Saturday, 18 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Amir Mohammad Kalwar
  4. Hum Karachi Walay Hain (2)

Hum Karachi Walay Hain (2)

ہم کراچی والے ہیں (2)

ہم کراچی والے ہیں۔ یہ جملہ محض ایک تعارف نہیں بلکہ ایک مکمل کہانی ہے ایک ایسا احساس جس میں فخر بھی شامل ہے، شکوہ بھی اور ایک عجیب سی بے بسی بھی۔ کراچی، جو پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے، اپنی وسعت، تنوع اور اہمیت کے باوجود کئی ایسے مسائل کا شکار ہے جو نہ صرف انتظامی کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہیں بلکہ معاشرتی رویوں کی بھی عکاسی کرتے ہیں۔

اسلام میں صفائی کو نصف ایمان قرار دیا گیا ہے۔ یہ صرف ایک حدیث نہیں بلکہ ایک مکمل طرزِ زندگی ہے جو ہمیں انفرادی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر پاکیزگی اختیار کرنے کا درس دیتا ہے۔ اگر انسان کا موازنہ دیگر مخلوقات سے کیا جائے تو صفائی ہی وہ بنیادی وصف ہے جو اسے ممتاز بناتا ہے۔ آقائے دو جہاں ﷺ نے طہارت اور وضو کی اہمیت پر بہت زور دیا، یہاں تک کہ ہمیشہ باوضو رہنے کی تلقین فرمائی تاکہ انسان نہ صرف جسمانی بلکہ روحانی طور پر بھی پاکیزہ رہے۔

لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم کراچی والے اس تعلیم پر عمل کرنے میں کہیں نہ کہیں ناکام نظر آتے ہیں۔ شہر میں صفائی کی صورتحال اکثر خراب دکھائی دیتی ہے اور اس کی ذمہ داری صرف حکومت پر ڈال دینا شاید مکمل انصاف نہیں ہوگا۔ زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ کچھ عناصر دانستہ طور پر سیمنٹ اور کچرے کی بوریاں گٹروں میں ڈال کر انہیں بند کر دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں گٹر ابل پڑتے ہیں اور سڑکیں گندگی سے بھر جاتی ہیں۔ پھر یہی مناظر میڈیا کی زینت بنتے ہیں، جہاں گھنٹوں بحث ہوتی ہے اور شہر کی بدنامی میں اضافہ ہوتا ہے۔ کیونکہ ھم کراچی والے ہے تھوڑے وکھرے سے ہیں۔

یہاں ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی یہ سب کچھ صرف حکومتی نااہلی کا نتیجہ ہے یا اس میں ہمارے اپنے رویوں کا بھی عمل دخل ہے؟ بدقسمتی سے، کچھ نامعلوم عناصر اپنے مفادات کے لیے شہر کو نقصان پہنچانے سے بھی دریغ نہیں کرتے، جبکہ میڈیا کے کچھ حلقے اس صورتحال کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں تاکہ اپنی ریٹنگ میں اضافہ کر سکیں۔

اس کی ایک افسوسناک مثال نیپا چورنگی کا وہ واقعہ ہے جس نے پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا۔ ایک معصوم بچہ، جو اپنی والدہ کے ساتھ ایک ڈیپارٹمنٹل اسٹور سے باہر نکلا، کھیلتے ہوئے ایک کھلے گٹر میں گر گیا۔ دو دن بعد اس کی لاش ملی۔ یہ واقعہ نہ صرف ایک خاندان کے لیے قیامت سے کم نہ تھا بلکہ پورے معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ تھا۔ میڈیا نے اس واقعے کو بھرپور کوریج دی، جو کہ ایک حد تک ضروری بھی تھی اور وہ ڈیپارٹمنٹل اسٹور جہاں پر ھم اور آ پ بیسیوں مرتبہ جاچکے ہیں وہ اسٹور اب نہیں رہا، جی ہاں اب وہ بند ہوگیا ہے۔ نہ جانے کتنے خاندان بے روزگار ہوگئے، جو وہاں کام کرتے تھے۔

اسی نوعیت کا بلکہ اس سے بھی زیادہ سنگین واقعہ لاہور میں پیش آیا، جہاں ماں اور بچہ دونوں گٹر میں گر کر جاں بحق ہو گئے۔ لیکن اس واقعے کو وہ توجہ نہ مل سکی جو کراچی کے واقعے کو ملی۔ یہ فرق ہمیں میڈیا کے رویے پر سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ آیا واقعی رپورٹنگ غیر جانبدار ہے یا اس میں بھی ذاتی مفادات شامل ہیں۔

