Saturday, 11 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Abid Mir
  4. Single National Curriculum

Single National Curriculum

سنگل نیشنل کریکولم

اٹھارویں ترمیم کے نتیجے میں ایجوکیشن، صوبائی معاملہ بن گئی۔ یہ ایک بڑا بریک تھرو تھا۔ قبل ازیں یوں تھا کہ تعلیم وفاقی معاملہ تھی، سارا نصاب وہیں بنتا، جس کے باعث اس میں "مقامیت" ناپید ہوتی، "مرکزیت" پہ زور ہوتا۔ پالیسی سازی سے لے کر نصاب سازی تک سب مرکز میں ہوتی۔ صوبائی سبجیکٹ بننے سے یہ ہوا کہ صوبے اب نصاب اپنی ضرورت کے مطابق خود ڈیزائن کر سکتے تھے، خود ترتیب دے سکتے تھے۔

مگر بدقسمتی دیکھیے کہ دس برسوں میں ہم اس قابل نہ ہو سکے کہ اپنا نصاب ترتیب دے سکیں۔ نتیجتاً گزشتہ حکومت کے دوران صوبوں کی اس "نااہلی" کے پیشِ نظر ایجوکیشن کو واپس مرکز لے جانے کا غلغلہ اٹھا۔ قانونی طور پر یہ ممکن نہ ہو سکا تو سنگل نیشنل کریکولم (یک ساں قومی نصاب) کا شوشا چھوڑا گیا۔ یوں طے پایا کہ نصاب مرکز بنائے گا، صوبے اس نصاب کو مدنظر رکھ کر اپنی درسی کتب تشکیل دے سکتے ہیں۔ یعنی صوبوں کا کام محض منشی گیری والا ہوگا۔

پہلی سے آٹھویں تک یہ گنجائش دی گئی کہ موضوعات مرکز نے طے کر دیئے، ان موضوعات سے متعلق مواد کی تشکیل کا اختیار مقامی مصنفین کو دے دیا گیا۔ مگر میٹرک اور انٹر کی کتابوں کا نصاب طے کرنے کا اختیار بھی مرکز نے اپنے پاس رکھا۔ یوں نویں سے بارھویں جماعت کے قاعدوں میں کیا مواد شامل ہونا ہے، یہ اب اس کریکولم میں طے شدہ ہے۔ مولفین محض اس کی مشقیں بناتے پہ معمور ہیں۔

نظری طور پر دیکھیں تو یک ساں قومی نصاب ایک آئیڈیل معاملہ ہے۔ یعنی جو کتاب لاہور، اسلام آباد کا طالب علم پڑھے گا، آواران و خانوزئی کا طالب علم بھی وہی کتاب پڑھ رہا ہوگا۔ مگر عملاً دیکھیے تو اس میں کئی مسائل ہیں۔ جن میں سب سے اہم سہولیات کی یک ساں طور پر عدم دست یابی ہے۔ کتاب تو یک ساں ہوگئی مگر کیا اسے پڑھانے والے بھی یک ساں سطح کے حامل ہیں؟ اس نصاب کو ڈیلیور کرنے کی صلاحیت بھی سب کی یک ساں ہے؟ کیا اس کتاب کو پڑھنے کا ماحول بھی سب کو یک ساں میسر ہے؟

ان سب کا جواب نفی میں ہے تو یہ عمل بے معنی ہو جاتا ہے۔ اس لیے لازم ہے کہ نصاب کی تشکیل کا اختیار صوبوں کے پاس ہونا چاہیے تاکہ وہ اپنی معروضی ضروریات کے مطابق نصاب تشکیل دے سکیں۔ اردو کے نصاب سے متعلق ہمارا دیرینہ مطالبہ رہا ہے کہ اسے حتیٰ الوسع لوکلائیز کیا جائے۔ مقصد شاعرری پڑھانا ہے تو کیوں لازماً ہے کہ تمام شاعری اردو کے کلاسیکی قدما کی ہو۔ اس میں مقامی شعرا کیوں شامل نہیں ہو سکتے؟ مقصد مضمون، افسانہ، ناول، ڈراما پڑھانا ہے تو وہ مقامی ادیبوں کی تخلیق کیوں نہیں ہو سکتا؟ بھلے مکمل نہ سہی، نصاب میں کم از کم نصف حصہ مقامی ادیبوں کا ہونا چاہیے۔

اپنی زمین سے پھوٹا ہوا لٹریچر ہی موثر بھی ہوتا ہے اور اتحاد کا وسیلہ بھی۔ اس سے یک جہتی میں اضافہ ہی ہوگا، کمی نہیں آئے گی۔

Check Also

Meri Subh Lota Do

By Muhammad Tayyab Ilyas