Monday, 12 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Abid Mir
  4. Nafrat Ki Daryaft Az Ashfaq Laghari

Nafrat Ki Daryaft Az Ashfaq Laghari

نفرت کی دریافت از اشفاق لغاری

رات کے بارہ بج چکے ہیں اور میں گزشتہ دو گھنٹوں کی مسلسل قرات کے بعد ڈیڑھ سو صفحات کی ایک ایسی کتاب ختم کرکے بیٹھا ہوں جس نے ماضی کے کتنے ہی زخم ادھیڑ کر رکھ دیئے ہیں۔ سائبر ہراسانی کا شکار ہونے والے سندھ کے اشفاق لغاری کی کہانی میں ان کی ماضی میں صحافت اور حال میں شعبہ تعلیم سے وابستگی بھی ہماری کہانی کی وہ مماثلتیں ہیں جنھوں نے میرے لیے اس کہانی سے مزید اپنائیت پیدا کی۔

اشفاق لغاری 2019 میں اپنے ہی کسی ہمکار کی جانب سے زنانہ فیک آئی ڈی کے ذریعے جعلی برہنہ تصاویر کی ہراسانی کا شکار ہوئے۔ پانچ برس تک عدالتوں مقدمہ لڑتے رہے۔ ملزم کچھ وقت کے لیے جیل جا کر بھی شک کی بنا پر نہ صرف رہا ہوا بل کہ مزید مراعات و احترام کے قابل قرار پایا۔ ان کے بقول یہ کیس آج بھی نظرثانی کے لیے عدالت میں پڑا ہوا ہے۔

مجھے یہ سب پڑھ کر بے اختیار اپنا ایسا ہی کڑا وقت یاد آیا۔ 2015 میں فیک آئی ڈیز کی ہمارے خلاف یلغار اور بے جا الزامات کی بھرمار، 2018 میں گرلز کالج کا واقعہ اور پھر 2023 میں ایک نامہربان خاتون کی جانب سے کچھ ہمدرد مردوں کی طرف سے چلائی گئی کردارکشی مہم۔ کیا کچھ نہ بھگتا ہم نے۔ ایک ایف آئی اے اہلکار کی جانب سے اشفاق لغاری صاحب کو کہی جانے والی یہ بات واقعی درست تھی کہ ان کے پاس ایسے واقعات کی بھرمار رہتی ہے جہاں لوگ ڈیجیٹل ہراسانی کی وجہ سے خودکشی تک پہنچ جاتے ہیں، اس لیے اشفاق لغاری کا کیس تو "کچھ بھی نہیں"۔ گو کہ ہر شخص کو فطری طور پر اپنا غم ہی سب سے بڑا لگتا ہے لیکن جوں ہی آپ دنیا کے غم سے آشنا ہوتے ہیں، آپ کو اندازہ ہوتا ہے کہ، "دنیا میں کتنا غم ہے، میرا غم کتنا کم ہے!"

فیک آئی ڈیز کے خلاف میں نے بھی ایف آئی اے کے دفاتر کے چکر کاٹے۔ وہاں دی جانے والی درخواستیں اور وہاں سے موصول ہونے والے نوٹس سب آج بھی محفوظ ہیں۔ گرلز کالج کا قصہ جس کی ساری انکوائری میرے حق میں ہونے کے باوجود مخالفین کو کس طرح قبائلی طاقت کے باعث بخشا گیا، وہ سب میں "ڈپریشن ڈائری" میں تفصیل سے لکھ چکا۔

لیکن 2023 کا قصہ، جس میں ایک خاتون نے نہ بننے والے تعلق کی توہین کا بدلہ اپنے ایک دوست اور پھر پاکستانی لبرل حلقے کے ساتھ مل کر جس طرح کردار کشی مہم کے ذریعے لیا، وہ ساری کہانی ابھی کہے جانے کی منتظر ہے۔ میں نے اس زمانے میں اس سارے قصے کو عدالت لے جانا چاہا مگر بدقسمتی سے انہی دنوں پئے در پئے پڑنے والی افتاد نے اور پھر احباب کے مشوروں نے مجھے اپنے مزاج کے برخلاف پیچھے ہٹنے اور خاموش رہنے پر مجبور کیا۔

آج یہ کتاب پڑھ کر احساس ہوا کہ میں نے غلطی کی، مجھے عدالت ضرور جانا چاہیے تھا۔ کیوں کہ میرے خلاف کمپین چلانے والوں کے پاس کچھ نہ تھا، نہ مجھ سے ایسا کچھ سرزد ہوا تھا جو قابلِ سزا ہوتا، جسے جرم گردانا جاتا۔ بل کہ میں اپنے خلوص میں مارا گیا تھا۔ مجھ پہ عین انہی ایام میں ایک اور ناگہانی افتاد نہ آ پڑتی تو یہ کیس لازماً اپنے انجام کو پہنچتا۔

اب میرے پاس یہ سب لکھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ شدید عورت دوست اور عورت پرست ہونے کے باوجود یہ بتانا ضروری ہے کہ لازم نہیں کہ ہر بار مرد غلطی پر ہو، کبھی عورت بھی غلط ہو سکتی ہے۔ جب ہم صنفی برابری کی بات کرتے ہیں تو اخلاقیات کو بھی صنفی سطح پر یک ساں ہونا چاہیے اور اسے پامال کرنے کی سزا بھی 'غیرصنفی' ہونی چاہیے۔ اصول مرد توڑے یا عورت، اس کی سزا ایک جیسی ہونی چاہیے۔

میں اس قصے کو بھلا بیٹھا تھا اور ارادہ کیا تھا کہ زندگی نے مہلت دی تو کبھی آخری ایام میں "ایک مرد کی ڈائری" کی صورت یہ احوال لکھ دوں گا، موقع نہ ملا تو نہ سہی۔ مگر آج اس کتاب نے یہ حوصلہ دیا کہ وقت کا انتظار کیے بنا یہ قصہ لکھ دینا چاہیے۔ جب آپ نے کوئی 'چوری' نہیں کی، کوئی 'جرم' نہیں کیا، بل کہ چوروں اور مجرموں کے ہاتھوں پامال ہوئے تو بنا کسی خوف اور مصلحت کے اپنے حصے کی کہانی بلا کم و کاست کہہ دینی چاہیے۔

اور انصاف وقت کے حوالے کر دینا چاہیے۔

وقت ہی سب سے بڑا اور انصاف پسند منصف ہے۔

Check Also

Iran Mein Jari Ehtejaj, Mumkina Asrat o Nataij

By Mushtaq Ur Rahman Zahid