کراچی صرف مسائل کا شہر نہیں، بلکہ یہ علم، دین اور ثقافت کا بھی مرکز ہے۔ یہاں دنیا کی معروف دینی درسگاہیں موجود ہیں، جہاں نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر سے طلبہ علم حاصل کرنے آتے ہیں۔ جیسے مفتی تقی عثمانی اور مفتی منیب الرحمان جیسے جید علماء اسی شہر کی پہچان ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دین کی خدمت میں اپنی زندگیاں وقف کر رکھی ہیں۔

تاہم، ایک اور پہلو جو قابلِ غور ہے وہ یہ ہے کہ جدیدیت کی دوڑ میں ہم کہیں اپنی روایات اور سنتوں کو پسِ پشت تو نہیں ڈال رہے؟ سر پر عمامہ پہننا، جو ایک مسنون عمل ہے، آہستہ آہستہ ہماری عملی زندگی سے غائب ہوتا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ کئی مذہبی رہنماؤں کے سر پر ٹوپی بھی نظر نہیں آتی اور اس کی وجہ یہ دی جاتی ہے کہ اس سے دنیا میں ہمارا "سافٹ امیج" بہتر ہوتا ہے۔

یہاں پر مجھے ایک تاریخی واقعہ یاد آیا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ دو بزرگ (اکثر کتابوں میں انہیں صحابہ یا نیک لوگوں میں شمار کیا جاتا ہے) فارس کے بادشاہ کسریٰ کے محل میں گئے۔ وہاں ان کے اعزاز میں بہت ہی شاندار اور پرتکلف دسترخوان بچھایا گیا۔

جب وہ کھانا کھا رہے تھے تو ان میں سے ایک بزرگ کے ہاتھ سے روٹی کا ایک لقمہ نیچے گر گیا۔

انہوں نے فوراً وہ لقمہ اٹھایا، اس پر لگی ہوئی گرد صاف کی اور کھانے لگے۔

یہ دیکھ کر دوسرے ساتھی نے کہا: "آپ یہ کیا کر رہے ہیں؟ ہم بادشاہ کے محل میں ہیں، لوگ کیا کہیں گے؟"

اس پر پہلے بزرگ نے بہت ہی مضبوط اور ایمان افروز جواب دیا: "کیا میں لوگوں کی وجہ سے محمد ﷺ کی سنت چھوڑ دوں؟ ہرگز نہیں!"

پھر انہوں نے وہ لقمہ کھا لیا۔

یہ واقعہ عام طور پر یہ سبق دینے کے لیے بیان کیا جاتا ہے: سنت پر عمل ہر حال میں کرنا چاہیے، لوگوں کی شرمندگی یا ماحول کی وجہ سے دین نہیں چھوڑنا چاہیے یہ سوچ یقیناً قابلِ بحث ہے۔ کیا واقعی اپنی شناخت کو کمزور کرکے ہم دنیا میں بہتر مقام حاصل کر سکتے ہیں؟ یا پھر یہ محض ایک خود فریبی ہے، جیسا کہ غالب نے کہا تھا: "دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے"۔

آخر میں، ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ کراچی کے مسائل صرف حکومت یا کسی ایک ادارے کی ذمہ داری نہیں ہیں۔ یہ ایک مشترکہ ذمہ داری ہے جس میں ہر شہری کا کردار اہم ہے۔ اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ ہمارا شہر صاف، محفوظ اور ترقی یافتہ ہو، تو ہمیں اپنی عادات، رویوں اور سوچ میں تبدیلی لانی ہوگی۔ کیونکہ حقیقت یہی ہے ہم کراچی والے ہیں اور اس شہر کی بہتری یا بربادی کا انحصار بھی ہم پر ہی ہے۔

یہ سوچ یقیناً قابلِ بحث ہے۔ کیا واقعی اپنی شناخت کو کمزور کرکے ہم دنیا میں بہتر مقام حاصل کر سکتے ہیں؟ یا پھر یہ محض ایک خود فریبی ہے، جیسا کہ غالب نے کہا تھا:

"دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے"۔

آخر میں، ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ کراچی کے مسائل صرف حکومت یا کسی ایک ادارے کی ذمہ داری نہیں ہیں۔ یہ ایک مشترکہ ذمہ داری ہے جس میں ہر شہری کا کردار اہم ہے۔ اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ ہمارا شہر صاف، محفوظ اور ترقی یافتہ ہو، تو ہمیں اپنی عادات، رویوں اور سوچ میں تبدیلی لانی ہوگی۔ کیونکہ حقیقت یہی ہے ہم کراچی والے ہیں اور اس شہر کی بہتری یا بربادی کا انحصار بھی ہم پر ہی ہے۔

Check Also

Sabr Aur Shukr, Momin Ki Zindagi Ke 2 Bunyadi Satoon

By Dawood Ur Rahman