Friday, 27 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Batin Ki Bedari Aur Khuda Shanasi

Batin Ki Bedari Aur Khuda Shanasi

باطن کی بیداری اور خدا شناسی

قرآنِ عظیم کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ انسان کو اصول دیتا ہے، بنیادیں فراہم کرتا ہے، راستے کی نشان دہی کرتا ہے اور انہی بنیادی حقیقتوں کو مختلف اسالیب میں دہرا کر دل و دماغ میں بٹھاتا ہے۔ قرآن کا مزاج یہ نہیں کہ وہ انسان کو محض ظاہر کی رسموں میں الجھا دے، بلکہ وہ اسے باطن کی دنیا میں اتارتا ہے، جہاں نیتیں بنتی ہیں، ارادے جنم لیتے ہیں اور فیصلے تشکیل پاتے ہیں۔ اسی لیے قرآن میں اصل زور صورت پر نہیں بلکہ سیرت پر ہے، عمل کی ظاہری شکل سے پہلے اس کی روح پر ہے۔ یہ بات قاری پر ابتدا ہی میں واضح ہو جاتی ہے کہ یہاں غیر ضروری تفصیلات نہیں بلکہ وہ رہنما اصول ہیں جو انسان کی پوری زندگی کو سمت دیتے ہیں۔

قرآن انسان کی فکری ساخت کو بدلنے کے لیے آیا ہے، اس کے اندر ایک انقلاب برپا کرنے کے لیے، تاکہ وہ حقیقت کو محض سنے نہیں بلکہ پہچانے، اسے دیکھے، اسے جئے۔ اسی اندرونی انقلاب کو قرآن معرفت کہتا ہے، یعنی حقیقت کی پہچان، وہ پہچان جو انسان کے شعور میں چراغ کی طرح روشن ہو جائے اور جس کے بعد ایمان محض وراثت یا روایت نہ رہے بلکہ دل کی آنکھوں سے دیکھا ہوا یقین بن جائے۔ جہاں معرفت نہیں ہوتی، وہاں ایمان بھی رسم رہ جاتا ہے اور جہاں معرفت آ جاتی ہے، وہاں عمل خود بخود سنورنے لگتا ہے۔

اسلامی شخصیت کی تعمیر میں سب سے زیادہ اہمیت اسی باطن کی بیداری کو حاصل ہے۔ اگر انسان کے اندر سچائی کی آگ جل جائے تو اس کی روشنی میں اس کی زندگی کے تمام زاویے درست ہو جاتے ہیں۔ لیکن اگر انسان محض ظاہر کو تھام لے اور باطن خالی رہے تو وہ چاہے کتنی ہی شکلیں بنا لے، کتنے ہی آداب سیکھ لے، اس کی روح میں وہ حرارت پیدا نہیں ہو سکتی جو عمل کو زندہ کرتی ہے۔ قرآن اسی لیے پہلے دل کو مخاطب کرتا ہے، عقل کو جھنجھوڑتا ہے، ضمیر کو جگاتا ہے۔ وہ انسان کو سوال کرنے پر آمادہ کرتا ہے: میں کون ہوں؟ میں کہاں سے آیا ہوں؟ مجھے کہاں جانا ہے؟ اور میرا رب مجھ سے کیا چاہتا ہے؟ یہ سوال جب انسان کے اندر شدت اختیار کر لیتے ہیں تو پھر اس کی زندگی محض عادتوں کا مجموعہ نہیں رہتی بلکہ مقصد کی طرف سفر بن جاتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایمان رسمی اقرار سے نکل کر زندہ تجربہ بن جاتا ہے اور بندہ اپنے رب کو دور کی ہستی نہیں بلکہ اپنی زندگی کا سب سے قریب ترین سہارا محسوس کرنے لگتا ہے۔

قرآن اپنے بارے میں یہ اعلان کرتا ہے کہ وہ خدا کا کلام ہے۔ بظاہر یہ ایک سادہ سا جملہ معلوم ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک غیر معمولی دعوتِ فکر ہے۔ دنیا میں بہت سی کتابیں مقدس سمجھی جاتی ہیں، مگر قرآن کی انفرادیت یہ ہے کہ وہ نہ صرف مقدس ہے بلکہ اپنے قاری سے براہِ راست مکالمہ کرتا ہے، یوں جیسے خالق خود اپنے بندے کو مخاطب کر رہا ہو۔ "اے انسان!" کے الفاظ جب قرآن میں گونجتے ہیں تو یہ محض ایک ادبی اسلوب نہیں رہتے بلکہ ایک زندہ ندا بن جاتے ہیں جو ہر دور کے انسان کے دل تک پہنچتی ہے۔ قاری محسوس کرتا ہے کہ یہ کوئی دور کا قصہ نہیں، کوئی پرانی تاریخ نہیں، بلکہ اسی لمحے کی پکار ہے، اسی دل کے لیے پیغام ہے۔ یہی احساس قرآن کو دوسری تمام کتابوں سے ممتاز کرتا ہے۔ یہ محض پڑھنے کی چیز نہیں رہتی بلکہ سننے اور جواب دینے کی دعوت بن جاتی ہے، ایسی دعوت جسے نظر انداز کرنا دل پر بوجھ بن جاتا ہے۔

