March Ka Mahina, Meri Zaat Se Dunya Ki Tareekh Tak
مارچ کا مہینہ، میری ذات سے دنیا کی تاریخ تک

دنیا میں کچھ مہینے ایسے ہوتے ہیں جو اپنی تاریخی اہمیت کے باعث خصوصی حیثیت رکھتے ہیں۔ مارچ بھی انہی مہینوں میں سے ایک ہے۔ یہ مہینہ نہ صرف موسموں کی تبدیلی کا پیغام لاتا ہے بلکہ اس کی داستانیں تاریخ کے اوراق میں سنہری حروف میں درج ہیں۔ لیکن میرے لیے اس کی اہمیت اس وجہ سے کئی گنا بڑھ جاتی ہے کہ میری اپنی زندگی کا آغاز بھی اسی مہینے کی پہلی تاریخ کو ہوا۔
مارچ کا نام رومی دیوتا Mars کے نام پر رکھا گیا تھا۔ رومی تہذیب میں یہ دیوتا محض جنگ ہی کا دیوتا نہیں تھا بلکہ کھیتی باڑی اور بہادری سے بھی منسوب کیا جاتا تھا۔ Mars کو رومی قوم میں وہ مقام حاصل تھا کہ ان کا ماننا تھا کہ روم کے بانی Romulus اور Remus اسی دیوتا کی اولاد تھے۔ یہی وجہ ہے کہ رومی خود کو Mars کی نسل سے سمجھتے تھے اور اس دیوتا کی تعظیم میں مارچ کے مہینے میں شاندار تقریبات اور جلوس نکالے جاتے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ قدیم رومی کیلنڈر میں سال کا آغاز بھی مارچ سے ہوتا تھا، اگرچہ گریگورین کیلنڈر میں اب یہ سال کا تیسرا مہینہ ہے۔
یکم مارچ کو سال کا 60واں دن ہوتا ہے (لیپ سال میں 61واں) اور اس کے بعد سال کے 305 دن باقی رہ جاتے ہیں۔ میرے لیے یہ تاریخ اور بھی خاص ہوجاتی ہے کہ اسی دن میری پیدائش ہوئی اور اس خوشی میں مزید اضافہ اس بات کا ہے کہ جس ادارے نے مجھے اس معاشرے میں پہچان دی اور جہاں میرا رزق لکھا گیا، وہ سندھ ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹیٹیوشن (SESSI) میری پیدائش یکم مارچ سے ٹھیک چار مھینے کے بعد یکم جولائی، لیکن سال ھمارا ایک ہی ہے یعنی 1970 کو معرض وجود میں آیا۔ یوں یہ مہینہ میری ذاتی زندگی سے لے کر میری پیشہ ورانہ شناخت تک کا احاطہ کرتا ہے۔ مزید یہ کہ مشہور کینیڈین گلوکار جسٹن بیبر اور کرکٹر بوم بوم آفریدی بھی میرے برتھ فیلو ہوئے۔
اگر ہم عالمی تاریخ پر نظر ڈالیں تو مارچ کے مہینے میں کئی اہم واقعات رونما ہوئے۔ یکم مارچ 1872 کو دنیا کا پہلا نیشنل پارک Yellowstone National Park قائم کیا گیا۔ یہ وہ منفرد پارک ہے جو اپنے گرم چشموں اور جنگلی حیات کی حفاظت کے لیے مشہور ہے۔ اسی تاریخ 1966 میں سوویت خلائی جہاز Venera 3 سیارہ وینس تک پہنچنے والا پہلا خلائی مشن بنا۔
تاریخ کے اوراق میں 3 مارچ 1924 کا دن بھی بہت اہمیت رکھتا ہے۔ اس روز ترکی میں مصطفیٰ کمال اتاترک نے خلافتِ عثمانیہ کا خاتمہ کر دیا، جو تقریباً 600 سال سے قائم تھی۔ یہ وہی سلطنت تھی جس کا قیام روایتی طور پر مارچ 1299 میں عثمان غازی نے رکھا تھا۔ عثمانی ریاست جو بعد میں ایک عظیم اسلامی سلطنت بنی، کا خاتمہ بھی اسی مہینے میں ہوا، یہ اتفاق واقعی قابل غور ہے۔
