Saturday, 02 May 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Amer Abbas
  4. Taleem Ki Akhri Cheekh

Taleem Ki Akhri Cheekh

تعلیم کی آخری چیخ

ریاستیں جب اپنی ترجیحات کھو دیتی ہیں تو سب سے پہلے تعلیم ان کے درمیان سے اٹھا لی جاتی ہے اور آخری چیخ سکول کے در و دیوار سے اٹھتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جس قوم نے اپنے بچوں کی تعلیم کو بوجھ سمجھا، اس نے اپنے مستقبل کو خود اپنے ہاتھوں سے گروی رکھ دیا۔ ہمارے ہاں بھی ایک خاموش مگر تیز رفتار تبدیلی جاری ہے۔ سرکاری اسکول ایک ایک کرکے نجی ہاتھوں میں منتقل ہو رہے ہیں جیسے کوئی اپنی ذمہ داریوں سے بتدریج دستبردار ہو رہا ہو۔ یہ کیا سمجھتے ہیں کہ محکمہ تعلیم سے جان چھڑوا کر حکومتی مشکلات کم ہو جائیں گی؟ کس خام خیالی میں ہیں یہ لوگ؟ آفرین ہے کہ ان کو کون دانا یہ مشورے دیتا ہے؟ میرا یہ ماننا ہے کہ یہ سرکاری سکولز کو پرائیویٹ کرکے یہ دراصل قومیت کو ٹھیکہ پر دے رہے ہیں۔

پنجاب کے پرائمری سکولوں کی نجکاری کے بعد اب مڈل اور ہائی سکولز کی فہرستیں تیار ہو رہی ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ نجی شعبہ بہتر چلا سکتا ہے یا نہیں۔۔ سوال یہ ہے کہ ریاست اپنی بنیادی ذمہ داری سے کیوں پیچھے ہٹ رہی ہے؟ تعلیم محض ایک سروس نہیں، ریاست کی روح ہے۔ اگر یہی روح ٹھیکے پر دے دی جائے تو پھر ریاست اور ایک کاروباری ادارے میں فرق کیا رہ جاتا ہے؟

حکومت اگر پولیس، لینڈ ریکارڈ، سی سی ڈی اور دیگر حساس ادارے چلا سکتی ہے تو تعلیم اور صحت کیوں نہیں؟ کیا وجہ ہے کہ دیگر محکمے ریاست کے لیے قابلِ برداشت ہیں مگر تعلیم کا محکمہ بوجھ بن گیا؟ یہ تضاد محض پالیسی کا نہیں، سوچ کا بحران ہے۔

یہ درست ہے کہ سرکاری اسکولوں میں مسائل ہیں۔۔ اساتذہ کی کمی، حاضری کے مسائل، انفراسٹرکچر کی خرابی اور نگرانی کا کمزور نظام۔ سوال مگر یہ ہے کہ ان خرابیوں کا حل ادارہ بیچ دینا ہے یا ادارہ ٹھیک کرنا؟ اگر کوئی بیمار ہو جائے تو کیا ڈاکٹر اسے قتل کر دیتے ہیں یا اس کا علاج کرتے ہیں؟

دیہی علاقوں کی مثال لیجیے۔ وہاں سرکاری سکول اکثر غریب بچوں کی واحد امید ہوتے ہیں۔ ایک کسان کا بیٹا، ایک مزدور کی بیٹی۔۔ یہ وہ بچے ہیں جن کے پاس پرائیویٹ اسکول کی فیس دینے کی سکت نہیں۔ جب یہ اسکول نجی ہاتھوں میں جائیں گے تو کیا وہی فیس، وہی اخراجات، وہی معیار برقرار رہے گا؟ یا پھر تعلیم ایک بار پھر امیروں کا استحقاق بن جائے گی اور غریب صرف خواب دیکھتا رہ جائے گا؟

