Thursday, 26 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Abid Hashmi
  4. Riyasat Ke Chehre Par Likhi Taqdeer

Riyasat Ke Chehre Par Likhi Taqdeer

ریاست کے چہرے پر لکھی تقدیر

آزاد کشمیر کی سب سے بڑی مادر علمی کے اساتذہ کرام، آفیسران، ملازمین ایک ہفتے سے جون 2025 میں ہونے والے اضافہ اپنے واجبات، جو کہ ریاست کے سرکاری، نیم سرکاری اور پرائیویٹ اداروں کے ملازمین کو ادا کئے جا چکے، لیکن تعلیم کی سب سے بڑی درسگاہ، جو ریاست کا نمایاں چہرہ ہے، کے ملازمین اس اضافہ کے حصول کے لئے مجبوراً ہڑتال پر ہیں۔ جامعہ کشمیر ایک ارب سے زائد مالی خسارے کا شکار ہے۔ آزاد کشمیر جیسے چھوٹے خطے میں اب سات جامعات موجود ہیں، ہزاروں طلباء و طالبات ذہنی کرب سے دو چار ہیں۔ ایک طالب علم جو اسی ریاست کا ہے وہ جامعہ اور کالج کی فیس میں اس قدر تفریق پر پریشان ہے، اس کا سوال ہے کہ کیا کالج کے سٹوڈنٹ ریاست کے ذمہ ہے اور یونیورسٹی کا طالب علم ریاست کا فرد نہیں؟ یا اسے اعلیٰ تعلیم، تحقیق کا حق نہیں؟ کیا اس کی تعلیم ریاست کے ذمہ نہیں؟

جامعات کسی بھی ریاست کا چہرہ ہوتی ہیں، یہ جملہ محض ایک خوبصورت خیال نہیں، بلکہ ایک ٹھوس حقیقت ہے۔ جب کسی ملک کی جامعات روشن، متحرک اور تحقیق سے بھرپور ہوں تو سمجھ لیجیے کہ اس قوم کا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں ہے اور جب جامعات زوال کا شکار ہوں تو یہ دراصل قومی فکرکے زوال کا اعلان ہوتا ہے۔ جامعہ صرف اینٹ اور پتھر کی عمارت کا نام نہیں، یہ خوابوں کی آماجگاہ ہوتی ہے۔ یہاں ایک غریب گھر کا بچہ بھی بڑے خواب دیکھتا ہے اور ایک عام طالب علم بھی غیر معمولی سوچ کا مالک بن سکتا ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں سوال جنم لیتے ہیں، نظریات ٹکراتے ہیں اور نئی راہیں کھلتی ہیں۔ اگر یہاں خوف، جمود یا مایوسی نے ڈیرے ڈال لیے تو قوم کا ذہن بھی محدود ہو جاتا ہے۔ تحقیقی اعتبار سے دیکھا جائے تو دُنیا کی بڑی معیشتوں کی بنیاد مضبوط جامعات پر کھڑی ہے۔ امریکہ، چین، جرمنی اور جاپان کی ترقی کا راز صرف صنعت نہیں بلکہ ان کی یونیورسٹیوں میں ہونے والی تحقیق ہے۔ عالمی رپورٹس بتاتی ہیں کہ جن ممالک نے تعلیم اور تحقیق پر زیادہ سرمایہ کاری کی، ان کی فی کس آمدن، ٹیکنالوجی اور معیارِ زندگی میں نمایاں اضافہ ہوا۔ یعنی جامعہ میں لگایا گیا بجٹ دراصل مستقبل میں لگائی گئی سرمایہ کاری ہے۔ جامعات نہ صرف علم و تحقیق کے مراکز ہوتی ہیں بلکہ کسی بھی ریاست کی فکری سطح، برداشت، تخلیقی صلاحیت اور مستقبل کی سمت کی عکاسی بھی کرتی ہیں۔ مضبوط جامعات:

معیاری افرادی قوت تیار کرتی ہیں، تحقیق و جدت کو فروغ دیتی ہیں، سماجی شعور اور مکالمے کی روایت کو مضبوط کرتی ہیں، قومی ترقی میں براہِ راست کردار ادا کرتی ہیں۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ کسی ملک کی جامعات کو دیکھ کر اس کے مستقبل کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ہاں تحقیق کو اکثر رسمی تقاضا سمجھ لیا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ تخلیقی ذہن یا تو مایوس ہو جاتا ہے یا بیرونِ ملک چلا جاتا ہے۔ یہ"برین ڈرین"صرف افراد کا نقصان نہیں، قومی صلاحیت کا زیاں ہے۔

جامعہ کشمیر کا ریاست کی ترقی میں نمایاں کردار ہے، اس جامعہ سے فارغ التحصیل ہزاروں نوجواناں ملک و بیرون ملک اعلیٰ عہدوں پر اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ اس جامعہ کا ایک نام و مقام ہے۔ اس سے ہزاروں طلبا و طالبات کا مستقبل وابستہ ہے۔ اس کے اساتذہ، آفیسران، سٹاف کا ایک مقام ہے اور پھر کسی بھی مہذب معاشرے کی پہچان اس کے اساتذہ کے مقام سے ہوتی ہے۔ استاد صرف کتابی علم نہیں دیتا بلکہ کردار، سوچ اور زندگی گزارنے کا سلیقہ بھی سکھاتا ہے۔ والدین ہمیں زندگی دیتے ہیں، مگر استاد ہمیں جینے کا ڈھنگ سکھاتا ہے، اسی لیے ہمارے تہذیبی ورثے میں استاد کو روحانی باپ کا درجہ دیا گیا ہے۔

