Saturday, 21 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Azmat Ka Zawal: Jab Bara Admi Choti Baat Kare

Azmat Ka Zawal: Jab Bara Admi Choti Baat Kare

عظمت کا زوال: جب بڑا آدمی چھوٹی بات کرے

ایک بزرگ درویش کے پاس دو آدمی آئے۔ ایک نے دوسرے کی شکایت کی کہ وہ مجھے ہر محفل میں برا بھلا کہتا ہے۔ درویش نے مسکرا کر کہا: "اگر کوئی تمہیں تحفہ دے اور تم قبول نہ کرو، تو وہ تحفہ کس کے پاس رہتا ہے؟" اس نے جواب دیا: "دینے والے کے پاس"۔ درویش نے کہا: "بس یہی اصول الفاظ کا بھی ہے۔ جو کڑوا بولتا ہے، اس کی کڑواہٹ اسی کے ظرف میں رہتی ہے، تمہارے حصے میں صرف تمہارا کردار آتا ہے"۔ کھیل بھی دراصل اسی ظرف کا امتحان ہے، جہاں میدان میں صرف مہارت نہیں، بلکہ دل کی کشادگی بھی دیکھی جاتی ہے۔

حالیہ دنوں میں ایک سابق بھارتی کرکٹر گواسکرکے ایک بیان نے کرکٹ کے حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک ایسے کھلاڑی کی حیثیت سے، جس نے برسوں تک کھیل کے میدان میں اپنی تکنیک اور استقلال سے دنیا کو متاثر کیا، ان سے یہ توقع کی جاتی تھی کہ وہ کھیل کو سیاست سے بلند رکھنے کی روایت کو تقویت دیں گے۔ مگر جب کسی بڑے نام سے ایسے خیالات سامنے آئیں جو کھیل کو قومی تعصبات کی عینک سے دیکھتے ہوں، تو سوال صرف ایک بیان کا نہیں رہتا، بلکہ اس سوچ کا ہو جاتا ہے جو کھیل کے بنیادی فلسفے سے متصادم ہے۔ کرکٹ، جسے "جینٹل مین کا کھیل" کہا جاتا ہے، ہمیشہ سے اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ کھلاڑی اور مبصر دونوں وسیع القلبی کا مظاہرہ کریں۔

ابرار احمد جیسے کھلاڑی کی کسی بین الاقوامی لیگ میں شمولیت کو اگر محض ایک مالی یا سیاسی زاویے سے دیکھا جائے تو یہ کھیل کی روح کو محدود کرنے کے مترادف ہے۔ کھیل دراصل قوموں کے درمیان پل کا کام کرتا ہے، دیوار کا نہیں۔ جب ایک پاکستانی کھلاڑی کسی غیر ملکی ٹیم میں شامل ہوتا ہے، تو وہ صرف اپنے ملک کی نمائندگی نہیں کرتا بلکہ کھیل کے اس عالمی تصور کی ترجمانی کرتا ہے جہاں مہارت، محنت اور صلاحیت کو سرحدوں سے بالاتر ہو کر سراہا جاتا ہے۔ یہی وہ تصور ہے جس نے ماضی میں کھیل کو جنگوں کے بعد بھی قوموں کو قریب لانے کا ذریعہ بنایا۔

یہ امر بھی قابل غور ہے کہ میڈیا اور عوامی حلقے بعض اوقات شخصیات کو بلا تنقید قبول کر لیتے ہیں۔ احترام اپنی جگہ، مگر ہر رائے کو عقل و دلیل کی کسوٹی پر پرکھنا بھی ضروری ہے۔ کسی بڑے نام کا ہونا اس بات کی ضمانت نہیں کہ اس کی ہر بات درست ہو۔ اصل وقار اس میں ہے کہ ہم اختلاف کو شائستگی کے ساتھ بیان کریں اور کسی بھی شخصیت کی بات کو اندھا دھند قبول کرنے کے بجائے اس کے مضمرات کو سمجھیں۔ اگر کسی بیان میں تنگ نظری جھلکتی ہے تو اس کا جواب بھی کشادہ دلی اور فکری بلوغت سے دینا چاہیے، نہ کہ اسی لہجے میں اتر کر۔

پاکستانی معاشرے کے لیے بھی یہ ایک موقع ہے کہ وہ اپنے ردعمل میں وقار کو برقرار رکھے۔ کسی بھی اختلافی بیان پر ردعمل دینا فطری ہے، مگر اس ردعمل کا مہذب ہونا ہی ہماری اصل پہچان ہے۔ کھیل کے میدان میں ہمارے کھلاڑیوں نے ہمیشہ اپنی کارکردگی سے جواب دیا ہے اور یہی روایت برقرار رہنی چاہیے۔ الفاظ کی جنگ میں الجھنے کے بجائے اگر ہم اپنے کردار، اپنی مہارت اور اپنی اقدار سے دنیا کو متاثر کریں، تو یہی اصل کامیابی ہوگی۔

آخر میں یہ حقیقت ذہن میں رکھنی چاہیے کہ کھیل صرف جیت اور ہار کا نام نہیں، بلکہ یہ انسانوں کو جوڑنے کا ذریعہ بھی ہے۔ اگر ہم کھیل کو تعصب سے آلودہ کر دیں گے تو اس کی خوبصورتی ماند پڑ جائے گی۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم نہ صرف دوسروں سے بلکہ خود سے بھی یہ عہد کریں کہ کھیل کو کھیل ہی رہنے دیں گے، ایک ایسا میدان جہاں نفرت نہیں، بلکہ احترام، برداشت اور انسانیت کا بول بالا ہو۔

وقت ہمیں بار بار یہ سکھاتا ہے کہ اصل عظمت صرف مہارت میں نہیں، بلکہ ظرف میں ہوتی ہے۔ جو دل وسیع ہوتا ہے، وہی دوسروں کے لیے جگہ پیدا کرتا ہے اور وہی تاریخ میں عزت پاتا ہے۔

دل کو کشادہ رکھ کہ یہی اصل جیت ہے
نفرت کی ہر دیوار فقط اک شکست ہے

کھیلوں میں بھی رکھ ظرف، یہ دنیا کا چلن ہے
جو دل سے بڑا ہو، وہی انسان عظمت ہے

لفظوں سے نہیں بنتی ہے پہچان کسی کی
کردار کی خوشبو ہی اصل شہرت ہے

تعصب کی فضا میں نہ کھلے گا کوئی پھول
محبت ہی زمینوں کی حقیقی زینت ہے

Check Also

Azmat Ka Zawal: Jab Bara Admi Choti Baat Kare

By Asif Masood