Tuesday, 31 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Aik Nayab Insan Aur Mukammal Hawa Baz Ka Qissa

Aik Nayab Insan Aur Mukammal Hawa Baz Ka Qissa

ایک نایاب انسان اور مکمل ہواباز کا قصہ

کہتے ہیں ایک بزرگ کے پاس ایک نوجوان آیا اور عرض کیا: "حضور! میں بڑا آدمی بننا چاہتا ہوں، مجھے کوئی راز بتائیے"۔ بزرگ نے مسکرا کر کہا: "بیٹا! بڑا آدمی بننا آسان ہے، بس اپنے منصب میں مہارت حاصل کر لو، لوگ تمہیں بڑا کہنے لگیں گے"۔ نوجوان نے پھر پوچھا: "اور مکمل آدمی کیسے بنا جاتا ہے؟" بزرگ کی آنکھوں میں گہرائی اتر آئی، بولے: "یہ مشکل ہے، اس کے لیے کردار، سچائی، خلوص اور انسانیت کو ایک ساتھ جینا پڑتا ہے۔ منصب تمہیں بڑا بناتا ہے، مگر اوصاف تمہیں مکمل بناتے ہیں"۔ نوجوان خاموش ہوگیا، کیونکہ اسے پہلی بار اندازہ ہوا کہ عظمت اور تکمیل میں کتنا فرق ہوتا ہے۔

ایئر مارشل اصغر خان نے اپنے رفیق اور ماتحت افسر ایئر کموڈور مسرور حسین کی وفات پر جو تعزیتی کلمات تحریر کیے، وہ محض ایک فوجی افسر کے لیے رسمی خراجِ عقیدت نہیں، بلکہ ایک "مکمل انسان" کے پورے وجود کی عکاسی ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ مسرور حسین کی شہادت سے پاکستان ایئر فورس اپنے بہترین افسران میں سے ایک سے محروم ہوگئی۔ یہ جملہ بظاہر سادہ ہے، مگر اس کے اندر ایک ادارے کی تاریخ، اس کی روایت اور اس کے اعلیٰ ترین معیاروں کا اعتراف پوشیدہ ہے۔ ایک ایسا ادارہ جو بہادری، مہارت اور قربانی کے سینکڑوں واقعات سے بھرا ہوا ہو، وہاں کسی ایک شخص کو "بہترین" کہنا دراصل اس کے غیر معمولی ہونے کا اعلان ہے۔ مسرور حسین نہ صرف ایک غیر معمولی پائلٹ تھے بلکہ ایک شاندار کھلاڑی بھی اور یہ امتزاج اس بات کی دلیل ہے کہ وہ زندگی کے ہر میدان میں توازن اور ہم آہنگی کے قائل تھے۔

اصغر خان کے الفاظ میں ایک خاص درد اور وقار ہے جب وہ کہتے ہیں کہ مسرور حسین نے اپنے کیریئر کے ہر مرحلے پر نمایاں کارکردگی دکھائی۔ مگر اصل بات یہاں ختم نہیں ہوتی، بلکہ وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں وہ ان کی شخصیت کے انسانی پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان میں ایک نایاب دلکشی اور ایسا اندازِ گفتگو تھا جو ہر محفل کو متاثر کر دیتا تھا۔ یہ وہ صفات ہیں جو کسی تربیتی ادارے میں نہیں سکھائی جاتیں، بلکہ انسان کے باطن میں پروان چڑھتی ہیں۔ ایک فوجی افسر کا دلکش ہونا، نرم گفتار ہونا اور دوسروں کو متاثر کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ صرف حکم دینے والا نہیں بلکہ دل جیتنے والا انسان بھی تھا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایک پیشہ ور افسر، ایک مکمل انسان میں ڈھلتا ہے۔

یہ بات بھی نہایت اہم ہے کہ اصغر خان نے انہیں ایک ایسا شخص قرار دیا جو ہمیشہ اعلیٰ پیشہ ورانہ معیار قائم کرتا تھا۔ ایک ایسے ادارے میں جہاں ہر فرد اعلیٰ تربیت یافتہ ہو، وہاں کسی ایک کا نمایاں ہونا آسان نہیں ہوتا۔ مگر مسرور حسین نے نہ صرف اپنی صلاحیتوں سے بلکہ اپنی بے باکی اور دیانت داری سے خود کو ممتاز کیا۔ وہ کھل کر بات کرنے والے، سچ بولنے والے اور ہر بحث کو ایک نئی تازگی دینے والے انسان تھے۔ آج کے دور میں، جہاں اکثر لوگ مصلحت کا شکار ہو جاتے ہیں، وہاں ایک ایسا شخص جو سچائی کے ساتھ کھڑا ہو، یقیناً نایاب ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اصغر خان نے انہیں "مکمل افسر" قرار دیا۔ یہ ایک ایسا لقب ہے جو کسی عہدے سے نہیں بلکہ کردار سے حاصل ہوتا ہے۔

