Wednesday, 25 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. 14 Kaptano Ka Khat: Mere Kaptan Ke Liye

14 Kaptano Ka Khat: Mere Kaptan Ke Liye

چودہ کپتانوں کا خط: میرے کپتان کے لئے

کہتے ہیں ایک قدیم ساحلی بستی میں ایک بوڑھا چراغ بان رہتا تھا۔ سمندر طوفانی ہو یا ہوا ساکن، وہ ہر شام مینار پر چڑھ کر چراغ روشن کرتا۔ ایک رات کسی نے اس سے پوچھا: "جب جہاز نظر ہی نہیں آتے تو یہ چراغ کیوں جلاتے ہو؟" وہ مسکرایا اور بولا: "میں جہازوں کے لیے نہیں، اپنے فرض کے لیے چراغ جلاتا ہوں۔ اگر کبھی کوئی بھٹکا ہوا مسافر افق پر نمودار ہو جائے تو اسے معلوم ہو کہ اندھیرے کے مقابل کوئی نہ کوئی ابھی بھی کھڑا ہے"۔ تاریخ گواہ ہے کہ قومیں اسی وقت کمزور ہوتی ہیں جب ان کے چراغ بان اپنے چراغ بجھا دیتے ہیں اور کھیلوں کی دنیا میں بھی کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو محض کھلاڑی نہیں رہتے، وہ روایت کے نگہبان بن جاتے ہیں۔

حالیہ دنوں میں جب سابق بین الاقوامی کپتانوں کے ایک گروہ نے اپنے ایک پرانے حریف اور دوست کے حق میں آواز بلند کی تو بہت سوں نے اسے محض ایک سیاسی اقدام سمجھا۔ مگر اس خط کے پس منظر میں جو جذبہ کارفرما تھا، وہ سیاست کی گرہیں نہیں، بلکہ رفاقت، وقار اور انسانی ہمدردی کے دھاگوں سے بُنا ہوا تھا۔ اس خط کی پیش قدمی کرنے والوں میں نمایاں نام گریگ چیپل کا ہے اور جس شخصیت کے لیے یہ آواز بلند ہوئی وہ ہیں عمران خان، وہی عمران خان جنہوں نے 1992 میں پاکستان کو ورلڈ کپ جتوایا اور پھر اقتدار کی پرخطر وادیوں میں قدم رکھا۔ چودہ سابق کپتانوں نے، جن میں مختلف ممالک کے نمایاں کرکٹ قائدین شامل تھے، ایک خط لکھ کر مطالبہ کیا کہ ایک بیمار اور معمر قیدی کو بنیادی انسانی حقوق، مناسب طبی سہولت اور قانونی شفافیت میسر ہونی چاہیے۔ یہ خط دراصل اس روایت کی توسیع تھا جس میں میدان کے حریف میدان سے باہر ایک دوسرے کے احترام کے امین بن جاتے ہیں۔

گریگ چیپل اپنے مضمون میں ایک خوبصورت تمثیل پیش کرتے ہیں۔ طوفان کی رات میں چراغ بان کی طرح کچھ لوگ روایت کے چراغ کی حفاظت کرتے ہیں۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ ان کا اور عمران کا تعلق صرف مقابلے کا نہیں تھا، بلکہ اس باہمی احترام کا تھا جو ٹیسٹ کرکٹ کی سختیوں میں پروان چڑھتا ہے۔ انہوں نے عمران کو ایک ایسے قائد کے طور پر یاد کیا جو اپنی ٹیم کو حکم نہیں دیتا تھا، بلکہ اس میں یقین اور ولولہ پیدا کرتا تھا۔ 1992 کی فتح محض ایک کھیل کی کامیابی نہیں تھی، وہ ایک قومی خوداعتمادی کی بحالی تھی۔ کپ اٹھا کر جب عمران نے ملک کے طول و عرض کا دورہ کیا تو وہ اپنی ذات کی تشہیر نہیں کر رہے تھے، بلکہ قوم کو یہ باور کرا رہے تھے کہ عظمت کا خواب دیکھنا بھی ایک حق ہے۔ انہی سفرناموں میں، عام لوگوں کی باتیں سنتے ہوئے، سیاست کے بیج ان کے دل میں پڑے۔

یہ بھی دلچسپ ہے کہ چیپل نے 2004 میں لاہور کی نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں عمران سے ایک نجی گفتگو کا ذکر کیا۔ انہوں نے حیرت سے پوچھا کہ وہ سیاست جیسے ہنگامہ خیز میدان میں کیوں اتر رہے ہیں۔ عمران کا جواب سادہ تھا: "میں چاہتا ہوں میرا ملک وہ بنے جو وہ بن سکتا ہے"۔ انہوں نے زندگی اور سیاست کو سات سالہ دائروں میں تقسیم کرکے پیش گوئی کی کہ اگر ایک دائرہ چوک بھی گیا تو اگلے کا انتظار کریں گے۔ وقت نے عجیب طرح سے ان کے حساب کو درست ثابت کیا۔