استاد ایک چراغ کی مانند ہے جو خود جل کر دوسروں کو روشنی دیتا ہے۔ وہ نسلوں کی تربیت کرتا ہے، خوابوں کو سمت دیتا ہے اور قوم کے مستقبل کی بنیاد رکھتا ہے۔ اگر استاد کا مقام کمزور ہو جائے تو معاشرے کی فکری بنیادیں ہلنے لگتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ قومیں اپنے اساتذہ کو عزت، اعتماد اور سہولتیں دیتی ہیں۔ لیکن ہمارے سپریم ادارے کے اساتذہ کرام جائز حقوق کے لئے ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ استاد کی دل آزاری دراصل علم کی بے قدری ہے۔ جب استاد کو عزت ملتی ہے تو علم کو وقار ملتا ہے اور جب علم باوقار ہو تو قومیں سربلند ہوتی ہیں۔ ہمارے معاشرہ میں وہی استاتذہ اپنے جائز حقوق کے لئے پریشان ہیں۔ کیا یہ ان کا احترام ہے؟

جامعہ کشمیر کے اساتذہ کرام، آفیسران اور ملازمین کے ساتھ ہی طلباء بھی متاثر ہیں۔ ایک طالب علم جب جامعہ میں داخل ہوتا ہے تو وہ صرف اپنا نہیں بلکہ اپنے خاندان اور معاشرے کا خواب ساتھ لاتا ہے۔ اگر جامعہ اسے علم کے ساتھ کردار، تحقیق کے ساتھ مقصد اور آزادیِ فکرکے ساتھ ذمہ داری نہ دے سکے تو ہم اس نسل کے ساتھ ناانصافی کرتے ہیں۔ ریاست کو چاہیے کہ جامعات کو ترجیحی بنیادوں پر سہارا دے۔ تحقیق کے فنڈز بڑھائے جائیں، مکالمے، برداشت اور علم دوستی کا گہوارہ بنایا جائے۔ کیونکہ بند ذہن کبھی کھلا معاشرہ تشکیل نہیں دے سکتا۔ کیا ہم اپنی جامعات کو محض ڈگریاں بانٹنے والے ادارے بنانا چاہتے ہیں یا قوم کی تقدیر لکھنے والے مراکز؟

کسی بھی معاشرے کی فکری پختگی اور ترقی کا دارومدار اس کے نظامِ تعلیم پر ہوتا ہے اور اس نظام میں ہائر ایجوکیشن کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔ اعلیٰ تعلیم محض ڈگریوں کے حصول کا نام نہیں بلکہ یہ شعور، تحقیق، تنقیدی سوچ اور اجتماعی بہتری کا راستہ متعین کرتی ہے۔ ایک مضبوط ہائر ایجوکیشن سسٹم دراصل ایک مہذب، باخبر اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد رکھتا ہے۔

ہائر ایجوکیشن کا پہلا اور بنیادی کردار یہ ہے کہ یہ افراد کو سوچنے کا سلیقہ دیتی ہے۔ یونیورسٹی کی سطح پر طالب علم صرف کتابی علم نہیں سیکھتا بلکہ سوال اٹھانا، دلیل دینا اور مختلف نقطہ ہائے نظر کو سمجھنا سیکھتا ہے۔ یہی صلاحیتیں ایک برداشت پر مبنی اور مکالمہ پسند معاشرہ تشکیل دیتی ہیں۔ جہاں اعلیٰ تعلیم مضبوط ہو وہاں انتہاپسندی، تنگ نظری اور افواہوں کی گنجائش کم ہو جاتی ہے۔ معاشی ترقی بھی ہائر ایجوکیشن سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ ڈاکٹرز، انجینئرز، اساتذہ، سائنس دان اور ماہرینِ معیشت سب اسی نظام کی پیداوار ہوتے ہیں۔ جدید معیشت علم اور مہارت پر کھڑی ہے، اس لیے جو معاشرے اپنی جامعات اور تحقیق پر سرمایہ کاری کرتے ہیں وہی روزگار، صنعت اور ٹیکنالوجی میں آگے بڑھتے ہیں۔

سماجی سطح پر دیکھا جائے تو ہائر ایجوکیشن سماجی نقل و حرکت (social mobility) کا ذریعہ بھی ہے۔ ایک متوسط یا غریب گھرانے کا فرد اعلیٰ تعلیم کے ذریعے اپنی اور اپنے خاندان کی زندگی بدل سکتا ہے۔ یوں تعلیم معاشرتی طبقات کے درمیان فاصلے کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ جامعہ کسی فرد، علاقے کی نہیں، بلکہ ہم سب کا سرمایہ ہے۔ اس کی ترقی ہم سب کی اولین ذمہ داری ہے۔

جامعہ ہماری ریاست کا چہرہ ہے، اب فصیلہ ہم نے کرنا ہے کہ اپنا چہرہ دُنیا کو کیسا دیکھانا ہے۔ یاد رکھیں، جب جامعہ روشن ہوتی ہے تو ریاست کا چہرہ بھی جگمگاتا ہے اور جب چہرہ روشن ہو تو دُنیا احترام سے دیکھتی ہے۔

Check Also

Maah e Muqadas Mein Mehangai Ka Jin Be Qabu

By Mushtaq Ur Rahman Zahid