قرآن کی ترتیب بھی انسانی کتابوں سے مختلف ہے۔ انسانی تصانیف عام طور پر موضوعات کے تحت منظم ہوتی ہیں، لیکن قرآن ایک اور ہی طرز پر جلوہ گر ہوتا ہے۔ بظاہر یہ اسلوب قاری کو حیران کرتا ہے، مگر جیسے جیسے وہ اس میں آگے بڑھتا ہے، اس پر ایک عجیب ہم آہنگی منکشف ہونے لگتی ہے۔ اسے محسوس ہوتا ہے کہ وہ کسی ایسے مقام پر کھڑا ہے جہاں سے پوری انسانیت کا منظر دکھائی دیتا ہے اور جہاں سے ایک بلند ہستی سب کو مخاطب کر رہی ہے۔ کہیں اہلِ ایمان سے خطاب ہے، کہیں منکرین سے، کہیں غافلوں کو جھنجھوڑا جا رہا ہے اور کہیں تھکے ہوئے دلوں کو تسلی دی جا رہی ہے۔ یہ تنوع دراصل قرآن کی وسعتِ نظر کا مظہر ہے، کہ وہ ہر انسان کو اس کی کیفیت کے مطابق پکارتا ہے، مگر پیغام ایک ہی رکھتا ہے: اپنے رب کو پہچانو، اس پر بھروسہ کرو اور اپنی زندگی کو حق کے مطابق ڈھالو۔

قرآن کا ایک اور بے مثال پہلو یہ ہے کہ اس کا قاری اپنے رب سے براہِ راست رابطہ محسوس کرتا ہے۔ یہ کوئی ماضی کی کہانی نہیں کہ خدا کبھی بولتا تھا اور اب خاموش ہے، بلکہ قرآن یہ احساس زندہ رکھتا ہے کہ خدا آج بھی زندہ ہے، سنتا ہے، دیکھتا ہے اور جواب دیتا ہے۔ بندہ جب اس کتاب کو کھولتا ہے تو یوں لگتا ہے جیسے وہ ایک دروازہ کھول رہا ہو جس کے پار اس کا رب موجود ہے۔ وہ سوال کرتا ہے، وہ شکوہ کرتا ہے، وہ دعا کرتا ہے اور اسے یقین ہوتا ہے کہ اس کی آواز بے سنی نہیں جا رہی۔ یہی یقین انسان کو تنہائی میں بھی طاقت دیتا ہے اور ہجوم میں بھی استقامت بخشتا ہے۔ جب انسان یہ جان لیتا ہے کہ میرا رب مجھ سے بے خبر نہیں، تو پھر زندگی کے دکھ، ناکامیاں اور آزمائشیں اسے توڑ نہیں سکتیں بلکہ نکھار دیتی ہیں۔

آخرکار قرآن کا پیغام یہی ہے کہ انسان اپنی زندگی کو محض ظاہری سانچوں میں نہ ڈھالے بلکہ اپنے باطن کو سنوارے۔ کیونکہ اصل تعمیر دل کی ہوتی ہے اور دل سنور جائے تو زندگی خود بخود سنور جاتی ہے۔ قرآن انسان کو رسموں کا اسیر نہیں بناتا بلکہ شعور کا مسافر بناتا ہے۔ وہ اسے خدا شناسی کی طرف لے جاتا ہے، جہاں ایمان محض الفاظ نہیں بلکہ کیفیت بن جاتا ہے اور عبادت محض عمل نہیں بلکہ محبت کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان اپنے رب کو پکار کر کہہ سکتا ہے: میں نے تجھے پہچان لیا اور اب میری زندگی تیرے نام ہے۔ یہی قرآن کی دعوت ہے، یہی اس عظیم کتاب کا مقصد ہے اور یہی وہ راستہ ہے جو عام انسان کے دل میں اتر کر اسے عام سے خاص بنا دیتا ہے۔

قرآنِ عظیم محض ایک کتاب نہیں، یہ دلوں کی بیداری کی صدا ہے، روحوں کی پیاس کا جواب ہے اور زندگی کو معنی دینے والی روشنی ہے۔ جب انسان اس کلامِ الٰہی کے حضور سر جھکاتا ہے تو اسے صرف الفاظ نہیں ملتے، بلکہ ایک نیا شعور عطا ہوتا ہے، ایک نئی آنکھ ملتی ہے جس سے وہ خود کو بھی دیکھتا ہے اور اپنے رب کو بھی پہچانتا ہے۔ اسی احساس کو لفظوں میں ڈھالنے کی ایک ادنیٰ سی کوشش یہ غزل ہے، جو اس کالم کا حصہ بن کر قرآن کی عظمت اور اس کے پیغام کی خوشبو دلوں تک پہنچانے کی آرزو رکھتی ہے۔

یہ کتابِ حق ہے، دلوں کی صدا بولتی ہے
ہر ایک ورق سے ہمیں رب کی ندا بولتی ہے

یہاں لفظ کم ہیں، مگر روشنی ہے بے کنار
ہر ایک آیت میں صدیوں کی صدا بولتی ہے

یہ رسمِ جاں نہیں، یہ تو ہے بیداریٔ روح
یہی صدا ہمیں اندھیر سے نکالتی ہے

جو دل میں اتر جائے، وہی ایمان بنتا ہے
محض لبوں کی صدا کب کسی کو سنبھالتی ہے

قرآن سے جو رشتہ بنا لے دلِ شکستہ
اسی کے نام کی گونج ہر سمت پھیلتی ہے

Check Also

Iblees Ki Machino Ka Sahara

By Khalid Mahmood Faisal