Thursday, 26 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Amir Mohammad Kalwar
  4. Kashti e Nooh, Gerald Ford Aur Call Of Nature

Kashti e Nooh, Gerald Ford Aur Call Of Nature

کشتیِ نوح، جیرالڈ فورڈ اور کال آف نیچر

حضرت نوحؑ اللہ کے ان عظیم پیغمبروں میں سے ہیں جنہیں اولو العزم (صاحبِ عزم) کہا جاتا ہے۔ آپ کا سلسلۂ نسب حضرت آدمؑ کے بیٹے شیث سے جا ملتا ہے۔ قرآن مجید میں آپ کا ذکر 43 مقامات پر آیا ہے اور آپ کی دعوت، صبر، کشتی اور طوفان کا واقعہ تفصیل سے بیان ہوا ہے۔

حضرت نوحؑ کو اللہ تعالیٰ نے اپنی قوم کی طرف بھیجا۔ وہ لوگ بت پرست تھے اور پانچ بڑے بتوں وَدّ، سُواع، یَغوث، یَعوق، نَسر، کی پوجا کرتے تھے۔ آپ نے 950 سال انہیں دعوت دی۔ رات دن، چھپ کر اور کھل کر، وعظ و نصیحت اور ترغیب سے کام لیا۔ لیکن قوم کے سرداروں اور مالداروں نے آپ کا مذاق اُڑایا، آپ کو جھٹلایا اور کہا: "تم بھی ہماری طرح کے انسان ہو، تمہارے پیروکار بھی کمزور اور رذیل لوگ ہیں"۔

جب قوم نے ایمان لانے سے انکار کر دیا تو اللہ نے حکم دیا کہ ایک کشتی بنائی جائے۔ آپ جنگل میں جا کر لکڑی چننے لگے۔ لوگ آپ کا مذاق اڑاتے تھے کہ تم کشتی بنا رہے ہو جبکہ زمین پر پانی کا نام و نشان نہیں۔ آپ فرماتے تھے: "عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ کس پر عذاب آتا ہے"۔

کشتی ساج کی لکڑی سے بنائی گئی، اندر اور باہر سے تارکول (کول) لگایا گیا تھا۔ یہ تین منزلہ تھی:

نیچے کی منزل: جانوروں کے لیے

درمیانی منزل: انسانوں کے لیے

اوپری منزل: پرندوں کے لیے

اس میں ہر قسم کے جانوروں اور پرندوں کا ایک جوڑا اور آپ کے گھرانے اور دوستوں میں سے صرف 80 لوگ (مومنین) سوار ہوئے۔ آپ کا ایک بیٹا (کنعان یا یام) کافر تھا جو پانی میں ڈوب گیا۔

کشتی کی لمبائی: 300 × 0.5 میٹر ≈ 150 میٹر (بعض روایات میں 157 میٹر تک)

چوڑائی: 25 میٹر

اونچائی: 15 میٹر

طوفان عام خیال کے مطابق حضرت آدم کے بعد دسویں صدی میں آیا۔ کشتی جودی پہاڑ (جو موجودہ ترکی میں واقع ہے) پر ٹھہری۔

تفسیری کتب (طبری، ثعلبی، کسائی) میں ایک عجیب واقعہ آیا ہے جو اسرائیلیات (یہودی مآخذ سے منقول روایات) کے زمرے میں آتا ہے۔ اس کے مطابق جب حضرت نوحؑ کشتی بنا رہے تھے تو قوم کے لوگ ان کا مذاق اڑاتے تھے۔ کچھ لوگ تو کشتی کے قریب آ کر پیشاب اور پاخانہ کرتے تاکہ حضرت نوح اور ان کے ساتھیوں کو اذیت پہنچے۔

