Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Bantne Se Barhti Hui Roshani

Bantne Se Barhti Hui Roshani

بانٹنے سے بڑھتی ہوئی روشنی

مختار مسعود نے لکھا تھا: "اچھا انسان، اچھی کتاب اور اچھی گفتگو جہاں میسر آئے اس میں دوسروں کو بھی شریک کرو، ان سے تنہا فائدہ اٹھانا کم ظرفی کی دلیل ہے"۔ یہ چند لفظ بظاہر ایک سادہ نصیحت محسوس ہوتے ہیں، لیکن درحقیقت انسانی تہذیب، علم، اخلاق اور معاشرت کے پورے فلسفے کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔ انسان کی اصل عظمت صرف یہ نہیں کہ وہ خود اچھا ہو، اچھی کتابیں پڑھ لے یا دانشمندانہ گفتگو سے لطف اندوز ہو، اصل عظمت یہ ہے کہ وہ اس خیر کو دوسروں تک منتقل کرے۔ روشنی اگر صرف ایک کمرے تک محدود رہے تو چراغ کی افادیت کم ہو جاتی ہے، لیکن جب وہ دوسرے گھروں تک پہنچتی ہے تو بستی جگمگا اٹھتی ہے۔ یہی حال اچھے انسانوں، اچھی کتابوں اور اچھی صحبتوں کا ہے۔ یہ نعمتیں اگر صرف ذات تک محدود رہ جائیں تو ان کا حسن ادھورا رہ جاتا ہے۔

زندگی میں بعض لوگ ایسے ملتے ہیں جن کے چند جملے برسوں تک دل میں چراغ کی طرح روشن رہتے ہیں۔ ان کی گفتگو میں شائستگی، انکسار، تجربہ اور خلوص شامل ہوتا ہے۔ وہ انسان کو صرف معلومات نہیں دیتے بلکہ اس کے اندر ایک نئی زندگی پھونک دیتے ہیں۔ ایسے لوگ دراصل چلتے پھرتے مکتب ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اکثر علم کو طاقت سمجھا جاتا ہے اور طاقت کو چھپا کر رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر دوسروں کو بھی راستہ مل گیا تو ان کی اپنی انفرادیت کم ہو جائے گی۔ یہی ذہنیت حسد، تنگ دلی اور معاشرتی زوال کو جنم دیتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہ قومیں ترقی کرتی ہیں جہاں علم بانٹا جاتا ہے، جہاں استاد شاگرد سے اپنا تجربہ نہیں چھپاتا، جہاں بزرگ نوجوانوں کے لیے راستے کھولتے ہیں اور جہاں اچھی صحبت کو ذاتی جاگیر نہیں سمجھا جاتا۔ انسان جب کسی اچھی کتاب سے متاثر ہو تو اس کا پہلا جذبہ یہ ہونا چاہیئے کہ وہ دوسروں کو بھی اس کتاب تک پہنچائے، کیونکہ علم کی سب سے بڑی خوبصورتی اس کی تقسیم میں ہے۔

کتابیں دراصل خاموش استاد ہوتی ہیں۔ وہ صدیوں پر محیط تجربات، تہذیبوں کی خوشبو، مفکروں کی دانائی اور انسانوں کے دکھ سکھ اپنے اندر سمیٹے ہوتی ہیں۔ ایک اچھی کتاب انسان کو تنہائی میں بہترین رفاقت فراہم کرتی ہے۔ وہ اس کے خیالات کو جلا بخشتی، سوچ کو وسعت دیتی اور شخصیت کو نکھارتی ہے۔ لیکن کتاب کا اصل سفر تب مکمل ہوتا ہے جب وہ ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ تک پہنچتی ہے۔ ہمارے بزرگوں میں کتاب تحفے میں دینے کی روایت تھی۔ گھروں میں چھوٹی چھوٹی لائبریریاں ہوا کرتی تھیں۔ لوگ کسی پسندیدہ اقتباس کو دوستوں کے ساتھ شیئر کرتے، کسی مضمون پر گھنٹوں گفتگو کرتے اور علم کو اجتماعی دولت سمجھتے تھے۔ آج سوشل میڈیا کے شور میں مطالعے کی روایت کمزور پڑتی جا رہی ہے۔ لوگ عنوان پڑھ کر رائے قائم کر لیتے ہیں اور چند سطروں کو مکمل علم سمجھ بیٹھتے ہیں۔ ایسے ماحول میں اگر کوئی شخص اچھی کتاب کی طرف رہنمائی کرتا ہے تو وہ دراصل ذہنی و روحانی خدمت انجام دیتا ہے۔ کتابیں انسان کے اندر برداشت، صبر اور گہرائی پیدا کرتی ہیں اور یہی اوصاف کسی مہذب معاشرے کی بنیاد بنتے ہیں۔