2020 میں، جب وہ وزیر اعظم تھے، چیپل، سر ویوین رچرڈز اور شین واٹسن سے ان کی ملاقات ہوئی۔ طے شدہ پندرہ منٹ کی نشست پینتالیس منٹ تک پھیل گئی۔ بیرونی دنیا کے دباؤ، سفارتی مصروفیات اور سیاسی ہنگاموں کے باوجود وہ اس لمحے میں زندہ، بے تکلف اور پُرعزم دکھائی دیے۔ مگر پھر حالات نے پلٹا کھایا۔ 2023 سے ان کی قید، متعدد مقدمات اور صحت سے متعلق تشویشناک اطلاعات نے دنیا بھر میں سوالات کو جنم دیا۔ سابق کپتانوں کا کہنا ہے کہ یہ مطالبہ کسی سیاسی مؤقف کا اعلان نہیں، بلکہ ایک انسانی اپیل ہے کہ ایک سابق قومی رہنما اور عالمی کھیل کی علامت کو مناسب طبی سہولت اور باوقار سلوک ملنا چاہیے۔

اس خط کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ کرکٹ محض کھیل نہیں، ایک تہذیبی رشتہ ہے۔ جب ایلن بارڈر، مائیکل آتھرٹن، کلائیو لائیڈ، سٹیو وا، سنیل گواسکر اور کپیل دیو جیسے نام ایک صف میں آ کھڑے ہوں تو یہ صرف افراد کا اجتماع نہیں رہتا، بلکہ ایک عہد کی گواہی بن جاتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی اپنی قومی کرکٹ ٹیموں کی قیادت کی، تنقید سہی، شکستیں جھیلیں، فتوحات منائیں اور آخرکار اس نتیجے پر پہنچے کہ کھیل کا اصل سرمایہ باہمی احترام ہے۔ اگر وہ کہتے ہیں کہ کسی بھی قیدی کو بنیادی انسانی حقوق ملنے چاہئیں تو یہ ایک اخلاقی یاد دہانی ہے کہ کھیل کی روح سیاست سے بالاتر ہو سکتی ہے، بشرطیکہ نیت میں اخلاص ہو۔

یہ پورا قضیہ ہمیں ایک بڑے سوال کی طرف لے جاتا ہے۔ کیا ہم اپنے عہد کے چراغ بانوں کو پہچانتے ہیں؟ کیا ہم اس فرق کو سمجھتے ہیں جو سیاسی اختلاف اور انسانی ہمدردی کے درمیان حائل ہے؟ سابق کپتانوں کا خط کسی عدالتی فیصلے کو کالعدم قرار نہیں دیتا، نہ کسی حکومت کو گرانے کی اپیل کرتا ہے، وہ صرف یہ کہتا ہے کہ قانون کی حکمرانی کے ساتھ وقارِ انسانیت بھی لازم ہے۔ کرکٹ کی تاریخ میں حریف ایک دوسرے کو باؤنسر بھی مارتے رہے ہیں اور میچ کے بعد گلے بھی ملتے رہے ہیں۔ شاید یہی وہ تہذیب ہے جو سیاست کو بھی درکار ہے۔ اگر ہم اپنے اختلافات کے باوجود ایک بیمار انسان کے لیے بنیادی سہولت کا مطالبہ نہیں کر سکتے تو پھر کھیل کی دہائی دینا بھی محض لفظی تماشہ رہ جائے گا۔ چراغ بان کی طرح، ان کپتانوں نے اپنا چراغ جلایا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس روشنی کو دیکھنا چاہتے ہیں یا نہیں۔

یہ کالم کھیل، سیاست اور انسانی وقار کے سنگم پر کھڑے ایک لمحے کی ترجمانی ہے، جہاں سابق کپتانوں کی اجتماعی آواز ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصل میراث رنز اور وکٹیں نہیں، کردار اور انصاف ہیں۔

چراغ جلتے رہیں تو اندھیرا کم ہوگا
ضمیر جاگتا ہو تو فیصلہ اہم ہوگا

حریف تھا جو کبھی، آج ہم نوا ٹھہرا
یہ کھیل سکھاتا ہے، دل کبھی نرم ہوگا

قفس میں بھی وہی حوصلہ، وہی وقار
اگر سچائی ساتھ ہو تو کیا غم ہوگا

صدا یہ وقت کی ہے، سنو اے اہلِ نظر
انصاف زندہ رہے تو ہی عالم ہوگا

Check Also

Abadi Tarazu

By Toqeer Bhumla