بدلے میں اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک ایسی خارش کی بیماری (جرب) میں مبتلا کر دیا کہ وہ دن رات کھجلاتے رہے۔ علاج کی تمام تدبیریں ناکام رہیں۔ آخر کار انہوں نے دیکھا کہ جب وہ اسی فضلے (پیشاب و پاخانہ) میں لتھڑتے ہیں تو خارش عارضی طور پر رک جاتی ہے۔ یہ ان کی ذلت کی انتہا تھی کہ وہ اسی گندگی کی طرف بھاگے جس سے وہ حضرت نوح کو دور رکھنا چاہتے تھے۔

یہ واقعہ قرآن یا کسی صحیح حدیث میں موجود نہیں ہے۔ محدثین (ابن کثیر، البانی، ابن حجر) نے اسے غیر مستند قرار دیا ہے اور اسرائیلیات کہہ کر اس سے احتراز کیا ہے۔ لیکن یہ روایت صدیوں سے مشہور رہی ہے۔

اب ہم امریکہ کے سب سے بڑے بحری بیڑے جیرالڈ فورڈ پر آتے ہیں۔ انگریزی میں "Call of Nature" کا مطلب ہے قدرتی طور پر بیت الخلا جانے کی ضرورت۔ یہی "کال آف نیچر" آج دنیا کے جدید ترین جنگی جہاز کو شرمندگی میں مبتلا کیے ہوئے ہے۔

USS Gerald R. Ford دنیا کا سب سے بڑا، جدید ترین اور مہنگا ترین طیارہ بردار جہاز ہے۔

لمبائی: 337 میٹر (تین فٹبال میدانوں کے برابر)

وزن: ایک لاکھ ٹن سے زائد

لاگت: 13 ارب ڈالر (پاکستانی کرنسی میں تقریباً تین ٹریلین چھ سو چالیس ارب روپے)

اونچائی: 75 میٹر (25 منزلہ عمارت کے برابر)

فوجی اہلکار: 4,500 سے 5,000

اس جہاز میں 20 سے 25 منزلیں (ڈیک) ہیں۔ ہر جگہ ٹوائلٹ موجود ہیں، رہائشی ڈیکز، ہینگر ڈیک، میس ہال کے قریب اور برج میں افسران کے لیے نجی ٹوائلٹ۔ لیکن یہ جہاز جہاں اپنی جدید ٹیکنالوجی کا ثمر ہے، وہیں ایک ایسے مسئلے کا شکار ہے جو دنیا کی طاقتور ترین فوج کے لیے باعثِ شرمندگی بن چکا ہے: ٹوائلٹ سسٹم کی خرابی۔

مارچ 2026 میں جب یہ جہاز مشرق وسطیٰ میں ایران سے جاری کشیدگی کے دوران تعینات تھا، تو اس کے ویکیوم ٹوائلٹ سسٹم میں بڑے پیمانے پر خرابی سامنے آئی۔ جہاز پر موجود تقریباً 400 ٹوائلٹ میں سے ڈیڑھ سو سے زائد بند ہو گئے۔

فوجیوں کو ٹوائلٹ کے لیے 1 سے 3 گھنٹے انتظار کرنا پڑا۔

کچھ فوجی رات کو ڈیوٹی سے فارغ ہو کر گھنٹوں قطاروں میں کھڑے رہے۔

پورٹیبل ٹوائلٹ بھی جلد بھر گئے۔

یہ مسئلہ کوئی نیا نہیں۔ 2017 میں جب یہ جہاز پہلی بار بحریہ میں شامل ہوا تو ٹوائلٹ سسٹم کی خامیوں نے ہی اس کی شہرت کو ٹھیس پہنچائی۔ ایک موقع پر 400 میں سے 200 ٹوائلٹ بند ہو گئے تھے۔ بحریہ نے اسے ترجیح قرار دیا، مرمت کی، فوجیوں کو تربیت دی، مگر مسئلہ کی جڑ تک نہ پہنچ سکی۔

