Thursday, 19 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Amir Mohammad Kalwar
  4. Abna e Hormuz Aur Jazeera e Kharg

Abna e Hormuz Aur Jazeera e Kharg

آبنائے ہرمز اور جزیرہ خرگ

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، خصوصاً ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان تناؤ نے ایک بار پھر دنیا کی توجہ ایک نہایت اہم سمندری راستے کی طرف مبذول کر دی ہے اور وہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس کے قریب واقع بھی عالمی خبروں کا حصہ بن چکا ہے۔ بظاہر یہ دونوں مقامات نقشے پر چھوٹے دکھائی دیتے ہیں، مگر حقیقت میں یہ عالمی معیشت، توانائی اور جنگی حکمتِ عملی کے ایسے مراکز ہیں جن پر پوری دنیا کی نظریں جمی رہتی ہیں۔

آبنائے ہرمز ایک تنگ مگر انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے جو خلیج فارس کو خلیج عمان اور آگے بحیرہ عرب سے ملاتی ہے۔ اس کے شمال میں ایران جبکہ جنوب میں عمان اور متحدہ عرب امارات واقع ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سے دنیا کی توانائی کی نبض دھڑکتی ہے۔ عالمی سطح پر خام تیل کا تقریباً بیس فیصد اسی راستے سے گزرتا ہے۔ یوں سمجھ لیں کہ اگر یہ گزرگاہ کسی بھی وجہ سے بند ہو جائے تو نہ صرف تیل کی ترسیل رک سکتی ہے بلکہ عالمی معیشت کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔ تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں، صنعتی پیداوار متاثر ہوتی ہے اور عالمی تجارت سست روی کا شکار ہو جاتی ہے۔

"ہرمز" نام کی اپنی ایک تاریخی اور ثقافتی اہمیت بھی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ نام قدیم فارسی اور زرتشتی اثرات کا حامل ہے اور اسے سے منسوب کیا جاتا ہے۔ قدیم یونانی اور رومی جغرافیہ دان بھی اس علاقے کو Ormus اور Hormos کے ناموں سے جانتے تھے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ راستہ صدیوں سے عالمی تجارت کا مرکز رہا ہے۔

اگر ہم اس کی اہمیت کو جدید مثال سے سمجھیں تو اسے سے تشبیہ دینا بالکل درست ہوگا۔ جیسے مین ہیٹن دنیا کے مالیاتی نظام کا دل ہے، ویسے ہی آبنائے ہرمز دنیا کی توانائی کا دل ہے۔ یہاں سے گزرنے والے تیل بردار جہاز دراصل عالمی معیشت کو چلانے کا ایندھن فراہم کرتے ہیں۔ اگر اس راستے میں رکاوٹ آ جائے تو اس کے اثرات دنیا کے ہر کونے میں محسوس کیے جاتے ہیں۔

اسی اہم گزرگاہ کے قریب واقع جزیرہ خرگ ایران کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ جزیرہ خلیج فارس میں ایران کے ساحل سے تقریباً پچیس کلومیٹر دور واقع ہے اور اس کا رقبہ تقریباً آٹھ سے ساڑھے آٹھ مربع کلومیٹر ہے۔ اگرچہ یہ سائز میں بہت چھوٹا ہے، مگر یہاں ایران کا سب سے بڑا آئل ایکسپورٹ ٹرمینل موجود ہے۔ ایران کی تیل کی برآمدات کا بڑا حصہ اسی جزیرے کے ذریعے دنیا تک پہنچتا ہے، جس کی وجہ سے یہ نہ صرف اقتصادی بلکہ فوجی لحاظ سے بھی ایک اہم ہدف بن جاتا ہے۔

جزیرہ خرگ پر زندگی عام شہروں جیسی نہیں۔ یہاں زیادہ تر لوگ آئل انڈسٹری سے وابستہ ہیں۔ رہائشی سہولیات، محدود تعلیمی ادارے اور بنیادی ضروریات موجود ہیں، مگر اس جزیرے کی اصل پہچان اس کی صنعتی حیثیت ہے۔ یہ ایک ایسا مقام ہے جہاں سے ایران کی معیشت کو توانائی ملتی ہے۔

اعداد و شمار اس اہمیت کو مزید واضح کرتے ہیں۔ عام حالات میں روزانہ 50 سے 70 بڑے آئل ٹینکرز آبنائے ہرمز سے گزرتے ہیں، جبکہ دیگر تجارتی جہازوں کو شامل کیا جائے تو یہ تعداد 90 سے 120 تک پہنچ جاتی ہے۔ روزانہ تقریباً 17 سے 21 ملین بیرل تیل اس راستے سے گزرتا ہے، جو دنیا کی توانائی کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ ہے۔ اس کے علاوہ مائع قدرتی گیس بھی اسی راستے سے مختلف ممالک تک پہنچائی جاتی ہے۔

پاکستان جیسے ممالک کے لیے اس گزرگاہ کی اہمیت اور بھی زیادہ ہے۔ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے اور یہ درآمدات زیادہ تر خلیجی ممالک سے ہوتی ہیں جو اسی راستے سے گزر کر پاکستان پہنچتی ہیں۔ اگر اس گزرگاہ میں کسی قسم کی رکاوٹ آ جائے تو پاکستان میں فوری طور پر پیٹرول، ڈیزل اور بجلی کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے، صنعت متاثر ہوتی ہے اور عام آدمی کی زندگی مشکل ہو جاتی ہے۔

مزید برآں، تیل کی قیمتوں میں اضافے سے پاکستان کو زیادہ ڈالر خرچ کرنا پڑتے ہیں، جس سے روپے کی قدر کمزور ہوتی ہے اور معیشت پر دباؤ بڑھتا ہے۔ یوں ایک سمندری راستہ، جو بظاہر پاکستان سے دور ہے، درحقیقت اس کی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔

اگر اس صورتحال کو ایک سادہ مثال سے سمجھا جائے تو یوں کہا جا سکتا ہے کہ جیسے کسی بڑے شہر کی مرکزی شاہراہ بند ہو جائے تو پورا شہر متاثر ہوتا ہے، اسی طرح آبنائے ہرمز کی بندش دنیا کی معاشی سرگرمیوں کو متاثر کر دیتی ہے۔

آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ آبنائے ہرمز اور جزیرہ خرگ محض جغرافیائی مقامات نہیں بلکہ عالمی طاقت، توانائی اور سیاست کے محور ہیں۔ ان کی اہمیت وقت کے ساتھ مزید بڑھتی جا رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ دنیا کی بڑی طاقتیں ہمیشہ اس خطے پر نظر رکھتی ہیں۔

Check Also

Subhat Muttahida Ki Aqwam e Jaraim Pesha

By Zubair Hafeez