اچھی گفتگو بھی ایک نعمت ہے۔ گفتگو صرف الفاظ کا تبادلہ نہیں بلکہ روحوں کا تعلق ہے۔ بعض محفلیں ایسی ہوتی ہیں جہاں گھنٹوں بیٹھنے کے باوجود انسان تھکاوٹ محسوس نہیں کرتا۔ وہاں نہ طنز ہوتا ہے، نہ حسد، نہ دوسروں کی تذلیل، بلکہ علم، تجربہ، محبت اور خیر خواہی کی خوشبو ہوتی ہے۔ ایسی محفلیں انسان کے دل و دماغ کو تازگی بخشتی ہیں۔ افسوس کہ آج گفتگو کا معیار تیزی سے گرتا جا رہا ہے۔ چیخنا دلیل بن گیا ہے، طنز ذہانت سمجھا جاتا ہے اور اختلاف کو دشمنی بنا دیا گیا ہے۔ حالانکہ اچھی گفتگو انسان کو بڑا بناتی ہے۔ وہ دلوں کو قریب لاتی، غلط فہمیوں کو دور کرتی اور نئے امکانات پیدا کرتی ہے۔ اگر کسی کو اچھی صحبت نصیب ہو جائے تو اسے صرف اپنے لیے محفوظ نہیں رکھنا چاہیئے بلکہ دوسروں کو بھی اس محفل، اس انسان اور اس ماحول سے متعارف کروانا چاہیئے۔ کیونکہ اچھی صحبتیں انسان کی تقدیر بدل دیتی ہیں۔ ایک اچھا دوست، ایک مخلص استاد یا ایک دانا بزرگ بسا اوقات وہ کام کر جاتا ہے جو برسوں کی تعلیم بھی نہیں کر پاتی۔

مختار مسعود جیسے ادیب اس لیے بڑے ہوتے ہیں کہ وہ چند لفظوں میں انسان کے باطن کو جھنجھوڑ دیتے ہیں۔ ان کا یہ قول دراصل انسان کو ظرف کی وسعت سکھاتا ہے۔ کم ظرف انسان ہمیشہ نعمتوں کو قید کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اچھا ماحول صرف اسے میسر رہے، اچھی معلومات صرف اس کے پاس ہوں اور اچھی شخصیات تک رسائی صرف اس کی ہو۔ لیکن بلند ظرف انسان دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے۔ وہ راستے دکھاتا، کتابیں تجویز کرتا، لوگوں کو اچھے انسانوں سے ملواتا اور خیر کو پھیلانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی وہ رویہ ہے جو معاشروں میں محبت، اعتماد اور ترقی کو جنم دیتا ہے۔ دنیا میں جتنے بڑے علمی، ادبی اور تہذیبی مراکز بنے، ان کی بنیاد اسی اجتماعی مزاج پر تھی۔ بغداد، قرطبہ، دہلی اور لاہور کی علمی رونقیں اس لیے قائم ہوئیں کہ وہاں علم کو تقسیم کیا جاتا تھا، اسے ذاتی ملکیت نہیں سمجھا جاتا تھا۔

زندگی مختصر ہے، لیکن انسان اپنی گفتگو، اپنے اخلاق اور اپنے علم کے ذریعے دوسروں کی زندگیوں میں دیرپا اثر چھوڑ سکتا ہے۔ شاید کسی کو ایک اچھی کتاب کی طرف متوجہ کر دینا اس کی پوری زندگی بدل دے، شاید کسی کو ایک اچھے انسان سے ملوا دینا اس کے لیے نئی راہیں کھول دے اور شاید کسی اداس دل کے ساتھ ایک اچھی گفتگو اسے مایوسی کے اندھیروں سے نکال لے۔ اسی لیے خیر کو پھیلانا سب سے بڑی نیکیوں میں سے ایک ہے۔ چراغ جب دوسرے چراغ جلاتا ہے تو اس کی اپنی روشنی کم نہیں ہوتی بلکہ اندھیرا کم ہو جاتا ہے۔ انسان کی اصل کامیابی بھی یہی ہے کہ وہ جہاں بیٹھے وہاں خیر، علم، محبت اور شعور کی روشنی بانٹتا چلا جائے۔ مختار مسعود کے یہ چند الفاظ دراصل ہمیں یہی سبق دیتے ہیں کہ جو نعمت صرف اپنی ذات تک محدود رہ جائے وہ مکمل نعمت نہیں رہتی۔ نعمت کا حسن اس کے بانٹنے میں ہے اور انسان کی بڑائی اس کے ظرف کی وسعت میں۔

Check Also

Khudara Kaptan Ko Chor Dein

By Umar Khan Jozvi