جب ڈیڑھ سو ٹوائلٹ بند ہوں تو بدبو کا کیا حال ہوگا؟ فوجیوں کے مطابق:

ناقابل برداشت بدبو، خاص طور پر رہائشی ڈیکز میں جہاں فوجی تین منزلہ بستروں پر سوتے ہیں۔

کچھ کمپارٹمنٹس میں فوجی خود جھاڑو لگاتے ہیں۔

وینٹیلیشن ناکام، صفائی کی ٹیمیں دن میں صرف دو بار آتی ہیں۔ اب امریکی فوجی پیشاب کی نالی کے انفیکشن (UTI) میں 40 فیصد اضافہ معدے کے انفیکشن، جلدی امراض، سانس کی دشواریوں میں اضافہ کئی فوجیوں کو طبی یونٹ میں داخل کیا گیا، کچھ ساحلی اسپتالوں میں منتقل۔

ذہنی دباؤ، نیند نہ آنا، مسلسل پریشانی بنیادی انسانی ضرورت پوری نہ ہونے کا احساس۔

بہت سے فوجیوں نے بحریہ کے انسپکٹر جنرل کے پاس باضابطہ شکایت درج کروائی۔ کچھ نے کانگریس کو خط لکھے۔ سوشل میڈیا پر خفیہ تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہوئیں جن میں لمبی قطاریں اور فوجیوں کی پریشانی واضح تھی۔

بعض یونٹس میں فوجیوں نے بند ٹوائلٹ کے باہر بیٹھ کر ڈیوٹی سے انکار تک کر دیا جسے بحریہ نے احتجاج تو قرار دیا، لیکن بغاوت نہیں۔

کانگریس میں بھی سوالات اٹھے۔ کئی سینیٹرز نے مطالبہ کیا کہ جہاز کو واپس بلا کر مستقل مرمت کی جائے۔ بحریہ نے عارضی تدبیریں اختیار کیں:

80 پورٹیبل ٹوائلٹ لگائے، صفائی کی ٹیمیں 24 گھنٹے کر دیں۔ مگر مسئلہ کی جڑ تک نہ پہنچ سکے۔

ایک فوجی کی زبانی "رات کو 2 بجے اٹھے، ٹوائلٹ جانا تھا۔ ہمارے کمپارٹمنٹ کے 4 ٹوائلٹ میں سے 3 بند تھے۔ ایک پر 30 لوگوں کی قطار تھی۔ میں نے ڈیڑھ گھنٹہ انتظار کیا۔ کچھ لوگ تو پورٹیبل ٹوائلٹ کے لیے باہر چلے گئے، لیکن وہاں بھی قطار تھی"۔

ایرانی میڈیا نے اس مسئلے کو خوب طنز کا نشانہ بنایا۔ ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن پر خبر چلائی گئی کہ "امریکہ کا جدید ترین طیارہ بردار جہاز، جو ہمیں دھمکی دینے آیا تھا، وہاں فوجی ٹوائلٹ کے لیے قطاروں میں کھڑے ہیں۔ یہ امریکی طاقت کی حقیقت ہے"۔

آپ کو کشتیِ نوح میں وہ لوگ یاد ہوں گے جو خارش میں مبتلا تھے اور ان کا علاج اسی فضلے میں لتھڑنے سے ہوتا تھا۔ آج جیرالڈ فورڈ پر وہی کڑی نظر آتی ہے۔ جدید ترین مصنوعی ذہانت (AI) کے دور میں بھی انسان اپنی بنیادی بشری ضرورت کے سامنے مجبور نظر آتا ہے۔

یہ کوئی مذاق نہیں، یہ حقیقت ہے کہ، انسان آج مریخ پر جانے کی تیاری کر رہا ہے، مگر سمندر میں تیرتے ہوئے شہر میں ٹوائلٹ کا مسئلہ حل نہیں کر سکا۔

یہ ہے حضرت انسان۔

Check Also

Power Connection

By Tauseef Rehmat