Wednesday, 08 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Abid Mehmood Azaam
  4. Iran Ka Tarz e Amal Aur Trump Ki Dhamkiyan

Iran Ka Tarz e Amal Aur Trump Ki Dhamkiyan

ایران کا طرزِ عمل اور ٹرمپ کی دھمکیاں

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ بظاہر ایران اور امریکہ/اسرائیل کے درمیان ہے، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور خطرناک ہے۔ سعودی عرب کے اہم صنعتی شہر الجبیل پر حملہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ ایک عالمی اسٹریٹیجک اور معاشی جنگ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ الجبیل عالمی توانائی کی ترسیل اور سعودی معیشت کا اہم ستون ہے۔ اس پر حملہ سعودی معیشت پر براہِ راست وار ہے، جو "امریکی اڈوں" کے بیانیے کو بھی کمزور کرتا دکھائی دیتا ہے۔ یہ صورتحال ایک اہم سوال کو جنم دیتی ہے کہ اگر ایران کا اصل ہدف امریکہ اور اسرائیل ہیں تو پھر عرب ممالک کو نشانہ بنانا کیوں ضروری سمجھا جا رہا ہے؟

خطے کے کئی ایسے مقامات پر بھی حملے کیے جا رہے ہیں جہاں امریکی مفادات موجود نہیں۔ ایران کی جانب سے اب تک کیے گئے حملوں کا جائزہ لیا جائے تو ان میں سے زیادہ تر حملے اسرائیل کے بجائے مسلم عرب ممالک پر کیے گئے ہیں۔ اگر یہی شدت اسرائیل کے خلاف استعمال ہوتی تو شاید اسرائیل اور جنگ کا نقشہ مختلف ہوتا۔ اس تناظر میں یہ سوال مزید اہم ہو جاتا ہے کہ کیا یہ حکمتِ عملی دانستہ ہے یا اس کے پسِ پردہ کوئی اور عوامل کارفرما ہیں؟

ایران کا مؤقف ہے کہ چونکہ عرب ممالک میں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں، اس لیے ایران کو وہاں حملے کا حق حاصل ہے، مگر کسی کی حمایت کا مطلب اندھی حمایت نہیں ہونا چاہیے۔ ایران کو یہ حق ضرور حاصل ہے کہ وہ امریکہ کے مفادات کو نشانہ بنائے، مگر امریکہ کی آڑ میں کسی خودمختار مسلم ملک اور اس کے مفادات کو ہدف بنانا ایک الگ اور سنگین معاملہ ہے۔ ایران کے اس طرزِ عمل سے خطے میں مزید تقسیم پیدا ہو رہی ہے اور غیر جانبدار ممالک کے بھی اس جنگ میں کھنچے چلے آنے کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔ ایسے حالات پاکستان جیسے ممالک کے لیے بھی مشکلات پیدا کر رہے ہیں، جو سفارتکاری کے ذریعے کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی فضا برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پاکستانی قیادت نے سعودی عرب پر ایران کی جانب سے حملے کی شدید مذمت کی ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے تاکہ خطے میں توازن قائم رہے۔

ایران کے کئی اقدامات سے اختلاف کے باوجود احمق صدر کے ایران کے لیے دیے گئے بیان کی شدید مذمت کرنا بھی ضروری ہے۔ امریکی صدر نے اعلان کیا ہے کہ "ایران کی پوری تہذیب ختم کر دی جائے گی" یہ محض سیاسی بیان نہیں، بلکہ عالمی انسانی ضمیر پر کاری ضرب کے مترادف ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی یہ دھمکی اپنی نوعیت میں غیر معمولی ہے۔ جب خارجہ پالیسی کی بنیاد طاقت، دباؤ اور بالادستی پر ہو تو زبان میں بھی غرور اور تکبر در آتا ہے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ طاقتور ممالک نے ماضی میں بھی قوموں کو ختم کرنے کی دھمکیاں دی ہیں، مگر حقیقی تہذیبیں ہتھیاروں سے نہیں مٹتیں۔ خطرناک حملے کی یہ دھمکی بدترین دہشت گردی اور سنگین ترین جنگی جرم کے مترادف ہے۔ اس جنونی طرزِ فکر کو روکنے کے لیے آواز بلند کرنا ہر شخص پر لازم ہے۔

ٹرمپ کے بیانات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ ایک غیر سنجیدہ، متکبر اور غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل کے حامل رہنما ہیں، حالانکہ ایک عالمی لیڈر کو ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔ ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر ہیں، لیکن ان کے بیانات سے لگتا ہے کہ وہ کوئی غیر سنجیدہ اور بے ہودہ شخص ہیں۔ اس سے پہلے بھی وہ ایران کے خلاف نازیبا زبان استعمال کر چکے ہیں، جس پر عالمی سطح پر، حتیٰ کہ امریکہ کے اندر اور ان کی اپنی جماعت کے لوگوں کی جانب سے بھی شدید تنقید کی گئی ہے۔ بہت سے رہنماؤں نے انہیں ذہنی مریض، پاگل اور دنیا کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔

اگر کسی طاقتور ریاست کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ کسی قوم کی تہذیب کے خاتمے کا اعلان کرے تو پھر بین الاقوامی قوانین، اقوامِ متحدہ کے منشور اور انسانی حقوق کی تمام بنیادیں بے معنی ہو جاتی ہیں۔ تمام ممالک کو اس بدمعاشی کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے اور اس سوچ کو رد کرنا چاہیے۔ اہلِ قلم، دانشوروں اور باشعور طبقات پر لازم ہے کہ وہ اس بیانیے کے خلاف آواز بلند کریں، کیونکہ اگر آج خاموشی اختیار کی گئی تو کل یہی آگ کسی اور دروازے پر دستک دے گی۔ تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ طاقت کے نشے میں ڈوبی پالیسیوں کے مقابلے میں شعور اور اخلاق کی قوت ہی اصل مزاحمت ہوتی ہے۔ ہتھیار فیصلہ کن نہیں ہوتے، اصل قوت انسانی فکر، تعلیم اور اجتماعی شعور میں ہوتی ہے۔ اس دنیا کو ان طاقتوں کے رحم و کرم پر ہرگز نہیں چھوڑنا چاہیے جو تہذیبوں کے خاتمے کو ایک سیاسی آپشن سمجھتی ہیں۔

آج کے اس نازک لمحے میں ہر باشعور فرد، ہر دانشور اور ہر اہلِ قلم پر لازم ہے کہ وہ انسانی شعور اور اخلاقی اقدار کے تحفظ کے لیے کھڑا ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو دنیا کو جنگ کے تباہ کن اثرات سے بچا سکتا ہے۔ عالمی ضمیر کا یہ امتحان صرف آج کا نہیں بلکہ آنے والے کل کا بھی ہے اور اس میں کامیابی ہی انسانی تہذیب، امن اور اخلاقی قدروں کی بقا کی ضمانت بن سکتی ہے۔

Check Also

Iran Ki Androoni Kashmakash Aur Pakistan

By Saad Makki Shah