Wednesday, 21 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Anjum Kazmi
  4. Marriyum Aurangzeb Ki Smartness Ka Julapa

Marriyum Aurangzeb Ki Smartness Ka Julapa

مریم اورنگزیب کی سمارٹنس کا جلاپہ

عجیب جیلس لوگ ہیں، کسی کو خوش، ہنستا، مسکراتا یا سمارٹ نہیں دیکھ سکتے، اپنے کام پر کوئی توجہ نہیں دیتا، دوسروں کے کیڑے نکالتے رہتے ہیں، کوئی اچھا کھانا کھا رہا ہو تو کامیڈین مستانہ کی بات یاد آجاتی ہے، سٹیج پر انہوں نے اپنے ساتھی سے کہا کہ یہ حلوائی کی دکان پر کھڑا تھا وہاں کچھ لوگ جلیبیاں کھا رہے تھے تو انہیں دیکھتا رہا جب انہوں نے کھانے کی دعوت نہ دی تو کہا "کھاؤ کھاؤ، میرا ابا کیندا سی مٹھیاں ہوندیاں نے"۔

پنجاب کی سینئر وزیر محترمہ مریم اورنگزیب نے شدید ترین ڈائٹنگ کی اور اپنا وزن انتہائی کم کرلیا جو کہ بہت اچھی بات ہے، معاملہ اس وقت اچھالا گیا جب وہ مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف کی بیٹی کے بیٹے اور پنجاب کی وزیراعلی مریم نوازشریف کے بیٹے جنید صفدر کی دوسری شادی کی تقریب میں شریک ہوئیں جہاں بڑی شخصیات کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کی گئیں یا کرائی گئیں، ان تصاویر میں پنجاب کی سینئر وزیر اور وزیر اعلی پنجاب کی دست راست مریم اورنگزیب کی بھی تصاویر شامل تھیں جن کو دیکھ کر پہلے تو میں بھی پہچان ہی نہیں سکا پھر جب کمنٹس پڑھے تو حیرت سے تصاویر دیکھتا رہا تب مجھے نصیو لال کا گانا یاد آگیا، "کڑی جیوے 25 سال دی" اس مصرعے میں بڈھے وارے کا کوئی ذکر نہیں اور جلیس لوگ اس کے ساتھ وہ شامل نہ کریں۔

ظاہر ہے پنجاب کی تاریخ کی بڑی شادی تھی جس میں فیلڈ مارشل سے لیکر ملک کے ہر دلعزیز لیڈر نوازشریف بھی شریک تھے، نوازشریف جہاں شریک ہوں وہاں کسی وزیراعظم کی کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی چاہے وہ نوازشریف کا چھوٹا بھائی ہی کیوں نہ ہو، نوازشریف ایک برینڈ ہے، ان کے ہوتے ہوئے کوئی دوسرا برینڈ بن بھی نہیں سکتا۔

خیر بات مریم اورنگزیب صاحبہ کی ہو رہی ہے، سوشل میڈیا پر میڈم کی تصاویر شیئر کیا ہوئیں، لونڈے لپاڑوں نے طوفان بدتمیزی برپا کردیا اور الزام لگایا کہ سرجری کروائی ہے، پلاسٹک سرجری کرائی ہے، سرکاری خزانے سے سب کچھ کرایا ہے جس کے یوتھئے اور لونڈے لپاڑے کوئی ثبوت پیش نہ کرسکے، حسد کی آگ میں جلنے والوں نے بجائے ان کی سمارٹنس کو سراہنے کے الٹی سیدھی بکواس شروع کردی، بندہ پوچھے کہ بھئی سرکاری خزانے سے کیوں سرجری کرانی تھی، میاں نوازشریف کا دیا ہوا اتنا کچھ ہے کہ سرکاری خزانے پر بوجھ ڈالنے کی ضرورت ہی نہیں اور اگر سرکاری خزانہ خرچ ہوا ہے تو ثبوت دو ورنہ اپنی بکواس اور منہ بند رکھو۔

میں تو محترمہ کی تصاویر دیکھ کر بہت متاثر ہوا کیونکہ گزشتہ چالیس سالوں سے کوشش کررہا ہوں کہ اپنا وزن پانچ، چھ کلو کم کرلوں، ایک دو دن ڈائٹنگ کرتا ہوں تو اس کے بعد ہمت نہیں رہتی پھر انے واہ کھانا شروع کردیتا ہوں جس سے وزن مزید تین چار کلو بڑھ جاتا ہے، میرا قد پانچ فٹ پانچ انچ ہے، ڈاکٹروں اور نیوٹریشنٹ کے مطابق میرا وزن ساٹھ کلو گرام کے لگ بھک ہونا چاہئے مگر کم بخت منہ بند ہو تو وزن کم ہو، ایک دو دنوں کی ڈائٹنگ کے بعد پچھتر کلو گرام ہو جاتا ہے، ڈائٹنگ سے دن میں تارے اور آنکھوں کے آگے اندھیرا آجاتا ہے، محترمہ سینئر وزیر کا بھی جتنا قد ہے اتنا انہوں نے اپنا وزن کرلیا۔