8 مارچ کو دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کی شروعات اگرچہ 1909 میں ہوگئی تھی لیکن اس کا باقاعدہ آغاز اقوام متحدہ کی طرف سے 1975 میں کیا گیا۔ یہ دن خواتین کے حقوق، ان کی جدوجہد اور ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کا دن ہے۔
15 مارچ 44 قبل مسیح کو تاریخ کا ایک المناک واقعہ پیش آیا جب رومی سپہ سالار جولیس سیزر کو قتل کر دیا گیا۔ یہ وہ واقعہ ہے جس نے رومی سلطنت کی سمت بدل کر رکھ دی۔
21 مارچ 1969 کو بیت المقدس میں واقع مسجد اقصیٰ کو آتش زدگی کا نشانہ بنایا گیا۔ اس واقعے کی تحقیقات اور اس کے بعد اسلامی ممالک کے اہم اجلاس ہوئے جس کے نتیجے میں اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے قیام کی راہ ہموار ہوئی۔
23 مارچ کی تاریخ پاکستانیوں کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ 1940 کو اس روز لاہور میں قرارداد پاکستان پیش کی گئی، جسے بعد میں قرارداد لاہور بھی کہا گیا۔ اس قرارداد کی بنیاد پر برصغیر کے مسلمانوں نے ایک علیحدہ وطن کے حصول کی تحریک کو منظم کیا۔ مزید یہ کہ 1956 میں اسی تاریخ کو پاکستان دنیا کا پہلا اسلامی جمہوری ملک بنا۔
اس کے علاوہ 1992 میں بوسنیا اور ہرزیگوینا نے یوگوسلاویہ سے آزادی کا اعلان کیا۔ 1855 میں الیگزنڈر دوم روس کا زار بنا۔ 1956 میں مراکش نے فرانس سے آزادی حاصل کی جبکہ 1953 میں جوزف سٹالن کا انتقال ہوا۔ 1971 میں صدر یحییٰ خان نے قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی کیا جس سے مشرقی پاکستان میں بڑا سیاسی بحران پیدا ہوا اور بالآخر پاکستان کا دو ٹکڑے ہوا۔
یہ تمام واقعات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ مارچ کا مہینہ انسانی تاریخ کے سنگ میل تبدیل کرنے والے واقعات کا گواہ رہا ہے۔ چاہے وہ سلطنتوں کا قیام ہو یا زوال، سائنسی کامیابیاں ہوں یا مذہبی و ثقافتی تبدیلیاں، مارچ نے ہر طرح کے واقعات دیکھے ہیں۔
میرے لیے یہ مہینہ ذاتی خوشیوں، پیشہ ورانہ کامیابیوں اور تاریخی سعادتوں کا مجموعہ ہے۔ جب میں اپنی سالگرہ مناتا ہوں تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ میں اسی مہینے کی ایک کڑی ہوں جس نے دنیا کی عظیم سلطنتوں کا عروج و زوال دیکھا ہے، جس میں سائنس نے نئی منزلیں سر کی ہیں اور جس میں پاکستان جیسی عظیم اسلامی جمہوری ریاست کا تصور پروان چڑھا۔
مارچ صرف ایک مہینہ نہیں، یہ تاریخ کی زندہ داستان ہے، یہ موسموں کی رعنائی ہے، یہ تبدیلی کی علامت ہے اور میرے جیسے لاکھوں افراد کے لیے یہ ان کی اپنی شناخت کا آئینہ ہے جو انہیں ماضی کی عظیم روایات سے جوڑتا ہے اور مستقبل کی طرف گامزن رہنے کی تحریک دیتا ہے۔

