Saturday, 02 May 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Aftab Alam
  4. Youm e Mazdoor: Kya Ye Mulk Apne Mehnat Kash Ka Hai?

Youm e Mazdoor: Kya Ye Mulk Apne Mehnat Kash Ka Hai?

یومِ مزدور: کیا یہ ملک اپنے محنت کش کا ہے؟

ہر سال یکم مئی آتا ہے، گزر جاتا ہے۔۔ تقریریں ہوتی ہیں، بیانات جاری ہوتے ہیں اور پھر سب کچھ ویسا ہی رہ جاتا ہے۔ مگر کیا ہم نے کبھی ٹھہر کر کبھی یہ بھی سوچا کہ جس مزدور کے نام پر یہ دن منایا جاتا ہے، اس کی زندگی میں آخر بدلتا کیا ہے؟

پاکستان کا محنت کش آج بھی پسینہ بہاتا ہے، مگر اس کے حصے میں سکون نہیں آتا۔ وہ فیکٹری میں ہو، کھیت میں ہو، کسی تعمیراتی سائٹ پر ہو یا کسی گھر کے اندر خاموشی سے کام کر رہا ہو۔۔ اس کی محنت نظر تو آتی ہے، مگر اس کی آواز نہیں سنائی دیتی۔ کیا یہ انصاف ہے کہ جو ہاتھ اس ملک کو چلاتے ہیں، وہی ہاتھ اپنے بچوں کے لیے بہتر مستقبل بنانے سے قاصر ہوں؟

مہنگائی بڑھتی ہے تو سب سے پہلے مزدور کا چولہا متاثر ہوتا ہے۔ اجرت وہی رہتی ہے، مگر ضروریات بڑھتی چلی جاتی ہیں۔ قانون موجود ہیں، وعدے بھی کیے جاتے ہیں، مگر عملدرآمد کی کمی ایک ایسا زخم ہے جو ہر سال گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ غیر رسمی شعبے کے کروڑوں مزدور تو جیسے کسی گنتی میں ہی نہیں۔۔ نہ ان کے لیے کسی قسم کی سوشل سیکیورٹی ہے، نہ کوئی تحفظ، نہ کوئی سننے والا۔

سب سے بڑا المیہ شاید یہ ہے کہ مزدور کے بارے میں فیصلے تو ہوتے ہیں، مگر مزدور سے پوچھا نہیں جاتا۔ اس کی زندگی کے اصول طے کیے جاتے ہیں، مگر اس کی رائے شامل نہیں ہوتی۔ کیا یہ جمہوریت کا تقاضا ہے؟ کیا یہ انصاف کا تقاضا ہے؟

اجتماعی گفت و شنید صرف ایک اصطلاح نہیں۔۔ یہ مزدور کی وہ امید ہے جس کے ذریعے وہ اپنی بات منوا سکتا ہے، اپنے حقوق کا دفاع کر سکتا ہے۔ مگر جب اس راستے کو کمزور کیا جائے، جب یونینز کو محدود یاسرے پابندی لگا دی جائے، تو پھر مزدور کے پاس بچتا ہی کیا ہے؟ خاموشی؟ یا مجبوری؟

آج یومِ مزدور ہمیں ایک آئینہ دکھاتا ہے۔ یہ ہم سے سوال کرتا ہے کہ کیا ہم واقعی ایک ایسے معاشرہ میں رہ رہے ہیں جہاں محنت کی عزت ہو؟ یا ہم صرف ترقی کے اعداد و شمار میں گم ہو کر انسان کو بھول چکے ہیں؟

وقت آ گیا ہے کہ ہم محض الفاظ سے آگے بڑھیں اور من حیص ایک باشعور قوم کے یہ اجتماعی مطالبہ کریں کہ مزدور کو سنا جائے، اسے شامل کیا جائے اور اسے وہ حق دیا جائے جو اس کا ہے۔ کیونکہ ایک ایسا معاشرہ جو اپنے محنت کش کو نظر انداز کرتا ہے، وہ خود بھی زیادہ دیر تک کھڑا نہیں رہ سکتا۔

یومِ مزدور صرف ایک دن نہیں۔۔ یہ ایک پکار ہے۔ سوال یہ ہے: کیا ہم اس پکار کو سننے کے لیے تیار ہیں؟

Check Also

Chief Justice Of Pakistan Ke Naam Khula Khat

By Khalid Mahmood Faisal