وہ تو محترمہ مریم اورنگزیب کی والدہ طاہرہ اورنگزیب کا خدا بھلا کرے، انہوں نے سوشل میڈیا پر طوفان بدتمیزی کا بھرپور جواب دیا اور حاسدین کے منہ بند کردیئے، ان کا کہنا ہے کہ مریم اورنگزیب نے تین ماہ شدید ترین ڈائٹنگ کی ہے، وہ صرف چائے اور کافی پر گزارا کرتی رہیں، اب محترمہ کی والدہ سے بہتر کون بتا سکتا ہے کیونکہ وہ بنیادی طور پر ایل ایچ وی (لیڈی ہیلتھ ورکر) ہیں اور ان کی بیٹی کو جو اس وقت پارٹی میں عزت ملی ہے وہ محترمہ کی والدہ کی نوازشریف کی والدہ کی خدمت کے صلے میں ملی ہے، ممکن ہے انہوں نے ہی ڈائٹ پلان دیا ہو آخر میڈیکل کی تعلیم کس کام آئے گی۔

اگر حاسدین پھر بھی سڑتے مرتے ہیں تو وہ کترینہ کیف کا انٹرویو سن لیں جس میں اس نے کہا کہ انڈین فلم کا مشہور ترین گانا "نی کملی کملی" پکچرائز کرانے کیلئے چار ماہ صرف بند گوبھی کھائی تھی تب اتنی سمارٹ ہوئی تھی، ممکن ہے سینئر وزیر جو کہ وزیراعلی کی انتہائی قریب ہیں انہوں نے اس وقت سے ہی ڈائٹنگ شروع کردی ہو جب فیملی میں منڈے کی "ہاں" ہوئی ہو، تب محترمہ نے سوچا ہو کہ شادی میں ملک کے مہاراجوں اور شہزادوں نے شرکت کرنی ہے لہذا وہ کسی سے کم نہ لگیں تو انہوں نے اسی وقت اپنے پلان پر کام ہمت اور حوصلہ مندی سے شروع کردیا جس میں وہ سو فیصد کامیاب رہیں۔

ویسے بھی انسان کو سمارت اور ایکٹو (active) ہونا چاہئے، مجھے تو وہ لوگ بہت برے لگتے ہیں جن کا پیٹ نکلا ہو، وزن کی وجہ سے کمر جھکی ہو، گوڈے گٹے رہ گئے ہیں اور وہ لنگڑا کرچلتا ہو، شاید اسی لئے ایسے لوگوں کیلئے شاعر نے کہا تھا

کون کہتا ہے میرا محبوب لنگڑا ہے
وہ تو میرے عشق میں لہرا لہرا کر چلتا ہے

بہتر نہیں کہ بندہ تھوڑی سی ہمت اور عزم کا مظاہرہ کرے اور خود کو سمارٹ رکھے، ضروری تو نہیں کہ بندہ موٹا ہوکر ڈڈو جیسا منہ لیکر پھرتا رہے، پنجاب کی شادیوں میں ایک رواج بھی ہے کہ بوڑھی عورتیں جن کا وزن زیادہ ہوتا ہے اور وہ زیادہ چل پھر نہیں سکتیں وہ شادی میں ایک صوفہ مل کر بیٹھ جاتی ہیں اور اپنے بیٹوں کیلئے لڑکیاں تاڑتی رہتی ہے کوئی پسند آجائے تو پوچھتی ہیں، "اے کیدی کڑی اے، مینوں اپنے منڈے لئی پسند آگئی اے"۔

ایسا ہی ایک واقعہ ایک شادی میں میرے ساتھ پیش آیا، جوانی کے دنوں میں میری خالہ کو ایک شادی میں ایک لڑکی پسند آگئی انہوں نے شادی میں ہی پوچھ گچھ شروع کردی تو پتہ چلا کہ اس کی عمر میری عمر سے دگنی ہے اور تین بچوں کی ماں ہے مگر اس نے خود کو بہت فٹ رکھا ہوا، روز تین گھنٹے جم کرتی ہے، صحت ہزار نعمت ہے اس لئے خود کو سمارٹ رکھنا چاہئے، رہی بات سرجری یا پلاسٹک سرجری کی تو یہ الزام تو لونڈے لپاڑے محترمہ وزیراعلی پنجاب پر بھی لگاتے ہیں مگر ثبوت نہیں دیتے، حسد کی بھی کوئی حد ہوتی ہے، سیانے کہتے ہیں محنت کر حسد نہ کر، جلنے والے کا منہ کالا۔

جن کو کسی کی سمارٹنس سے زیادہ تکلیف ہے تو وہ بھی محنت کرے، تین ماہ چائے کافی اور ایکسرسائز کرکے سمارٹ ہوجائے، مگر کوئی بھی محترمہ مریم اورنگزیب جیسی ہمت نہیں کرسکتا، ڈائٹ کے ساتھ ساتھ سینئر وزیر کو پنجاب کے عوام کا دکھ بھی تو کھائے جاتا ہے اسی لئے وہ بھیس بدل کر سرکاری ہسپتالوں کے دورے بھی کرتی رہتی ہیں، عوام کے غم نے بھی ان کا وزن کم کیا ہوگا اور یہی ایک حقیقی عوامی نمائندہ کا کام ہے کہ وہ عوام کے غم میں سوکھ کر کانٹا ہو جائے، ممکن ہے محترمہ کو یہ غم بھی کھائے جا رہا ہو کہ" منڈے دا دوجا ویا اے، اللہ کرے ہن کامیاب ریوے"، محترمہ کی سمارٹنس کا جلاپہ زیادہ تر یوتھئیوں کو ہے، ان جاہلوں کو یہ علم نہیں کہ۔۔

خدا جب حکومت دیتا ہے
تو نزاکت آہی جاتی ہے

Check Also

Mujra Aik Latt, Mujra Aik Lazzat

By Azhar Hussain Bhatti