نجکاری کے حامی کہتے ہیں کہ اس سے معیار بہتر ہوگا۔ بہت ہی معمولی حد تک یہ بات درست بھی ہو سکتی ہے مگر اس کا دوسرا رخ بھی ہے۔ نجی ادارے منافع کے بغیر نہیں چلتے۔ جب تعلیم منافع کے ترازو میں تولی جائے گی تو سب سے پہلے کمزور طبقہ پسے گا۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ سکول صرف عمارت نہیں ہوتے، وہ سماجی مساوات کا ذریعہ ہوتے ہیں۔

دنیا کی مثالیں سامنے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک نے سرکاری تعلیم کو مضبوط کیا، اس پر سرمایہ لگایا، اساتذہ کو باعزت مقام دیا اور نگرانی کا مؤثر نظام قائم کیا۔ انہوں نے اپنی نسلوں کو ٹھیکے پر نہیں دیا بلکہ ان میں سرمایہ کاری کی۔ ہم اس کے برعکس راستہ اختیار کر رہے ہیں۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ کچھ سرکاری سکول واقعی تباہ حال ہیں مگر اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ کیا حکومتوں نے انھیں مناسب فنڈز دئیے؟ کیا اسکا احتساب خود حکومت نے کیا؟ اصل مسئلہ نیت اور نگرانی کا ہے۔ اگر حکومت چاہے تو چند ماہ میں چیک اینڈ بیلنس کا مضبوط نظام قائم کر سکتی ہے۔ بائیومیٹرک حاضری، کمیونٹی مانیٹرنگ، اساتذہ کی تربیت اور فنڈز کا شفاف استعمال۔۔ یہ سب وہ اقدامات ہیں جو کسی بھی نظام کو زندہ کر سکتے ہیں۔

حکومت پنجاب کے لیے یہ لمحۂ فکریہ ہے۔ آسان راستہ ہمیشہ درست نہیں ہوتا۔ نجکاری وقتی طور پر بوجھ کم کر سکتی ہے مگر طویل المدت میں یہ معاشرتی عدم مساوات کو بڑھا دے گی۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں امیر اور غریب کی تعلیم میں زمین آسمان کا فرق ہو وہاں انصاف اور ترقی دونوں خواب بن جاتے ہیں۔

اصلاح کے لیے چند بنیادی اقدامات ناگزیر ہیں:

محکمہ تعلیم میں حقیقی احتساب کا نظام قائم کیا جائے۔ صرف کاغذی کارروائی نہیں بلکہ عملی نگرانی ہو اساتذہ کی تربیت، حوصلہ افزائی اور کارکردگی کے مطابق انعام و سزا کا نظام بنایا جائے۔ سکولوں کو بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔۔ صاف پانی، بجلی، بیت الخلاء اور محفوظ عمارتیں۔ والدین اور مقامی کمیونٹی کو اسکول کے معاملات میں شامل کیا جائے تاکہ سماجی نگرانی بڑھے۔ فنڈز کی شفاف تقسیم اور استعمال کو یقینی بنایا جائے۔ ریاست کا اصل امتحان یہی ہوتا ہے کہ وہ اپنے کمزور ترین شہری کے لیے کیا کرتی ہے۔

وقت ابھی ہاتھ سے نکلا نہیں۔ اگر نیت درست ہو تو نظام سنبھل سکتا ہے لیکن اگر یہی رفتار برقرار رہی تو وہ دن دور نہیں جب ہم اپنے ہی فیصلوں پر سینہ کوبی کر رہے ہونگے اور تب شاید بہت دیر ہو چکی ہوگی۔ تعلیم بوجھ نہیں، سرمایہ ہے۔ اسے بیچا نہیں جاتا، سنبھالا جاتا ہے اور جو قومیں اپنے سرمائے کو خود ہی ٹھکانے لگا دیں وہ تاریخ کے حاشیے پر جا بیٹھتی ہیں۔

Check Also

Kitab Tehzebon Ki Maa: Khayalaat Ki Jang Aur Kitabon Ki Taqat (13)

By Asif Masood