Saturday, 28 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Abhi Sabr, Sari Zindagi Sar Bulandi

Abhi Sabr, Sari Zindagi Sar Bulandi

ابھی صبر، ساری عمر سربلندی

ایک بار ایک نوجوان اپنے استاد کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا: "میں کامیابی چاہتا ہوں، مگر راستہ دشوار لگتا ہے، تکلیف برداشت نہیں ہوتی"۔ استاد مسکرایا، اسے دریا کے کنارے لے گیا اور اچانک اس کا سر پانی میں دبا دیا۔ نوجوان تڑپنے لگا، سانس کے لیے بے چین ہوگیا اور جب استاد نے اسے چھوڑا تو وہ ہانپتا ہوا باہر نکلا۔ استاد نے پوچھا: "پانی کے اندر تمہیں سب سے زیادہ کس چیز کی خواہش تھی؟" نوجوان بولا: "صرف سانس کی!" استاد نے کہا: "جب کامیابی کی خواہش تمہیں اسی شدت سے ہو جائے، تب تمہیں کوئی نہیں روک سکتا، لیکن یاد رکھو، اس کے لیے گھٹن، صبر اور برداشت کی وہی آزمائش درکار ہے"۔

"Suffer now and live the rest of your life as a champion"، یہ محض ایک جملہ نہیں، بلکہ ایک مکمل فلسفۂ حیات ہے۔ اس کا سادہ سا اردو ترجمہ یوں کیا جا سکتا ہے: "ابھی مشقت اور تکلیف برداشت کرو، تاکہ باقی زندگی ایک فاتح کی طرح گزار سکو"۔ لیکن اس جملے کی گہرائی اس کے لفظی معنی سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ عارضی تکلیف، مستقل کامیابی کی قیمت ہوتی ہے۔ دنیا کے ہر بڑے انسان نے، ہر کامیاب شخصیت نے اور ہر سچے رہنما نے اپنے سفر کے آغاز میں دکھ، تھکن اور قربانی کو گلے لگایا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو عام انسان کو غیر معمولی بنا دیتا ہے۔

ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں فوری نتائج کی خواہش نے صبر کو نایاب بنا دیا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ آج بیج بوئیں اور کل درخت کے سائے میں بیٹھ جائیں۔ مگر قدرت کے اصول اس جلد بازی کو قبول نہیں کرتے۔ بیج کو زمین کی تاریکی میں گلنا پڑتا ہے، تب کہیں جا کر وہ ایک تناور درخت بنتا ہے۔ اسی طرح انسان کو بھی مشکلات، ناکامیوں اور آزمائشوں کی تاریکی سے گزرنا پڑتا ہے تاکہ وہ روشنی میں ایک کامیاب اور باوقار وجود بن کر ابھرے۔ جو لوگ اس ابتدائی تکلیف سے بھاگتے ہیں، وہ دراصل اپنی ہی عظمت کے دروازے بند کر لیتے ہیں۔

یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ تکلیف انسان کو توڑتی نہیں، بلکہ بناتی ہے۔ بشرطیکہ وہ اس کا سامنا حوصلے اور شعور کے ساتھ کرے۔ ایک کھلاڑی جب میدان میں اترتا ہے تو اس کی کامیابی کے پیچھے برسوں کی محنت، پسینہ اور کبھی کبھی آنسو بھی شامل ہوتے ہیں۔ ایک لکھاری کے الفاظ کی چمک کے پیچھے بے شمار راتوں کی جاگ، سوچ کی گہرائی اور خود سے مسلسل مکالمہ ہوتا ہے۔ ایک سپاہی کی جرات کے پیچھے سخت تربیت اور قربانیوں کی داستان ہوتی ہے۔ یہ سب لوگ "ابھی تکلیف" کے اصول کو سمجھتے ہیں، اسی لیے "ہمیشہ کی کامیابی" ان کا مقدر بنتی ہے۔

ہماری ذاتی زندگیوں میں بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے۔ اگر ہم اپنی عادات کو بہتر بنانے کے لیے وقتی مشکلات برداشت کر لیں، اگر ہم علم حاصل کرنے کے لیے آرام قربان کر دیں، اگر ہم اپنے جسم کو صحت مند بنانے کے لیے تھکن کو قبول کر لیں، تو یہی چھوٹی چھوٹی قربانیاں ہمیں ایک بڑی کامیابی کی طرف لے جاتی ہیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ تکلیف آئے گی یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم اس تکلیف کو کیسے دیکھتے ہیں۔ بوجھ کے طور پر یا ایک موقع کے طور پر؟ جو لوگ اسے موقع سمجھتے ہیں، وہی اصل فاتح ہوتے ہیں۔

آخرکار، یہ جملہ ہمیں زندگی کا ایک بنیادی سبق دیتا ہے۔ آسانی ہمیشہ قیمت مانگتی ہے اور وہ قیمت عموماً ابتدا میں ادا کرنی پڑتی ہے۔ اگر ہم اس اصول کو سمجھ لیں اور اپنی زندگی میں نافذ کر لیں، تو نہ صرف ہم اپنے مقاصد حاصل کر سکتے ہیں بلکہ ایک باوقار اور بامعنی زندگی بھی گزار سکتے ہیں۔ کامیابی کسی ایک لمحے کا نام نہیں، بلکہ ایک مسلسل جدوجہد کا نتیجہ ہے اور یہ جدوجہد اسی وقت رنگ لاتی ہے جب ہم وقتی تکلیف کو مستقل کامیابی کے لیے قبول کر لیتے ہیں۔

اختتاماً یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ زندگی ہمیں ہر روز ایک انتخاب دیتی ہے: یا تو ہم آج آسانی اختیار کرکے کل پچھتائیں، یا آج محنت اور صبر کا راستہ چن کر کل فخر سے سر اٹھائیں۔ یہی انتخاب ہماری تقدیر کا تعین کرتا ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں ایک عام انسان اور ایک چیمپئن کے راستے جدا ہو جاتے ہیں۔

مشقت کی راہ اگرچہ کٹھن ہے، مگر اسی میں کامیابی کا راز پوشیدہ ہے۔ جو لوگ وقتی تکلیف کو برداشت کر لیتے ہیں، وہی دائمی عزت اور کامیابی کے حق دار ٹھہرتے ہیں۔

صبر کی دھوپ میں جل کر جو نکھر جاتے ہیں
وہی تاریخ کے صفحوں پہ ابھر جاتے ہیں

آج کی سختی اگر ہنس کے سہی جائے تو
کل کے دن خواب حقیقت میں بدل جاتے ہیں

راہِ دشوار سے گھبرا کے نہ رک اے دل
یہی رستے ہیں جو منزل پہ پہنچاتے ہیں

Check Also

Jahan Gandagi, Wahi Zindagi

By Syed Mehdi Bukhari