اصغر خان کا یہ اعتراف بھی حقیقت پسندانہ ہے کہ فوجی ادارے نقصانات کے عادی ہوتے ہیں اور وقت کے ساتھ نئے لوگ ان کی جگہ لے لیتے ہیں۔ مگر وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ مسرور حسین جیسی انسانی خوبیاں شاید ہی دوبارہ دیکھنے کو ملیں۔ یہ جملہ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ پیشہ ورانہ مہارت سیکھی جا سکتی ہے، مگر انسانیت، خلوص اور کردار جیسی صفات فطری اور نایاب ہوتی ہیں۔ ایک ادارہ نئے افسر پیدا کر سکتا ہے، مگر "مکمل انسان" پیدا کرنا اس کے بس میں نہیں ہوتا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایک فرد اپنی ذات سے بڑھ کر ایک مثال بن جاتا ہے، ایک ایسا معیار جسے دوسرے حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر کم ہی اس تک پہنچ پاتے ہیں۔

ان کی وفات کے بارے میں اصغر خان کا یہ کہنا کہ وہ اسی ماحول میں دنیا سے رخصت ہوئے جسے انہوں نے اپنی زندگی کے بہترین 23 سال دیے، ایک عجیب سی معنویت رکھتا ہے۔ گویا انہوں نے اپنی زندگی بھی اسی راہ میں گزاری اور اپنی موت بھی اسی کے سپرد کر دی۔ یہ کسی سپاہی کے لیے سب سے بڑی سعادت ہے کہ وہ اپنے فرض کی ادائیگی میں ہی جان دے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے پیچھے ایک جوان بیوی اور دو معصوم بچوں کو چھوڑ گئے، جو اس دکھ کو سہہ رہے ہیں۔ اصغر خان کی یہ دعا کہ وہ اس صدمے کو اسی حوصلے سے برداشت کریں جیسے مسرور حسین چاہتے، دراصل ایک انسانی ہمدردی کا اظہار ہے جو اس پورے نوحے کو مزید گہرا بنا دیتا ہے۔

یہ ساری تحریر ہمیں ایک بنیادی سبق دیتی ہے کہ انسان کی اصل عظمت اس کے عہدے، اس کی کامیابیوں، یا اس کی شہرت میں نہیں، بلکہ اس کے کردار، اس کی انسانیت اور اس کی سچائی میں ہوتی ہے۔ مسرور حسین جیسے لوگ تاریخ کے صفحات میں صرف اس لیے زندہ نہیں رہتے کہ وہ بڑے افسر تھے، بلکہ اس لیے کہ وہ بڑے انسان تھے۔ وہ ہمیں یہ سکھا کر جاتے ہیں کہ اگر ہم اپنی زندگی کو معنی دینا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے اندر وہ اوصاف پیدا کرنے ہوں گے جو ہمیں دوسروں کے لیے ایک مثال بنا دیں۔

زندگی کے سفر میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو محض اپنی موجودگی سے ماحول کو بدل دیتے ہیں۔ ان کی بات، ان کا انداز اور ان کا کردار ایک روشنی کی مانند ہوتا ہے جو دوسروں کے راستے کو منور کرتا ہے۔ ایسے لوگ کم ہوتے ہیں، مگر جب بھی آتے ہیں، ایک لازوال نقش چھوڑ جاتے ہیں۔

وہ شخص گیا تو روشنی بھی ساتھ لے گیا
ہر سمت اک اداس سی خاموشی دے گیا

جو بات سچ تھی، وہی لبوں پر سجا کے رکھی
وہ آئینہ تھا، سب کو حقیقت دکھا کے گیا

نہ عہدہ، نہ شہرت، نہ کوئی جاہ و جلال
وہ اپنی سادگی میں ہی دنیا جیتا گیا

ہم اس کے بعد بھی جئیں گے مگر یہ طے ہے
وہ جینے کا ہنر ہمیں سکھا کے گیا

Check Also

Uch Shareef Yaadon Ki Khushbu

By Javed Ayaz Khan