Akhbar Beeni
اخبار بینی

سر سید احمد خان اور مجھ میں عمر کے لحاظ سے تو ڈیڑھ صدی کا فاصلہ ہے، مگر ایک چیز ہم دونوں میں مشترک ہے اور وہ ہے گوشۂ تنہائی (بیت الخلا) میں اخبار بینی اور کتب بینی۔ بظاہر یہ ایک معمولی سی عادت محسوس ہوتی ہے، مگر درحقیقت یہ مطالعے سے اس گہرے تعلق کی علامت ہے جو انسان کو ہر لمحہ سیکھنے، سوچنے اور اپنے شعور کو وسیع کرنے پر آمادہ رکھتا ہے۔
اخبار پڑھنے کی عادت مجھے بچپن ہی سے پڑ گئی تھی۔ جیسے کہا جاتا ہے کہ کچھ اوصاف انسان کو وراثت میں ملتے ہیں، ویسے ہی یہ شوق بھی مجھے اپنے مرحوم والد صاحب سے ملا۔ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ ان کی شخصیت سادگی، قناعت، خودداری اور توکل علی اللہ کا حسین امتزاج تھی اور یہی اوصاف انہوں نے غیر محسوس انداز میں ہم میں منتقل کیے۔
میرے آبائی شہر جیکب آباد میں ہمارے گھر کے سامنے مرحوم احمد میاں سومرو کی رہائش گاہ تھی، جن کے صاحبزادے محمد میاں سومرو اور ان کے بھائی الٰہی بخش سومرو ملکی سیاست کے اہم نام رہے ہیں۔ 1990 کی دہائی میں جب احمد میاں سومرو کا انتقال ہوا تو ہم تین بھائی بے روزگار تھے اور ملازمت کی تلاش میں تھے۔ ہم نے والد صاحب سے کہا کہ تعزیت کے بہانے الٰہی بخش سومرو صاحب سے ملاقات کر لیتے ہیں تاکہ شاید وہ ہماری مدد کر سکیں۔
مگر والد صاحب نے بڑے وقار سے انکار کیا اور عجیب بات کی کہ "میں اس کے پاس کیوں جاؤں جو مجھے نہیں جانتا، ہاں اگر الاھی بخش کا انتقال ہوتا تو میں احمد میاں سومرو کے پاس تعزیت کے لئے جاتا کیونکہ وہ مجھے جانتا ہے اور جہاں تک بات ہے نوکری مانگنے کی تو اس ذات سے مانگو، جس کے آگے سب جھکتے ہیں اور جس کے آ گے الاھی بخش سومرو بھی جھکتے ہیں"۔
یہ الفاظ محض ایک جواب نہیں تھے بلکہ ایک مکمل طرزِ زندگی کی عکاسی کرتے تھے، ایسا طرزِ زندگی جس میں عزتِ نفس بھی ہے اور اللہ پر کامل یقین بھی۔
میرے والد صاحب ماشاءاللہ اپنے علاقے میں نامور مفتی شمار ہوتے تھے اور ایک جگہ وہ امام صاحب کے فرائض بھی انجام دیتے تھے اور اس کے علاوہ والد صاحب کی ایک چھوٹی سی دکان تھی، جو ہمارے لیے محض روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک تربیتی درسگاہ بھی تھی۔ اسی دکان پر میں اخبار بلند آواز میں پڑھ کر سناتا تھا۔ اس زمانے میں "امن اخبار" کا بڑا چرچا تھا۔ جمعہ خان کے کالم سے، پیر جی کے کالم اور فلمی صفحات بڑے شوق سے پڑھے جاتے۔ میرے سامعین میں بگو مل، جگو مل، ملا رمضان اور یعقوب چچا فالودے والے دکاندار شامل ہوتے تھے۔ یہ ایک عجیب مگر خوبصورت منظر ہوتا ایک آ ٹھ، نو سال کی عمر کا بچہ اخبار پڑھ رہا ہے اور بڑے بڑے لوگ خاموشی سے سن رہے ہیں۔ یہی وہ لمحے تھے جنہوں نے میرے اندر اعتماد، زبان کی روانی اور مطالعے کا شوق پیدا کیا۔
اگرچہ میری تعلیم سندھی زبان میں تھی، مگر اردو سے میرا رشتہ بھی بچپن ہی سے مضبوط ہوگیا تھا۔ پانچویں جماعت میں ربیع الاول کے ایک تقریری مقابلے میں پورے جیکب آباد میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ جب میں جلوس کی صورت میں اسکول واپس آرہا تھا اور پیچھے پورا اسکول نعرے لگا رہا تھا کہ غریب آباد اسکول زندہ باد، تو میری کیفیت کچھ ایسی تھی جیسے میں نے کوئی بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو ایک معصوم سی کامیابی، مگر دل میں ایک بڑے خواب کی بنیاد۔
اب اگر اخبار کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کا پہلا باقاعدہ چھپنے والا اخبار Relation aller Fürnemmen und gedenckwürdigen Historien تھا، جو 1605 میں جرمنی میں شائع ہوا۔ وقت کے ساتھ ساتھ اخبارات نے دنیا بھر میں معلومات، شعور اور رائے عامہ کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کیا۔ آج کے دور میں دنیا کا سب سے زیادہ اشاعت رکھنے والا اخبار Yomiuri Shimbun ہے، جو جاپان میں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں کی تعداد میں روزانہ شائع ہوتا ہے۔
برصغیر میں اردو صحافت کا آغاز جامِ جہاں نما سے ہوا، جو 1822 میں کلکتہ سے جاری ہوا۔ پاکستان میں اردو صحافت نے نئی بلندیوں کو چھوا۔ اسی طرح سندھی صحافت کی بنیاد مفتاحِ کرن سے پڑی، جو 1855 میں جاری ہوا۔ موجودہ دور میں Kawish (روزنامہ کاوش) سندھی زبان کا سب سے زیادہ پڑھا جانے والا اخبار سمجھا جاتا ہے، جو نہ صرف خبریں فراہم کرتا ہے بلکہ سندھی ثقافت اور فکر کی نمائندگی بھی کرتا ہے۔
اخبار کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا بھر میں اس کے اعتراف کے طور پر ایک دن بھی مخصوص کیا گیا ہے۔ ہر سال World Press Freedom Day 3 مئی کو منایا جاتا ہے، جو آزاد صحافت، سچائی اور عوام کے حقِ معلومات کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ایک آزاد اور ذمہ دار صحافت کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔
یہ تمام حقائق اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اخبار محض خبروں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک عہد کا آئینہ، ایک قوم کی آواز اور ایک فرد کی فکری تربیت کا ذریعہ ہے۔ یہ انسان کو حالاتِ حاضرہ سے جوڑتا ہے، اس کے شعور کو بیدار کرتا ہے اور اسے سوچنے کا ایک نیا زاویہ عطا کرتا ہے۔
آخر میں یہی کہوں گا کہ اخبار بینی میرے لیے صرف ایک عادت نہیں بلکہ ایک روایت ہے ایسی روایت جو گوشۂ تنہائی سے شروع ہو کر دنیا کے وسیع منظرنامے تک پھیل جاتی ہے اور انسان کو سوچنے، سمجھنے اور سیکھنے کا ہنر سکھاتی ہے۔ یہی عادت انسان کو عام سے خاص اور محدود سے وسیع بنا دیتی ہے اور ہر مطالعہ انسان کی زندگی میں ایک نیا نور بھرتا ہے۔

