Saturday, 31 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Akhar Pan, Takabur Aur Insani Iqdar

Akhar Pan, Takabur Aur Insani Iqdar

اکھڑ پن، تکبر اور انسانی اقدار

ہوٹل کی گاڑی اس کا چھوٹا بیٹا چلا رہا تھا، چہرے پر عجیب سا اعتماد، لہجے میں سختی اور آنکھوں میں وہ روایتی اکھڑ پن جو خود کو برتر سمجھنے کی غلط فہمی سے جنم لیتا ہے۔ ایرانی معاشرت میں اس وصف کو بعض لوگ غیرت، خودداری اور قومی وقار کے نام سے سجاتے ہیں، مگر حقیقت میں یہ اکثر تکبر کی وہ شکل بن جاتا ہے جو انسان کو انسان سے کاٹ دیتی ہے۔ میں نے اس ایک مختصر لمحے میں صرف ایک لڑکے کا رویہ نہیں دیکھا، بلکہ ایک طویل تہذیبی رویّے کی جھلک دیکھی۔ وہ رویہ جو اپنی عظمتِ رفتہ کے بوجھ تلے دب کر حال کے انسان کو حقیر سمجھنے لگتا ہے۔ تاریخ جب شان و شوکت کی کہانیاں سناتی ہے تو بعض قومیں ان کہانیوں کو آئینہ بنانے کے بجائے نقاب بنا لیتی ہیں، نتیجہ یہ کہ آنکھیں حال کی حقیقت دیکھنے سے قاصر ہو جاتی ہیں اور لہجہ انسانیت کے آداب بھول جاتا ہے۔

ایرانی تہذیب عظیم ہے، اس کی جڑیں علم، فلسفہ، شاعری اور تمدّن کے بحرِ بیکراں میں پیوست ہیں۔ فردوسی سے حافظ تک، ابنِ سینا سے خیام تک، یہ ایک ایسا سلسلہ ہے جس پر فخر بجا ہے۔ مگر فخر اور تکبر کے بیچ ایک باریک سی لکیر ہے، فخر اپنے ظرف کو بڑھاتا ہے، تکبر دوسروں کے ظرف کو گھٹاتا ہے۔ جب یہ لکیر مٹتی ہے تو رویّہ اکھڑ پن میں ڈھل جاتا ہے۔ وہ اکھڑ پن جو خدمت کے موقع کو حکم میں بدل دیتا ہے اور گفتگو کو مکالمہ رہنے نہیں دیتا۔ اس اکھڑ پن کی جڑ اکثر عدمِ تحفظ ہوتی ہے۔ اندر کہیں یہ خوف کہ اگر ہم نے نرمی دکھائی تو ہماری شناخت کمزور پڑ جائے گی۔ یوں شناخت کی حفاظت کے نام پر انسانیت کو قربان کر دیا جاتا ہے۔

یہ وصف کسی ایک قوم تک محدود نہیں۔ عرب دنیا میں یہ کبھی قبائلی تفاخر کی صورت میں نظر آتا ہے، یورپ کے بعض حصوں میں یہ تہذیبی برتری کے خول میں لپٹا ملتا ہے، برصغیر میں ذات پات، طبقاتی تفاخر اور نوآبادیاتی وراثت کے اثرات اس اکھڑ پن کو ایندھن دیتے ہیں، امریکا میں یہ طاقت اور دولت کی خودساختہ مرکزیت کے باعث جنم لیتا ہے، روس میں تاریخی سختی اور ریاستی جبر نے اس کے لہجے کی کھردرا بنا دیا ہے، چین میں قدیم تہذیبی تسلسل کبھی کبھی خارجی دنیا کے لیے سرد مہری میں بدل جاتا ہے، جاپان میں نظم و ضبط کی تقدیس، اگر توازن کھو دے، تو انسان کو قاعدے کے نیچے دبا دیتی ہے۔ گویا اکھڑ پن ایک عالمی بیماری ہے۔ بس اس کے ماسک مختلف ہیں۔ کہیں یہ قوم پرستی کہلاتا ہے، کہیں تہذیب، کہیں روایت، کہیں طاقت۔

