تنازعات بھی حل ہوں گے۔ وکرانت گپتا کا بیان ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا آئی سی سی واقعی ایک غیر جانبدار عالمی ادارہ ہے یا پھر طاقتور منڈیوں کے مفادات کا محافظ اور شاید یہی سوال آج کی کرکٹ کا سب سے بڑا امتحان ہے۔
کرکٹ کے میدان میں گیند اور بلا کی آواز سے زیادہ شور اب بیانیوں کا ہے۔ یہاں جیت اور ہار سے زیادہ اہم یہ طے کرنا ہوگیا ہے کہ اختیار کس کے پاس ہے اور اصول کس کے لیے۔ اس ہنگامے میں اصل سوال کہیں پیچھے رہ جاتا ہے کہ کھیل کو کھیل رہنے دیا جائے یا اسے طاقت کے مظاہرے کا آلہ بنا دیا جائے۔ یہی چند سطریں اسی شور میں ایک لمحہ ٹھہرنے کی دعوت ہیں۔
یہ کھیل تھا کبھی شوق کا، اب منڈیوں کا راج ہے
اصول سب کتاب میں، طاقت مگر سراج ہے
جو سر اٹھا کے بول دے، وہ جرم کا نشان ٹھہرے
جو جھک کے بات مان لے، وہ معتبر سماج ہے
یہ ایک میچ کی کمائی نے بدل دی ہے پہچان
کسی کا حق سوال ہے، کسی کا بس خراج ہے
کسی کے نام پر نظم ہے، کسی کے حصے میں خوف
یہی تو آج کرکٹ کا بدلتا ہوئی مزاج ہے