مگر تاریخ یہی سکھاتی ہے کہ جو قومیں اپنے رویّوں میں نرمی اور وقار کو جگہ دیتی ہیں، وہ دیرپا عزت کماتی ہیں۔ عاجزی کوئی کمزوری نہیں، یہ دراصل اپنی طاقت پر اعتماد کی علامت ہے۔ انکساری وہ روشنی ہے جو دوسرے کی آنکھ میں بھی خود کو پہچان لیتی ہے۔ خدمت وہ زبان ہے جسے ہر تہذیب سمجھتی ہے۔ عزت وہ پھول ہے جو حکم سے نہیں، حسنِ سلوک سے کھلتا ہے۔ جب ریاستیں اور قومیں اس اصول کو بھولتی ہیں تو سفارت میں تلخی، تجارت میں رکاوٹ اور معاشرت میں بے اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ جب فرد یہ بھولتا ہے تو ایک ہوٹل کی گاڑی میں بیٹھا لڑکا بھی خود کو سڑک کا مالک سمجھنے لگتا ہے۔

ہمارے اپنے معاشرے میں بھی آئینہ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ہم مذہب، علم، تاریخ اور قربانیوں کے نام پر دوسروں سے برتر ہونے کا خمار پال لیتے ہیں، پھر اسی خمار میں انسان کو کمتر سمجھ بیٹھتے ہیں۔ حالانکہ ہمارے اخلاقی سرمایے میں عاجزی بنیادی قدر ہے۔ ہماری روایات کہتی ہیں کہ بڑا وہ ہے جو جھک کر ملے، طاقتور وہ ہے جو معاف کرے، دانا وہ ہے جو سن لے۔ بحرِ بیکراںِ انسانیت میں یہی موتی نایاب ہیں۔ لہجے کی نرمی، خدمت کی لگن اور عزت کی تقسیم۔ اکھڑ پن وقتی رعب تو پیدا کر سکتا ہے، مگر دلوں میں جگہ نہیں بنا سکتا۔

آخرکار سوال قوموں کا نہیں، انسان ہونے کا ہے۔ ہم جس گاڑی میں بیٹھے ہیں، وہ وقت کی گاڑی ہے، اس کا ڈرائیور وہی معتبر ہے جو راستہ بھی جانتا ہو اور مسافروں کی عزت بھی۔ تکبر راستہ بھلا دیتا ہے، عاجزی منزل دکھاتی ہے۔ اگر ہمیں واقعی عظمت عزیز ہے تو ہمیں رویّوں میں عظمت پیدا کرنا ہوگی۔ وہ عظمت جو نرم ہو، باوقار ہو اور خدمت گزار ہو۔ یہی وہ روشنی ہے جو فرد کو انسان، قوم کو معتبر اور دنیا کو قابلِ رہائش بناتی ہے۔

انسان کی اصل پہچان اس کے لہجے، رویّے اور سلوک میں چھپی ہوتی ہے، نہ کہ اس کی قوم، تاریخ یا طاقت کے دعووں میں۔ جب تکبر بولنے لگتا ہے تو انسان خاموش ہو جاتا ہے اور جب عاجزی سامنے آتی ہے تو دل خود بخود جھک جاتے ہیں۔ یہی فرق ہے اکھڑ پن اور وقار میں اور یہی فرق معاشروں کو بگاڑتا یا سنوارتا ہے۔

اکڑ کے جو چلا، وہی راہ ہارا
جو جھک کے ملا، وہی دل جیتا سارا

غرور کی دیوار اونچی تو بہت ہے
مگر اس کے سائے میں کوئی بھی نہ ٹھہرا

عظمت کا قرینہ یہی ہے زمانے
جو بن کے رہے آدمی، وہی نکھرا

زباں نرم ہو تو اثر خود بنے گا
لہجہ ہی بتاتا ہے انسان کتنا کھرا

Check Also

Ilm Ul Kalam, Aqal e Saleem Aur Falsafiyana Aqal

By Mohammad Din Jauhar